رموز بے خودی

بنگر آن سرمایه ی آمال ما

بنگر آن سرمایه ی آمال ما

گنجد اندر سینه ی اطفال ما

ترجمہ

دیکھو ہماری آرزوؤں کا وہ سرمایہ ایسا ہے کہ ہمارے بچوں کے سینوں میں بھی سما جاتا ہے۔

تشریح

پچھلے شعر میں اقبال نے قرآن کی عظمت اور وزن کا ذکر کیا تھا، یہاں وہ ایک اور حیرت انگیز پہلو دکھاتے ہیں: وہ عظیم سرمایہ، جو امت کی ساری امیدوں کا مرکز ہے، اطفال کے سینوں میں بھی سما جاتا ہے۔ گویا قرآن ایک طرف اتنا عظیم ہے کہ کوہ بھی اس کے بار کی تاب نہیں لاتا، اور دوسری طرف اتنا قریب، اتنا قابلِ حفاظت اور اتنا ودیعت پذیر ہے کہ بچے کے سینے میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس شعر میں اقبال قرآن کی عظمت کے ساتھ اس کی رحمت، اس کی تربیتی قربت اور امت کے اندر اس کے نسل در نسل اترنے کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

سرمایۂ آمال:

“سرمایه ی آمال” نہایت معنی خیز ترکیب ہے۔ امت کی امیدیں، اس کا مستقبل، اس کا نظام، اس کا وقار، اس کی ہدایت، اس کی بقا، سب اس ایک سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کے پاس اگر کچھ اصل اور پائیدار ہے تو وہ یہی قرآن ہے۔ نہ سلطنت دائمی ہے، نہ دولت، نہ عددی کثرت؛ مگر قرآن ایسا سرمایہ ہے جو امت کی معنوی اور تہذیبی زندگی کو قائم رکھتا ہے۔

یہ سرمایہ صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ آنے والے کل کی بھی بنیاد ہے۔ اسی لیے اسے “آمال” سے جوڑا گیا ہے۔

اطفال کے سینے میں سمانا:

یہ تصویر بہت لطیف اور گہری ہے۔ اطفال کا سینہ معصومیت، تازگی اور فطری قبولیت کی علامت ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ قرآن محض اہلِ فلسفہ یا خاص طبقے کی امانت نہیں، بلکہ امت کے عام بچوں کے سینوں میں بھی محفوظ ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ربط امت سے محض کتاب خانوں اور علما کے حلقوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑ عوامی، نسلی اور روحانی سطح پر بھی قائم ہے۔

یہی خصوصیت امتِ مسلمہ کی بڑی قوت ہے: اس کا سب سے عظیم سرمایہ زندہ حفظ اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی یادداشت کی صورت میں اس کے بچوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

عظمت اور قربت:

اس شعر کا اصل حسن یہی ہے کہ ایک ہی حقیقت بیک وقت بہت بلند بھی ہے اور بہت قریب بھی۔ قرآن کا مقام آسمانی ہے، مگر اس کی جگہ مومن کے سینے میں ہے۔ وہ ایک عظیم تہذیبی سرمایہ بھی ہے اور بچے کی زبان پر جاری ہونے والی آیت بھی۔

اقبال اس طرح قرآن کے بارے میں امت کے خاص تعلق کو واضح کرتے ہیں: یہ کتاب دور کی مجرد حقیقت نہیں، بلکہ جیتی جاگتی نسبت ہے جو گھر، مسجد، مکتب اور قلب سب میں اترتی ہے۔

امت کی بقا کا راز:

بہت سی تہذیبوں کا علمی سرمایہ صرف کتابوں، عجائب گھروں یا اشرافیہ کی یادداشت میں قید رہتا ہے، مگر امتِ مسلمہ کا اصل سرمایہ بچوں کے سینوں تک اتر جاتا ہے۔ یہی چیز اسے ایک خاص دوام دیتی ہے۔ اگر سیاسی قوت ٹوٹ بھی جائے، تب بھی قرآن کی زندہ امانت نسلوں کے اندر سفر کرتی رہتی ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اس نعمت کو صرف حافظہ نہ سمجھیں بلکہ اپنی امیدوں کی اصل اساس سمجھیں۔ اگر یہ سرمایہ زندہ ہو تو امت دوبارہ اٹھ سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے پاس یہ نعمت اب بھی موجود ہے کہ اس کے بچے قرآن یاد کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سرمایہ ان کے سینے میں صرف الفاظ کی صورت میں ہے یا زندگی کی روشنی بن کر بھی اتر رہا ہے؟ اقبال ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ اس حفظ کو شعور، محبت، عمل اور تہذیبی تعمیر سے جوڑا جائے۔

جب بچے کے سینے کا قرآن زندگی کی ترتیب سے بھی جڑ جائے تو یہی سرمایہ پھر امت کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔

مثال

جیسے ایک قوم کا اصل خزانہ بینکوں میں بند سونے سے زیادہ وہ تہذیبی امانت ہوتی ہے جو نسل در نسل گھروں کے اندر زندہ رہے، ویسے ہی امت کا سب سے بڑا سرمایہ قرآن ہے جو اس کے بچوں کے سینوں میں بھی محفوظ رہتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ قرآن امت کی ساری امیدوں کا سرمایہ ہے، اور اس کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ وہ نسلوں کے بچوں کے سینوں میں بھی محفوظ رہتا ہے۔ یہی قربت اور دوام امت کی بقا کی بڑی بنیاد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button