رموز بے خودی

روزی آن زیبنده ی تاج و سریر

روزی آن زیبنده ی تاج و سریر

آن سپهدار و شهنشاه و فقیر

ترجمہ

ایک روز وہ شخص جو تاج و تخت کے لائق تھا، وہ سپہ سالار، شہنشاہ اور فقیر۔

تشریح

یہ شعر حکایت کے بیانیہ دروازے کو کھولتا ہے۔ اقبال نے پہلے عالمگیر کی شخصیت کا فکری اور اخلاقی تعارف دیا، اب وہ اسے ایک واقعے کے اندر لے آتے ہیں۔ لیکن واقعہ شروع کرنے سے پہلے بھی وہ اس کی جامع شناخت یاد دلاتے ہیں: تاج و سریر کا زیبندہ، سپہ دار، شہنشاہ، اور ساتھ ہی فقیر۔ شعر کے مطابق:

بیان سے حکایت کی طرف:

کئی بار شاعر کسی کردار کی تعریف کر کے آگے بڑھ جاتا ہے، مگر اقبال ایسا نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کردار کا امتحان ایک واقعے میں دکھایا جائے تاکہ صفات محض دعویٰ نہ رہیں۔ اس شعر میں “روزی” کہہ کر وہ ایک خاص دن کی طرف اشارہ کرتے ہیں، گویا اب وہ وقت آ رہا ہے جب عالمگیر کی اندرونی کیفیت عمل میں ظاہر ہوگی۔

یہ انداز اقبال کے بیانیہ فن کی خوب صورتی ہے: پہلے نظریہ، پھر منظر، پھر امتحان۔

تاج و سریر کی زیبندگی:

ہر شخص تاج کا مستحق نہیں ہوتا۔ اقبال جب کہتے ہیں “زیبندہ ی تاج و سریر” تو مراد یہ ہے کہ عالمگیر کے اندر وہ وقار، ضبط، برداشت اور صلاحیت تھی جس سے اقتدار اس پر جچتا تھا۔ اقتدار بعض لوگوں کو بڑا نہیں کرتا، بلکہ بعض لوگوں کی باطنی ساخت اقتدار کو بھی معنی دیتی ہے۔

یہاں زیبندگی میں صرف شان نہیں بلکہ اہلیت اور داخلی تناسب کا مفہوم بھی شامل ہے۔

سپہ دار، شہنشاہ، فقیر:

اقبال تین لفظ ساتھ لاتے ہیں اور یہی اس شعر کی جان ہے۔ سپہ دار اس کی عملی قیادت کو ظاہر کرتا ہے، شہنشاہ اس کے سیاسی مرتبے کو، اور فقیر اس کے باطنی مرکز کو۔ اگر ان تینوں میں توازن ہو تو شخصیت کامل ہوتی ہے۔ اگر صرف شہنشاہی ہو تو تکبر پیدا ہو سکتا ہے، صرف سپہ داری ہو تو سختی، اور صرف فقر ہو تو ممکن ہے تاریخ میں عملی کردار محدود ہو جائے۔

عالمگیر کی تعریف اس جمعیت کی تعریف ہے جس میں باطن اور ظاہر ایک دوسرے کے مخالف نہیں بنے۔

کردار کی ہمہ گیری:

اقبال کی نظر میں بڑا انسان وہ نہیں جو ایک ہی جہت میں کامل ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے اندر مختلف طاقتوں کو ایک درست مرکز کے تحت جمع کر سکے۔ عالمگیر کے ذکر میں یہ ہمہ گیری اس لیے اہم ہے کہ آگے آنے والی حکایت اسی کی سچائی کو پرکھے گی۔ کیا فقیرانہ باطن میدانِ خطرہ میں بھی زندہ رہتا ہے؟ کیا شہنشاہی وقار نماز اور ذکر کے سامنے جھک سکتا ہے؟

یہ سوالات شعر کے اندر خاموشی سے موجود ہیں، اور آگے پوری حکایت انہی کا جواب بنے گی۔

ہمارے لیے اشارہ:

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی شخصیت کو بھی یک رخی نہ رہنے دیں۔ صرف مہارت کافی نہیں، صرف مقام کافی نہیں، صرف روحانی دعویٰ کافی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کی مختلف قوتیں ایک درست مرکز کے تابع ہوں۔ اگر اندر حق کی نسبت ہو تو منصب، قیادت اور عمل ایک دوسرے کو سنوار سکتے ہیں۔

اقبال اسی جامع شخصیت کی تعمیر چاہتے ہیں جس میں کام بھی ہو، وقار بھی، اور خدا کے سامنے جھکاؤ بھی۔

مثال

ایک بہترین ڈاکٹر اگر علم رکھتا ہو، انتظام چلا سکتا ہو، اور مریض کے ساتھ ہمدردی بھی رکھتا ہو تو اس کی شخصیت کہیں زیادہ مکمل بنتی ہے۔ ایک ہی جہت کی خوبی کافی نہیں۔ اقبال عالمگیر میں بھی اسی جامعیت کو دیکھتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اقتدار، قیادت اور فقر تینوں کو اپنے اندر جمع کیے ہوئے تھا۔ یہی جامعیت آگے آنے والی حکایت میں اس کے کردار کو معنی دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button