رموز بے خودی

اجتهاد اندر زمان انحطاط

اجتهاد اندر زمان انحطاط

قوم را برهم همی پیچد بساط

ترجمہ

انحطاط کے زمانے میں اجتہاد قوم کا بچھا ہوا بساط الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک نہایت نازک مگر سخت حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ مطلق طور پر اجتہاد کے منکر نہیں، بلکہ زمانے کی حالت کے اعتبار سے اس کی مناسبت پر بات کرتے ہیں۔ جب امت انحطاط میں ہو، اس کی علمی قوت کمزور ہو، قیادت غیر پختہ ہو، دلوں میں اضطراب زیادہ اور بصیرت کم ہو، تب اجتہاد کے نام پر ہر نئی تعبیر، ہر الگ راہ اور ہر خود ساختہ فکری کوشش قوم کے بساط کو سمیٹنے لگتی ہے۔ “بساط” کا الٹنا اس اجتماعی ترتیب کے ٹوٹنے کی علامت ہے جس پر ملت کسی طرح قائم ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

اجتہاد کا اصل مقام:

اقبال اجتہاد کی اصل قدر سے انکار نہیں کرتے۔ زندہ امت میں اجتہاد حرکت، جواب دہی، تازہ بصیرت اور حالات کے مطابق ذمہ دار فہم کی علامت ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر قوت کا صحیح وقت اور صحیح ظرف ہوتا ہے۔ اگر قوت موجود نہ ہو اور محض دعویٰ باقی رہ جائے تو وہی چیز تعمیر کے بجائے تخریب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

لہٰذا مسئلہ اجتہاد بذاتِ خود نہیں بلکہ انحطاط کے زمانے میں اس کے غلط استعمال کا ہے۔

زمانِ انحطاط کی کیفیت:

انحطاط کے دور میں قوم کے اندر علمی اتقان کم ہو جاتا ہے، اصولی بصیرت مدھم پڑ جاتی ہے، خواہش کو دلیل کا لباس پہنایا جانے لگتا ہے، اور اختلافات سنجیدہ علمی بحث کے بجائے گروہی شناخت بننے لگتے ہیں۔ ایسے وقت میں ہر نئی تعبیر لازماً اجتہاد نہیں ہوتی؛ بہت سی چیزیں محض انتشارِ فکر ہوتی ہیں۔

اقبال اسی اجتماعی کمزوری کو سامنے رکھ کر یہ تنبیہ کر رہے ہیں۔

بساط کیوں الٹتی ہے:

“بساط” سے مراد ملت کی وہ منظم صورت ہے جس میں عقیدہ، فقہ، اخلاق، آداب، روایت اور اجتماعی ربط کسی نہ کسی درجے میں ہم آہنگ رہتے ہیں۔ جب کمزور دور میں ہر شخص یا ہر طبقہ اپنے طور پر نئے اصول گھڑنے لگے تو یہ بساط قائم نہیں رہتی۔ کوئی ایک مرکز باقی نہیں رہتا، اور قوم ربط کے بجائے متوازی راہوں میں بٹ جاتی ہے۔

گویا بے محل اجتہاد انحطاط کے دور میں مسئلہ حل نہیں کرتا، بلکہ موجودہ کمزور نظم کو بھی توڑ سکتا ہے۔

اقبال کی احتیاط:

اقبال کی بات کا مطلب یہ نہیں کہ شریعت جمود چاہتی ہے، بلکہ یہ کہ شریعت کا فہم ذمہ دار ہاتھوں میں رہے اور امت پہلے اپنی داخلی قوت بحال کرے۔ جب تک قلبی مرکزیت، علمی رسوخ، ورثے سے ربط اور اجتماعی ضبط کمزور ہوں، تب تک غیر ذمہ دار تجدید کے نعرے قوم کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

یہ شعر دراصل مرحلہ شناسی کا شعر ہے: ہر اچھا اصول ہر حال میں یکساں مفید نہیں ہوتا۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں “اجتہاد” کا لفظ بہت آسانی سے استعمال ہو جاتا ہے۔ کبھی خواہش کو اجتہاد کہا جاتا ہے، کبھی مرعوبیت کو، اور کبھی روایت سے بغاوت کو۔ اقبال خبردار کرتے ہیں کہ کمزور امت کے لیے یہ رویہ مزید بساط الٹ سکتا ہے۔ پہلے امت کو اپنے علمی مراکز، اخلاقی بنیادوں، اور توحیدی مرکز کو مضبوط کرنا ہوگا۔

اس کے بعد جو اجتہاد ہوگا وہ تعمیر کرے گا، ورنہ بے وقت حرکت صرف پراگندگی بڑھے گی۔

مثال

جیسے شدید بیماری میں طاقت ور دوا اگر ماہر ہاتھ کے بغیر دی جائے تو علاج کے بجائے بدن کا توازن بگاڑ دیتی ہے، ویسے ہی انحطاط کے دور میں بے محل اجتہاد قوم کا نظم توڑ سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ انحطاط کے زمانے میں اجتہاد کا بے احتیاط استعمال قوم کی جمعیت اور نظم کو الٹ سکتا ہے۔ اس لیے پہلے بقا، ضبط اور مرکزیت، پھر تخلیقی حرکت۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button