رموز بے خودی

آنکه دوش کوه بارش بر نتافت

آنکه دوش کوه بارش بر نتافت

سطوت او زهره ی گردون شکافت

ترجمہ

وہ عظیم بار کہ جسے پہاڑ کی پشت بھی اٹھا نہ سکی، اسی کی ہیبت نے آسمان کی بلندیوں کو بھی چیر ڈالا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں قرآنِ حکیم کی عظمت، وزن اور ہیبت کو نہایت بلند استعارے میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ بار ہے جسے پہاڑ بھی نہ اٹھا سکا، مگر اسی کی سطوت نے گردوں کی بلندیوں کو شکافتہ کر دیا۔ اس میں ایک طرف قرآن کے امانت ہونے، اس کے وزنی حق ہونے، اور اس کے غیر معمولی مطالبے کی طرف اشارہ ہے؛ دوسری طرف اس کی طاقت، غلبے اور نورانی ہیبت کی طرف۔ اقبال گویا بتاتے ہیں کہ قرآن کوئی ہلکی یا سہل چیز نہیں: یہ دل، عقل، ارادہ اور پوری زندگی سے جواب مانگتا ہے۔ شعر کے مطابق:

کوه کے دوش کا نہ سنبھالنا:

پہاڑ استحکام، وزانت اور برداشت کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس بار کو کوہ کا دوش نہ اٹھا سکا، تو وہ اس حقیقت کو ابھارتے ہیں کہ قرآن کی امانت معمولی نہیں۔ یہ انسان سے صرف تلاوت یا رسم نہیں مانگتا، بلکہ ایک مکمل اخلاقی جواب، ایک زندہ شعور، ایک بدلتی ہوئی زندگی اور ایک ذمہ دار امت طلب کرتا ہے۔

اس لیے قرآن کے بار کو محسوس کرنا یعنی اس کی عظمت کو محسوس کرنا۔ جو شخص اسے صرف لفظوں کی برکت تک محدود رکھتا ہے، وہ اس وزن کو جان ہی نہیں پاتا جس کی طرف اقبال اشارہ کر رہے ہیں۔

بارِ امانت کا مفہوم:

یہ بار صرف ایک کتاب ہاتھ میں لینے کا بار نہیں، بلکہ حق کی شہادت کا بار ہے۔ اس میں توحید کا اعلان بھی ہے، عدل قائم کرنے کی ذمہ داری بھی، نفس کی اصلاح بھی، اور باطل کے مقابل استقامت بھی۔ اسی وجہ سے یہ بار آسان بھی نہیں اور معمولی بھی نہیں۔

مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ اس وزن کو محض خوف کی صورت میں نہیں دکھاتے۔ وہ اس کے اندر عظمت بھی دکھاتے ہیں۔ یہ بار جس نے اٹھایا، وہی انسان حقیقی معنی میں بلند ہوا۔

سطوت کا گردوں شکافتہ کرنا:

دوسرے مصرعے میں فضا بدل جاتی ہے۔ وہی حقیقت جو وزن میں اتنی عظیم تھی کہ کوہ بھی نہ سنبھال سکا، ہیبت و سطوت میں اتنی بلند ہے کہ گردوں کی زہرہ بھی شق ہو جاتی ہے۔ یہاں “زهره ی گردون شکافت” سے مراد آسمانی بلندیوں کو چیر دینے والی قوت، حدوں کو توڑ دینے والی تابناکی، اور کائناتی سطح کی اثر انگیزی ہے۔

گویا قرآن محض فرد کے اندرونی تجربے تک محدود نہیں بلکہ اس کی سطوت تاریخ، تہذیب اور کائناتی شعور تک پھیلتی ہے۔ وہ انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی وسعتوں کے برابر سوالات کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

وزن اور ہیبت کا اجتماع:

اس شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں قرآن کے دو پہلو اکٹھے ہو گئے ہیں: ایک وہ اتنا وزنی ہے کہ اٹھانا مشکل ہے، اور دوسرا وہ اتنا طاقتور ہے کہ اٹھایا جائے تو ناممکن کو ممکن کر دیتا ہے۔ یعنی قرآن پہلے انسان کو اس کی کمزوری کا احساس دلاتا ہے، پھر اسی کو ایسی قوت دیتا ہے کہ وہ بڑی سے بڑی رکاوٹوں کو چیر سکے۔

یہی قرآنی تربیت کا راز ہے: پہلے بندہ اپنے محدود ہونے کو پہچانتا ہے، پھر حق سے وابستہ ہو کر نئی طاقت پاتا ہے۔

امت کے لیے پیغام:

امت اگر قرآن کو صرف ورثہ سمجھے گی تو اس کا وزن محسوس نہیں کرے گی، اور اگر اس کا وزن محسوس نہ کرے گی تو اس کی سطوت سے بھی محروم رہے گی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان قرآن کو دوبارہ ایک زندہ امانت، ایک عظیم ذمہ داری، اور ایک بلند تر قوت کے طور پر لیں۔

جس امت نے یہ بار اٹھایا، وہی زمین کے نقشے بدل سکی۔ جس امت نے اس بار کو چھوڑا، اس کی اپنی ساخت بکھر گئی۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم قرآن کو آسان حوالہ تو سمجھتے ہیں، مگر اپنی زندگی پر اس کے وزن کو کم ہی قبول کرتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ جو حق پہاڑوں کے لیے بھی بھاری تھا، اسے امت نے اپنے سینے میں اٹھانا ہے۔ اسی میں عزت بھی ہے، امتحان بھی، اور تاریخ ساز قوت بھی۔

اگر ہم اس بار کو واقعی اپنے فکر، سیاست، اخلاق اور اجتماعی حیات میں جگہ دیں تو یہی قرآن پھر ہماری کمزوری کو قوت اور ہمارے خوف کو سطوت میں بدل سکتا ہے۔

مثال

جیسے ایک عظیم امانت چھوٹے دل کے لیے بوجھ مگر بڑے کردار کے لیے شرف بن جاتی ہے، ویسے ہی قرآن بھی کمزور شعور پر بھاری اور زندہ امت کے لیے رفعت کا سبب ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں قرآن کو ایک ایسی عظیم امانت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کا بار پہاڑ بھی نہ اٹھا سکے، مگر جس کی سطوت آسمانی حدوں کو چیر دے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن وزنی ذمہ داری بھی ہے اور تاریخ ساز قوت بھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button