بیم چون بند است اندر پای ما
بیم چون بند است اندر پای ما
ورنہ صد سیل است در دریای ما
ترجمہ
خوف ہمارے پاؤں میں بیڑی بنا ہوا ہے، ورنہ ہمارے دریا میں تو سو سیلابوں کی طاقت موجود ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امت اور فرد دونوں کے باطن کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ قوت کا نہ ہونا نہیں، بلکہ خوف کی وہ زنجیر ہے جو اس قوت کو حرکت میں آنے نہیں دیتی۔ اگر یہ بند کھل جائے تو اندر کا دریا اپنی اصل طاقت کے ساتھ بہنے لگے گا۔ شعر کے مطابق:
خوف بطور بیڑی:
“بند” کا لفظ بتاتا ہے کہ خوف انسان کی اصل ساخت کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے باندھ دیتا ہے۔ یعنی قوت موجود ہوتی ہے، مگر اس کا راستہ روک دیا جاتا ہے۔ یہ بہت اہم فرق ہے۔ اقبال یوں انسان کو مایوسی سے نہیں بلکہ خود شناسی کی طرف لے جا رہے ہیں: تیرے اندر طاقت ہے، مگر خوف نے اس کے قدم باندھ رکھے ہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علاج صفر سے طاقت پیدا کرنا نہیں، بلکہ موجود طاقت کو آزاد کرنا ہے۔ یہی اقبالی تربیت کا مثبت رخ ہے۔
دریا اور سیلاب کی تمثیل:
دریا زندگی، وسعت، طاقت اور حرکت کی علامت ہے، جبکہ “صد سیل” اس کے اندر چھپی ہوئی شدید قوت کی نشانی ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان اور امت دونوں کے باطن میں ایسی عظیم توانائی موجود ہے جو اگر آزاد ہو جائے تو بڑے بڑے رخ بدل سکتی ہے۔
مگر چونکہ خوف قدموں کو باندھے ہوئے ہے، اس لیے دریا اپنی پوری طغیانی نہیں دکھا پاتا۔ گویا بحران کی اصل وجہ قوت کی کمی نہیں، اس قوت کے اظہار کی رکاوٹ ہے۔
خودی کی پوشیدہ طاقت:
یہ شعر اقبالی خودی کے بنیادی تصور سے جڑا ہوا ہے۔ خودی کے اندر امکانات، حوصلہ، تخلیق، غیرت اور عمل کی قوتیں ودیعت ہیں۔ اگر انسان خود کو کمزور سمجھنے لگے تو وہ اپنی باطنی دریا مندی سے غافل ہو جاتا ہے۔ اقبال اسے یاد دلاتے ہیں کہ اس کی اصل حیثیت باندھی ہوئی مخلوق کی نہیں، بلکہ جاری اور قوت مند دریا کی ہے۔
اس لیے خوف کو تقدیر سمجھنے کے بجائے قید سمجھنا چاہیے، تاکہ اس سے نکلنے کی خواہش پیدا ہو۔ یہی شعور آزادی کی پہلی سیڑھی ہے۔
توحید سے بند ٹوٹتا ہے:
اقبال کے نزدیک اس بند کو توڑنے والی اصل قوت توحید ہے۔ جب دل غیر اللہ کے خوف سے پاک ہوتا ہے اور اپنے رب کی عظمت سے بھر جاتا ہے تو قدموں کی بیڑیاں ڈھیلی پڑنے لگتی ہیں۔ پھر انسان نتائج سے پہلے حق کو دیکھتا ہے، خوف سے پہلے ذمہ داری کو، اور رکاوٹ سے پہلے امکان کو۔
یہی وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنے اندر کے “صد سیل” کو محسوس کرتا ہے۔ یعنی توحید اسے اس کے باطن کی اصل طاقت سے دوبارہ ملا دیتی ہے۔
قوموں پر اطلاق:
امت کے لیے بھی یہی حقیقت ہے۔ اگر وہ اپنے خوف، تاریخی شکستوں اور احساسِ کم تری کی بیڑی توڑ دے تو اس کے اندر علم، تہذیب، کردار، اخوت اور جد و جہد کے بے شمار چشمے دوبارہ بہہ سکتے ہیں۔ اقبال اپنی قوم کو یہی بتانا چاہتے ہیں کہ تمہاری کمزوری اصل نہیں، عارضی بند ہے۔
پس یہ شعر قوم کے اندر پوشیدہ قوت کے احساس کو جگاتا ہے اور اس کی مایوسی کو چیلنج کرتا ہے۔
مثال
ایک بند کے پیچھے جمع پانی بظاہر خاموش دکھائی دے سکتا ہے، مگر اگر رکاوٹ اٹھ جائے تو وہ بڑی طاقت کے ساتھ بہتا ہے۔ انسان کی باطنی قوت بھی ایسی ہی ہوتی ہے، جسے اکثر خوف روک کر رکھتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق خوف قدموں کی بیڑی ہے، ورنہ انسان اور امت کے باطن میں سیلابوں جیسی قوت موجود ہے۔ اصل کام اس بند کو توڑنا ہے، اور یہ آزادی توحیدی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔
