رموز بے خودی

گفت ای پیغام حق گفتار تو

گفت ای پیغام حق گفتار تو

حفظ آئین محمد کار تو

ترجمہ

اس نے کہا: اے حق کے پیامبر، سچ کہنا تمہاری شان ہے، اور آئینِ محمدی کی حفاظت تمہارا کام ہے۔

تشریح

یہ شعر قاضی کے منصب کی روح کو نہایت مختصر مگر پُرزور انداز میں بیان کرتا ہے۔ زخمی معمار قاضی سے محض رحم نہیں مانگتا، بلکہ اسے اس کے اصل منصب کی یاد دلاتا ہے۔ گویا اسلامی عدالت کسی فرد کی مہربانی پر نہیں، ایک الٰہی امانت پر قائم ہے۔ قاضی کو “پیغامِ حق” کہنا اس کے منصب کو سرکاری عہدے سے اٹھا کر دینی اور اخلاقی ذمہ داری میں بدل دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

پیغامِ حق کا مفہوم:

قاضی محض قانون پڑھنے والا آدمی نہیں، حق کے پیغام کو معاشرتی زندگی میں جاری کرنے والا انسان ہے۔ جب معمار اسے “پیغامِ حق” کہتا ہے تو دراصل یہ کہتا ہے کہ تمہارا منصب سچ کے ابلاغ کا منصب ہے۔ تمہارا کام طاقت ور کو خوش رکھنا نہیں، حق کو ظاہر کرنا ہے۔

یہ تعریف قاضی کی عزت بھی ہے اور اس پر حجت بھی۔

گفتار کی ذمہ داری:

“گفتار تو” میں صرف زبان نہیں، فیصلہ، شہادت کی سماعت، سوال، حکم اور اعلان سب شامل ہیں۔ قاضی کی زبان اگر حق سے ہٹ جائے تو پورا عدالتی ڈھانچا کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ اسلامی تہذیب میں زبانِ قاضی، قلمِ قاضی اور دلِ قاضی تینوں امانت ہیں۔

حق کی نمائندگی کرنے والے کو اپنی گفتار میں مصلحت، خوف اور چاپلوسی کم سے کم رکھنی ہوتی ہے۔

آئینِ محمدی کی حفاظت:

معمار قاضی سے کہتا ہے کہ تمہارا اصل کام آئینِ محمدی کی حفاظت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ محض مذہبی الفاظ دہرا دے، بلکہ یہ کہ وہ عدل، مساوات، امانت اور جواب دہی کو زندہ رکھے۔ آئینِ محمدی کتاب میں بند نہیں رہتا؛ وہ تب زندہ رہتا ہے جب قاضی اس کے مطابق طاقت اور کمزوری کے درمیان فیصلہ کرے۔

یعنی اسلامی قانون کی حفاظت اصل میں اسلامی اخلاق کی حفاظت ہے۔

مظلوم کا بلند شعور:

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ فریادی محض رو نہیں رہا، وہ اصول کی زبان میں بات کر رہا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اسلامی مساوات صرف حاکموں یا قاضیوں کا شعور نہیں، رعیت کے اندر بھی ایک دینی سیاسی بیداری پیدا کرتی ہے۔ معمار جانتا ہے کہ عدالت کا مقصد کیا ہے، اور اسی علم کی بنیاد پر اپنا حق مانگتا ہے۔

جب عام انسان قانون کی روح کو پہچان لے تو ظلم کے لیے میدان تنگ ہو جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی جج، مفتی، افسر، نگران اور تحقیقاتی منصب رکھنے والے لوگ اگر اپنی ذمہ داری کو صرف ملازمت سمجھیں تو نظام جلد بے روح ہو جاتا ہے۔ مگر اگر وہ اسے امانت، حق کی خدمت اور کمزور کے لیے حفاظت سمجھیں تو قانون زندہ رہتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ منصب کی حرمت اس کے اختیار میں نہیں، اس کی وفاداری میں ہے۔

سچا منصب وہی ہے جو اپنے آپ کو سچ کے آگے جواب دہ سمجھے۔

مثال

ایک منصف یا محتسب سے رجوع کرتے ہوئے جب کوئی عام شہری یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اثر و رسوخ کے بجائے قانون اور اصول کے مطابق بات سنے گا، تو یہی “حفظ آئین” کی جدید صورت ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں قاضی کے منصب کو حق کی امانت قرار دیتے ہیں۔ معمار کی اپیل یہ ہے کہ عدل کی کرسی پر بیٹھنے والا شخص طاقت کے بجائے آئینِ محمدی کی حفاظت کرے، کیونکہ اسی میں اسلامی مساوات کی جان ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button