رموز بے خودی

بیم غیر الله عمل را دشمن است

بیم غیر الله عمل را دشمن است

کاروان زندگی را رہزن است

ترجمہ

اللہ کے سوا دوسروں کا خوف عمل کا دشمن ہے، اور زندگی کے کارواں کا رہزن ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خوف کی اصل بیماری کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ غیر اللہ کا خوف انسان کے عمل کو کھا جاتا ہے، اس کے قدم روک دیتا ہے، اور زندگی کے پورے قافلے کو لوٹ لینے والا رہزن بن جاتا ہے۔ یہ شعر توحیدی آزادی کے فلسفے کا ایک بہت اہم خلاصہ ہے۔ شعر کے مطابق:

غیر اللہ کا خوف:

یہاں مراد وہ تمام خوف ہیں جو انسان کو اپنے رب سے زیادہ مخلوق، حالات، طاقتور لوگوں، دنیاوی نقصان، یا رائے عامہ کے تابع کر دیں۔ اقبال کے نزدیک ایسا خوف صرف ایک انسانی کمزوری نہیں بلکہ روحانی انحراف بھی ہے، کیونکہ اس سے دل کا مرکز بدلنے لگتا ہے۔ بندہ خدا کی رضا کے بجائے لوگوں کی ناراضی سے بچنے میں زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔

یوں اس کے فیصلوں کا محور حق کے بجائے مخلوق بننے لگتی ہے، اور یہی اس کی داخلی آزادی کو کمزور کرتا ہے۔

عمل کا دشمن کیوں:

عمل کو جرات، فیصلہ اور قدم چاہیے۔ جب دل میں غیر اللہ کا خوف غالب ہو تو انسان سچ جان کر بھی خاموش رہ سکتا ہے، خیر چاہ کر بھی قدم روک سکتا ہے، اور حق سمجھ کر بھی اس کی حمایت سے ہچکچا سکتا ہے۔ اس طرح خوف عمل کے سینے میں اتر کر اسے کمزور کرتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ بےعملی کی جڑ محض سستی نہیں، اکثر خوف بھی ہوتا ہے۔ اور یہ خوف جتنا زیادہ غیر اللہ سے وابستہ ہوگا، اتنا ہی عمل کو کھوکھلا کرے گا۔

کاروانِ زندگی کا رہزن:

رہزن وہ ہوتا ہے جو سفر میں لوٹ لے۔ اقبال کہتے ہیں کہ غیر اللہ کا خوف زندگی کے پورے کارواں کو لوٹ لیتا ہے۔ یعنی صرف ایک کام نہیں رکتا، بلکہ انسان کی پوری حیات کی سمت متاثر ہوتی ہے۔ اس کی جرات، اس کی تخلیق، اس کی سچائی، اس کی قربانی، اس کی قیادت، اور اس کے تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔

یہ تشبیہ بتاتی ہے کہ خوف جزوی مسئلہ نہیں بلکہ زندگی کی راہ میں بڑا ڈاکو ہے، جو انسان کے سفر کی اصل متاع چھین سکتا ہے۔

توحید بطور نجات:

اس بیماری کا علاج توحید ہے۔ جب دل میں اللہ کی عظمت، قربت، حفاظت اور فیصلے کا یقین پختہ ہوتا ہے تو مخلوق کا خوف اپنے مناسب مقام پر آ جاتا ہے۔ انسان احتیاط تو کرتا ہے، مگر اس کی روح فروخت نہیں ہوتی۔ وہ نتائج کو خدا کے حوالے کر کے حق کے مطابق عمل کرنے کی طاقت پاتا ہے۔

یہی توحیدی آزادی اقبال کے نزدیک عمل کی شرط ہے۔ خدا کے سوا ہر غلامی عمل کو باندھتی ہے، اور خدا کی بندگی انسان کو آزاد کرتی ہے۔

فرد اور ملت پر اطلاق:

فرد کی طرح قومیں بھی جب دوسروں کے خوف میں جینا شروع کر دیتی ہیں تو ان کی فکری خود مختاری، تہذیبی اعتماد اور عملی جرات کمزور ہو جاتی ہے۔ اقبال امت کو یہی سکھاتے ہیں کہ وہ اپنے قافلے کو رہزنِ خوف سے بچائے۔ اگر اس نے خوف کو اپنی سیاست، فکر اور اخلاق پر حاوی ہونے دیا تو اس کی راہ بھی لٹ جائے گی۔

پس یہ شعر فرد کی اصلاح اور ملت کی نجات دونوں کے لیے ایک بنیادی توحیدی سبق رکھتا ہے۔

مثال

بعض لوگ ایک صحیح کام اس لیے نہیں کرتے کہ کہیں لوگ ناراض نہ ہو جائیں، کہیں نقصان نہ ہو جائے، یا کہیں ان کی حیثیت کم نہ ہو جائے۔ یہی خوف آہستہ آہستہ ان کی پوری شخصیت کو محدود کر دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک غیر اللہ کا خوف عمل کا دشمن اور زندگی کے قافلے کا رہزن ہے۔ نجات اسی میں ہے کہ دل خدا کی عظمت سے مضبوط ہو، تاکہ انسان حق کے مطابق جینے اور کرنے کی آزادی پا سکے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button