حرف او را ریب نی تبدیل نی
حرف او را ریب نی تبدیل نی
آیه اش شرمنده ی تأویل نی
ترجمہ
اس کے کلام میں نہ شک کی گنجائش ہے نہ تبدیلی کی، اور اس کی آیت ایسی نہیں کہ اسے شرمندہ ہو کر جبری تاویلات کی حاجت پڑے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال قرآن کی حقانیت، استواری اور خود کفیل روشنی کو بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کے حرف میں “ریب” نہیں، یعنی اس کی اصل صداقت میں کوئی ایسا اضطراب، تزلزل یا شبہ نہیں جو اسے انسانی گمان کا محتاج بنا دے۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ اس میں “تبدیل” نہیں، یعنی یہ حق اپنی بنیاد میں انسانی ہاتھوں کی تحریف یا وقتی مصلحت کے تابع نہیں۔ دوسری سطر میں اقبال ایک اور لطیف نکتہ پیش کرتے ہیں: قرآن کی آیت ایسی نہیں کہ اسے اپنی عزت بچانے کے لیے شرمندہ تاویلوں کا سہارا لینا پڑے۔ شعر کے مطابق:
ریب سے پاکی:
ریب صرف سادہ شک نہیں بلکہ ایسا باطنی اضطراب ہے جو کسی دعوے کو اندر سے کمزور کر دے۔ اقبال کے نزدیک قرآن اس قسم کے ریب سے پاک ہے، کیونکہ وہ حق کے سرچشمے سے آیا ہے۔ اس کی دعوت، اس کی حکمت، اس کا اخلاقی معیار اور اس کی وجودی بصیرت باہم متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن دل کو بھی خطاب کرتا ہے، عقل کو بھی، فطرت کو بھی، اور تاریخ کو بھی۔ اس کی صداقت محض ایک زاویے سے نہیں بلکہ کئی جہتوں سے انسان کو گھیر لیتی ہے۔
تبدیل نہ ہونا:
تبدیل نہ ہونے کا مطلب صرف لفظی حفاظت نہیں بلکہ اصولی استواری بھی ہے۔ قرآن کا مرکز، اس کا توحیدی پیغام، اس کا اخلاقی وزن اور اس کے حق و باطل کے پیمانے وقتی سیاسی خواہشات کے ساتھ بدلتے نہیں۔ اقبال اس سے یہ بتاتے ہیں کہ ملت کا آئین ایسا ہونا چاہیے جو خود زمانے کے دباؤ سے ٹوٹ نہ جائے۔
اگر آئین ہر ہوا کے ساتھ بدلنے لگے تو وہ امت کو ثبات نہیں دے سکتا۔ قرآن اس کے برعکس ایک ایسا مرکز ہے جو بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنی اصل روشنی برقرار رکھتا ہے۔
آیت اور تاویل:
اقبال کا یہ مصرعہ بہت گہرا ہے۔ “آیه اش شرمنده ی تأویل نی” کا مفہوم یہ نہیں کہ قرآن کی تفسیر یا تدبر کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ قرآن کی آیت ایسی نہیں کہ اسے باطل نظریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے شرمندگی کے ساتھ کھینچ تان کر بدلنا پڑے۔ حقیقی تاویل وہ ہے جو آیت کے نور کو واضح کرے، نہ کہ اس پر خارجی سانچوں کو مسلط کرے۔
جب امت اپنے آئین پر اعتماد کھو دیتی ہے تو وہ قرآن کو معیار بنانے کے بجائے زمانے کے بنائے ہوئے معیار سے قرآن کو ناپنے لگتی ہے۔ اقبال اس ذہنی غلامی کو رد کرتے ہیں۔
خود اعتمادیِ وحی:
اس شعر میں دراصل وحی کی خود اعتمادی سامنے آتی ہے۔ قرآن اپنے حق کے اظہار میں معذرت خواہ نہیں، نہ اسے اپنے جوہر کو بچانے کے لیے مصنوعی دفاع کی ضرورت ہے۔ البتہ قاری کو پاک نیت، تدبر اور صحیح فہم کی ضرورت ہے تاکہ وہ آیات کو ان کے نور میں سمجھے۔
اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان قرآن کے سامنے ایسے کھڑے ہوں کہ وہ اس سے ہدایت لیں، نہ کہ اس پر اپنے خوف اور مرعوبیت کے غلاف چڑھائیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں مسلمان پر بہت دباؤ ہے کہ وہ اپنے بنیادی ماخذ کو خارجی تصورات کے تابع ثابت کرے۔ اقبال کا شعر سکھاتا ہے کہ قرآن سے فرار یا اس کی شرمندہ تاویل امت کی خودی کو کمزور کر دیتی ہے۔ ہمیں قرآن کی روشنی میں زمانے کو سمجھنا چاہیے، نہ کہ زمانے کی گھڑی سے قرآن کا قد ناپنا چاہیے۔
جب یہ اعتماد واپس آئے گا تو امت اپنے آئین کے ساتھ مضبوط تعلق، فکری وقار اور روحانی استقلال دوبارہ حاصل کر سکے گی۔
مثال
جیسے ایک اصل پیمانہ خود قائم ہوتا ہے اور چیزوں کو ناپتا ہے، مگر اگر وہی پیمانہ ہر چیز کے مطابق مڑنے لگے تو پیمانہ نہیں رہتا، ویسے ہی قرآن معیار ہے، محض مڑنے والی چیز نہیں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک قرآن شک اور تبدیلی سے پاک ربانی کلام ہے۔ اس کی آیات ایسی نہیں کہ انہیں مرعوب ہو کر مصنوعی تاویلوں میں چھپانا پڑے۔ امت کی فکری عزت اسی میں ہے کہ وہ قرآن کو معیار سمجھے، نہ کہ معذرت طلب متن۔