رموز بے خودی

«حق جوانی مسلمی با تو سپرد

«حق جوانی مسلمی با تو سپرد

کو نصیبی از دبستانم نبرد

ترجمہ

حق نے تیرے سپرد ایک مسلمان نوجوان کیا تھا، مگر اس نے میرے مکتب سے کوئی حصہ کیوں نہ لیا؟

تشریح

اس شعر میں وہ ڈراؤنا مگر بیدار کرنے والا سوال سامنے آتا ہے جسے والد گویا زبانِ حال میں حضورِ نبی کی طرف منسوب کر رہا ہے۔ “حق جوانی مسلمی با تو سپرد” یعنی خدا نے تمہارے سپرد ایک مسلم نوجوان کی جوانی امانت رکھی تھی۔ “کو نصیبی از دبستانم نبرد” یعنی اس نے میرے مدرسے، میرے مکتب، میری تربیت سے کوئی حصہ کیوں نہ لیا؟ یہ سوال بظاہر ایک شخص سے ہے، مگر حقیقت میں ہر مربی، ہر باپ، ہر استاد، ہر بزرگ، اور ایک حد تک پوری امت سے ہے۔ اقبال یہاں نوجوان کی لغزش کو محض اس کی ذاتی خطا نہیں رہنے دیتے؛ وہ اسے تربیتی امانت کے بڑے سوال میں بدل دیتے ہیں۔

“جوانی مسلمی” نہایت اہم تعبیر ہے۔ جوانی ایک طاقت ہے، ایک حرارت ہے، ایک امکان ہے۔ اگر یہ نبوی مکتب سے حصہ لے لے تو وہ رحمت، جرات، حیا، حلم اور خدمت کا پیکر بن سکتی ہے۔ اگر اس سے محروم رہ جائے تو وہی قوت جلد بازی، تندی، غصہ اور خود پسندی میں بھی بہہ سکتی ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ نوجوان میں طاقت تھی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس طاقت کا ادب کیا تھا۔ والد کو یہی خوف کھائے جا رہا ہے کہ کہیں اس کے زیرِ تربیت نوجوان نے اس مکتبِ محمدی سے اپنا حصہ کم نہ لیا ہو۔

امانتِ تربیت:

اقبال اس شعر میں تربیت کو امانت کا درجہ دیتے ہیں۔ اولاد، شاگرد یا نوجوان نسل صرف حیاتیاتی تسلسل نہیں، اخلاقی امانت بھی ہیں۔ ان کے حوالے سے صرف یہ کافی نہیں کہ انہیں علم دے دیا جائے، رزق دے دیا جائے، یا دنیا کی کامیابی کے وسائل دے دیے جائیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انہیں نبوی مکتب سے بھی کچھ ملا؟ کیا ان کے مزاج میں کمزور کے لیے رحم آیا؟ کیا ان کے غضب میں ضبط آیا؟ کیا ان کے دل میں شرم، حیا اور نسبت کی حرارت آئی؟ اگر یہ سب نہ آیا تو امانت ادھوری رہ گئی۔

یہ سوال سخت ضرور ہے، مگر اس میں تربیتی رحمت بھی ہے۔ یہ انسان کو اپنے فرائض کی اصل سمت دکھاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کا زوال اسی وقت گہرا ہوتا ہے جب نسلیں نبی کے دبستان سے بے نصیب ہونے لگتی ہیں، چاہے وہ دنیا کے کتنے ہی فن کیوں نہ سیکھ جائیں۔

دبستانم کا مفہوم:

یہ دبستان محض درس گاہ نہیں، سیرت کا مدرسہ ہے۔ یہاں علم ہے، مگر علم کے ساتھ رحم بھی ہے۔ یہاں جرات ہے، مگر جرات کے ساتھ عدل بھی ہے۔ یہاں عبادت ہے، مگر عبادت کے ساتھ انسان دوستی بھی ہے۔ رسول اکرم کا دبستان وہ مقام ہے جہاں انسان آدمی سے آدم بنتا ہے، اور مسلمان محض نام سے نہیں بلکہ اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔

اگر نوجوان نے اس دبستان سے حصہ لیا ہوتا تو سائل کے ساتھ اس کا رویہ ایسا نہ ہوتا۔ لہٰذا یہ شعر اس پورے واقعے کی اصل تشخیص بن جاتا ہے: خطا کا سبب صرف ایک لمحہ نہیں، تربیت کی کمی تھی۔

یہ شعر اگلے شعر سے جڑا ہوا ہے:

یہاں نبوی سوال مکمل نہیں ہوتا بلکہ اگلے شعر میں مزید کھلتا ہے۔ اس لیے اس شعر کو ایک جاری ملامت کی ابتدا سمجھنا چاہیے۔ اقبال نے اسے اس طور پر رکھا ہے کہ پڑھنے والا رکے، کانپے، اور اگلے مصرعۂ فکر کی طرف بڑھے۔ یہی شعری ترتیب اس سوال کی گہرائی کو بڑھا دیتی ہے۔

گویا اس مصرعے کے بعد خاموشی بھی ایک جواب مانگتی ہے: آخر کیوں واقعی نوجوان نے اس دبستان سے حصہ نہ لیا؟ یہی خاموشی تربیت کے فقدان کا سب سے کڑا اعتراف ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے والدین، اساتذہ، ادارے اور پوری امت اس سوال کے سامنے کھڑے ہیں۔ ہم نوجوانوں کو بہت کچھ دیتے ہیں: تعلیم، مواقع، اظہار، ہنر، مقابلہ، مگر کیا ہم انہیں دبستانِ محمدی کا حصہ بھی دے رہے ہیں؟ کیا ان کے اندر کمزور کے لیے نرمی، حق کے لیے غیرت، خطا کے بعد شرم، اور طاقت کے وقت ضبط پیدا ہو رہا ہے؟ اگر نہیں، تو مسئلہ صرف نوجوان کی غلطی نہیں، تربیت کی ساخت میں خلا ہے۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نسل سازی کا اصل معیار دنیاوی کامیابی نہیں، نبوی نصیب ہے۔ جو نوجوان اس نصیب سے خالی رہ جائے، اس کی قوت خود اس کے لیے اور امت کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

مثال

جیسے زرخیز زمین میں بیج بو کر اگر اسے پانی اور روشنی نہ دی جائے تو اس کی صلاحیت ضائع ہو جاتی ہے، ویسے ہی نوجوانی بھی نبوی تربیت کے بغیر اپنی اصل خوبی کھو سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تربیت کو امانت قرار دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ایک مسلم نوجوان نے نبوی مکتب سے کیا پایا۔ یہی سوال نسل، گھر اور امت کی اصل کامیابی کا کسوٹی بن جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button