در خزان ای بی نصیب از برگ و بار
در خزان ای بی نصیب از برگ و بار
از شجر مگسل به امید بهار
ترجمہ
اے وہ شخص جو خزاں میں پتوں اور پھل سے محروم ہے، بہار کی امید میں درخت سے الگ نہ ہو۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال ایک نہایت بلیغ تمثیل کے ذریعے انحطاط کے دور کی حکمت بیان کرتے ہیں۔ وہ ملت کے فرد یا جماعت سے کہتے ہیں کہ اگر تم خزاں کے زمانے میں بے برگ و بار ہو، اگر تمہاری شاخ پر ابھی پھول اور پھل نظر نہیں آتے، تب بھی درخت سے الگ نہ ہونا۔ اس لیے کہ بہار کی امید جدائی میں نہیں، وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ جو شاخ جڑ سے کٹ جائے وہ بہار آنے پر بھی سرسبز نہیں ہوتی۔ شعر کے مطابق:
خزاں کی علامت:
خزاں یہاں محض موسم نہیں، بلکہ زوال، کمزوری، بے ثمری، تھکن اور تاریخی انحطاط کی علامت ہے۔ ایسے وقت میں امت کی علمی رونق کم ہو سکتی ہے، اس کے اعمال میں کمزوری آ سکتی ہے، اور اجتماعی زندگی میں پژمردگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اقبال اس حالت کو دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مایوسی کے بجائے صحیح رویہ اختیار کیا جائے۔
خزاں کا مطلب یہ نہیں کہ درخت مر گیا، بلکہ یہ کہ اس کی زندگی اپنی کمزور صورت میں موجود ہے اور اسے جڑ سے ربط درکار ہے۔
بے نصیب از برگ و بار:
“برگ و بار” سے مراد ظاہری ثمرات، قوت، کامیابی، اثر، عزت اور وہ شادابی ہے جو عروج کے زمانے میں نظر آتی ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ تم اس سے محروم ہو تو گویا وہ اعتراف کرتے ہیں کہ امت کے بعض ادوار میں ظاہری کامیابی کم ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ محرومی کی حالت میں فیصلہ اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
اگر انسان اسی وقت اصل شجر سے جدا ہو جائے تو پھر جو تھوڑا سا ربط باقی ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
شجر سے وابستگی:
شجر یہاں ملت کی جڑ، دین کی روایت، صالح ورثہ، اجتماعی سانچہ اور اس مرکز کی علامت ہے جہاں سے زندگی کا رس آتا ہے۔ شاخ کی زندگی اس کے اپنے زور سے نہیں بلکہ جڑ کے تعلق سے قائم ہوتی ہے۔ فرد جتنا بھی ذکی کیوں نہ ہو، اگر وہ اپنے شجر سے کٹ جائے تو اس کی انفرادیت دیر تک زندگی نہیں دے سکتی۔
اقبال اسی لیے کہتے ہیں کہ امیدِ بہار میں بھی شجر سے نہ کٹو، کیونکہ بہار کی آمد شجر کے ذریعے ہی تم تک پہنچے گی۔
امیدِ بہار کا صحیح مفہوم:
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نئی بہار تب آئے گی جب پرانے درخت سے الگ ہو کر کوئی بالکل نئی شروعات کی جائے۔ اقبال اس خیال کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بہار اس وقت آتی ہے جب جڑ سلامت ہو، جب ربط باقی ہو، اور جب صبر کے ساتھ زندگی کے اصل منبع سے وابستگی قائم رکھی جائے۔
یعنی تجدید کا راستہ قطع تعلق نہیں بلکہ صحیح تعلق ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں بہت سے لوگ امت کی کمزوری دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ نجات کا راستہ اپنی روایت، اپنے فقہی ورثے، اپنے اخلاقی سانچے اور اپنے دینی ربط سے الگ ہو جانا ہے۔ اقبال کا شعر اس جلد بازی کو روکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس درخت سے تمہیں کبھی حیات ملی تھی، اسی سے بندھے رہو، ورنہ بہار کی امید بھی تمہیں نہیں بچا سکے گی۔
یہ شعر صبر، وفاداری اور جڑ سے تعلق کی حکمت سکھاتا ہے۔
مثال
جیسے خشک موسم میں درخت سے جڑی ہوئی ٹہنی پھر بھی زندگی پا سکتی ہے، مگر کٹی ہوئی شاخ پانی کے سامنے بھی نہیں ہری ہوتی، ویسے ہی ملت سے جدا فرد بہار کے نعروں سے زندہ نہیں ہوتا۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ زوال اور بے ثمری کے دور میں بھی اصل شجر سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔ بہار کی حقیقی امید اسی وابستگی میں ہے، قطع تعلق میں نہیں۔