رموز بے خودی

آنچنان قطع اخوت کرده اند

آنچنان قطع اخوت کرده اند

بر وطن تعمیر ملت کرده اند

ترجمہ

لوگوں نے بھائی چارے کے رشتے کو اس طرح کاٹ ڈالا ہے کہ ملت کی تعمیر وطن کی بنیاد پر کر دی ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں جدید قومیّت کے اُس فکری سانچے پر شدید تنقید کرتے ہیں جس نے انسانوں کو ایمانی، اخلاقی اور انسانی اخوت کے وسیع رشتے سے ہٹا کر محض جغرافیائی وطن کی بنیاد پر جمع کرنا شروع کر دیا۔ ان کے نزدیک ملت ایسی حقیقت نہیں جس کی جڑیں مٹی میں ہوں؛ ملت کا سرچشمہ روح، مقصد، ایمان اور مشترک اخلاقی مرکز ہے۔ جب یہ اصل بھلا دی جاتی ہے تو اخوت کی ڈور کٹ جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا اجتماع آتا ہے جو بظاہر مضبوط مگر باطن میں محدود اور خود غرض ہوتا ہے۔ شعر کے مطابق:

قطعِ اخوت:

اخوت اقبال کے ہاں محض جذباتی ہمدردی نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی رشتہ ہے۔ یہ رشتہ انسان کو اپنی ذات، اپنے قبیلے اور اپنی سرزمین کی محدود دیواروں سے بلند کرتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “قطع اخوت کرده اند” تو ان کا مقصود یہ بتانا ہے کہ جدید سیاسی فکر نے انسان کے اس باطنی ربط کو زخمی کر دیا ہے جس کے باعث وہ دوسرے انسان کو اپنا شریکِ مقصد سمجھتا تھا۔

جس معاشرے میں اخوت کٹ جائے وہاں قربت رہ بھی جائے تو اس میں حرارت باقی نہیں رہتی۔

بر وطن تعمیر ملت:

یہاں وطن سے مراد وہ جغرافیائی خطہ ہے جسے جدید قومیت نے ملت کی بنیاد بنا دیا۔ اقبال کا اعتراض وطن کی طبعی محبت پر نہیں، بلکہ وطن کو اصل اور آخری مرکز بنا دینے پر ہے۔ جب ملت ایمان، عدل اور مقصد کے بجائے خاک، سرحد اور سیاسی مفاد پر تعمیر ہوتی ہے تو اس کا دائرہ تنگ ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ نسبتِ حق کے بجائے نسبتِ زمین سے معاملہ کرتی ہے۔

زمین ضرورت ہے، مگر جب وہ مرکزِ وفا بن جائے تو روح کی وسعت سمٹنے لگتی ہے۔

ملت کی اصل بنیاد:

اقبال کے نزدیک ملت اس شعور سے بنتی ہے کہ انسان ایک بڑے سچ، ایک اعلیٰ مقصد اور ایک اخلاقی ذمہ داری کے تابع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی ملت مختلف زبانوں، نسلوں اور علاقوں کے باوجود ایک رہ سکتی ہے۔ اگر یہ بنیاد وطن سے بدل دی جائے تو ملت کا آفاقی تصور تحلیل ہو جاتا ہے اور ہر قوم اپنی مٹی کے گرد الگ قلعہ بنا لیتی ہے۔

وحدت اگر روح سے نہ بنے تو نقشے اس کی جگہ نہیں لے سکتے۔

قومیّت اور خودی:

یہ شعر خودی کے باب میں بھی اہم ہے۔ خودی کی بڑائی اس میں ہے کہ وہ اپنے دائرۂ نسبت کو وسیع رکھے۔ اگر خودی صرف وطن پر رک جائے تو اس کی پرواز محدود ہو جاتی ہے۔ اقبال ایسی خودی چاہتے ہیں جو اپنے وطن سے محبت کرے مگر اس محبت کو حق، عدل اور امت کی بڑی نسبت کے تابع رکھے۔ اس کے بغیر وطن پرستی آسانی سے تعصب، رقابت اور دشمنی میں بدل سکتی ہے۔

چھوٹا مرکز خودی کو بھی چھوٹا کر دیتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی محبوب کیوں نہ ہو۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا میں اکثر یہی بتایا جاتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کا ملک، جھنڈا اور قومی مفاد ہے۔ اقبال اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان کی ساری وفاداری وطن پر آ کر رک جائے تو عالمِ انسانی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے وطن کی خیر خواہی ضرور رکھنی چاہیے، مگر اس درجے میں نہیں کہ دوسرے انسان کی حرمت، حق اور اخوت نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

اسلامی خودی کا وقار یہ ہے کہ وہ وطن کو رکھتی ہے، مگر اخوت کے قتل کی قیمت پر نہیں۔

مثال

اگر دو قومیں محض سرحدی مفاد کی بنیاد پر ایک دوسرے کی انسانی تکلیف سے بے نیاز ہو جائیں تو یہ اس بات کی مثال ہے کہ وطن نے اخوت کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے برعکس جو دل اصول اور انسانیت کو مقدم رکھے، وہ قومیت کے باوجود اخوت کو بچا سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک جدید وطن پرستی نے انسانی اور ایمانی اخوت کو کاٹ کر ملت کی تعمیر سرزمین کی بنیاد پر کر دی۔ یہی تبدیلی وحدت کو محدود اور انسان کو اپنے بڑے روحانی رشتے سے محروم کر دیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button