ز اجتهاد عالمان کم نظر
ز اجتهاد عالمان کم نظر
اقتدا بر رفتگان محفوظ تر
ترجمہ
کم نگاہ علما کے اجتہاد سے، گذشتہ بزرگوں کی پیروی زیادہ محفوظ ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال اپنے گزشتہ نکتے کو اور زیادہ متعین کرتے ہیں۔ مسئلہ ہر عالم یا ہر اجتہاد نہیں، بلکہ “عالمان کم نظر” ہیں، یعنی وہ اہلِ علم جن کی نگاہ حالات کے باطن تک نہیں پہنچتی، جن میں اصولی پختگی کم ہوتی ہے، یا جو دور کے فتنوں سے پوری طرح باخبر نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کے اجتہاد سے بہتر اقبال کے نزدیک “اقتدا بر رفتگان” ہے، یعنی ان بزرگوں کے راستے سے جڑنا جو آزمودہ، پختہ، دیانت دار اور امت کے اجتماعی ورثے کا حصہ بن چکے ہیں۔ شعر کے مطابق:
عالمان کم نظر کون ہیں:
“کم نظر” کا مطلب محض کم علم ہونا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آدمی مسائل کی جڑ نہ دیکھ سکے، تاریخ کا وزن نہ سمجھے، اپنے نفس کے اثرات سے پوری طرح آزاد نہ ہو، اور جزوی نفع کو کلی خیر سمجھ بیٹھے۔ ایسا شخص بظاہر عالم ہو سکتا ہے، اس کے پاس الفاظ اور استدلال بھی ہو سکتے ہیں، مگر اس کی نگاہ میں وسعت اور گہرائی کم ہوتی ہے۔
اقبال اسی کم نظری سے پیدا ہونے والے اجتہاد سے ڈراتے ہیں۔
اجتہاد کا خطرہ کہاں ہے:
جب کم نظر عالم اجتہاد کرتا ہے تو وہ اکثر مسئلے کے ایک جز کو بڑا کر کے کل کو کمزور کر دیتا ہے۔ وہ کسی وقتی ضرورت کو دائمی اصول بنا سکتا ہے، کسی خارجی دباؤ کو دینی حکمت سمجھ سکتا ہے، یا کسی گروہی رجحان کو امت کی مصلحت قرار دے سکتا ہے۔ اس طرح اس کے اجتہاد سے حق کا چہرہ پیچیدہ اور امت کا نظم کمزور ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اقبال “محفوظ تر” کا لفظ لاتے ہیں۔ یہاں سوال محض افضلیت کا نہیں، سلامتی کا بھی ہے۔
رفتگان کی اقتدا:
رفتگان سے مراد وہ اکابر اور اسلاف ہیں جنہوں نے علم کو تقویٰ، اصول کو دیانت، اور فہم کو امت کے وسیع تر خیر کے ساتھ جوڑا۔ ان کا ورثہ محض پرانی رائے نہیں بلکہ ایک تہذیبی و دینی پختگی کا مجموعہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کمزور زمانے میں ان کی پیروی زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ اس میں آزمودہ توازن، اجتماعی ربط اور نفسانی خود سری سے نسبتی حفاظت موجود ہوتی ہے۔
یہ اقتدا عقل کی تعطیل نہیں بلکہ عقل کی تہذیب ہے۔
محفوظ تر کیوں:
“محفوظ تر” کی تعبیر اقبال کی عملی حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ رفتگان سے منقول ہر بات ہر حال میں آخری جواب ہے، بلکہ یہ کہ کمزور دور میں محفوظ راہ وہی ہے جس پر امت کا بڑا ورثہ پہلے سے قائم ہو۔ نئے راستے تب اختیار کیے جاتے ہیں جب رہبر کی بصیرت، امت کی قوت، اور علمی اتقان کافی ہو۔
کم نظری کے دور میں حفاظت خود ایک نعمت اور حکمت ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج دینی زبان میں جلد شہرت پانے والے، ٹکڑوں میں علم لینے والے، یا زمانے کی مرعوبیت میں بات کرنے والے بہت سے لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ایسے دور میں سلامتی اسلاف کے مضبوط ورثے، مستحکم فقہی روایت، اور تقویٰ سے جڑی علمی راہ میں زیادہ ہے۔ ہر نئی بات روشنی نہیں ہوتی۔
امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالم کے نام پر نہیں بلکہ بصیرت، تقویٰ اور ورثے سے ربط کے پیمانے پر اعتماد کرے۔
مثال
جیسے سمندر کے سفر میں نا تجربہ کار ملاح کی نئی راہ سے بہتر پرانے آزمودہ راستوں کا نقشہ ہوتا ہے، ویسے ہی کم نظر اجتہاد کے مقابل اسلاف کی راہ زیادہ محفوظ رہتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں کم بصیرت اجتہاد کے خطرے اور اسلاف کی پیروی کی سلامتی کو واضح کرتے ہیں۔ انحطاط کے دور میں محفوظ راہ وہی ہے جو آزمودہ علم اور دیانت دار ورثے سے جڑی ہو۔