شعله های انقلاب روزگار
شعله های انقلاب روزگار
چون بباغ ما رسد گردد بهار
ترجمہ
زمانے کے انقلاب کے شعلے جب ہمارے باغ تک پہنچتے ہیں تو بہار بن جاتے ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملتِ اسلامیہ کی ایک اور حیرت انگیز صفت بیان کرتے ہیں: زمانے کی ہلچل، انقلاب، ٹوٹ پھوٹ اور سختی جب ایک زندہ امت سے ٹکراتی ہے تو وہ محض تباہی نہیں رہتی بلکہ نئی بہار کا سبب بن سکتی ہے۔ “شعله های انقلاب روزگار” میں تاریخ کی وہ ساری تیز حرکتیں شامل ہیں جو سلطنتیں بدل دیتی ہیں، نظام الٹ دیتی ہیں اور قدیم سانچوں کو جلا کر رکھ دیتی ہیں۔ مگر اقبال کے نزدیک اگر امت کا باغ زندہ ہو تو یہی شعلے اس کے لیے موسمِ بہار کا پیغام بن جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
انقلابِ روزگار:
روزگار کا انقلاب صرف سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور روحانی سطح کی بڑی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ کبھی یہ جنگ کی صورت میں آتا ہے، کبھی طاقتوں کی ترتیب بدلنے کی شکل میں، کبھی نئے افکار کے دباؤ میں، اور کبھی داخلی بحران کے روپ میں۔ اقبال ان سب کو “شعلے” کہتے ہیں تاکہ واضح ہو کہ یہ تبدیلیاں نرم اور بے ضرر نہیں ہوتیں۔
لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ شعلہ ہر جگہ ایک سا نتیجہ نہیں دیتا۔ مردہ شے کو وہ جلا دیتا ہے، مگر زندہ اور زرخیز باغ کے لیے وہ نئی نشوونما کا محرک بھی بن سکتا ہے۔
باغِ ملت کا مفہوم:
“باغ ما” سے مراد محض جغرافیہ نہیں بلکہ ملت کا باطن، اس کی روحانی زمین، اس کی اجتماعی خودی اور اس کی تہذیبی استعداد ہے۔ اگر یہ باغ خشک، غافل اور بے جان ہو تو شعلہ اسے راکھ کر دے گا۔ مگر اگر اس میں ایمان، فکر، عمل اور تنظیم کی نمی ہو تو وہی شعلہ اس میں سوئے ہوئے بیجوں کو جگا سکتا ہے۔
اقبال ملت کو اس کے باطنی امکان کا شعور دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ زمانہ کتنا سخت ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا باغ اندر سے کتنا زندہ ہے۔
شعلہ سے بہار تک:
یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب امت کے اندر جذبِ دروں اور مقصدی حیات موجود ہو۔ بہار کا مطلب یہاں صرف خوشی نہیں بلکہ تجدید، نمو، تازگی اور نئی تخلیقی قوت ہے۔ یعنی انقلاب کے شعلے امت کی کمزوریوں کو جلا کر اس کے اندر چھپی ہوئی زندگی کو ابھار دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض قومیں بحران میں بکھر جاتی ہیں اور بعض وہیں سے نیا عروج پیدا کرتی ہیں۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کے لیے دوسرے امکان کی خبر دے رہے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی اصل روح سے جڑی رہے۔
تاریخ کا مثبت استعمال:
اقبال تاریخ سے خوف زدہ ہو کر نہیں بولتے۔ وہ انقلاب کو محض مصیبت نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک آزمائشی نعمت بھی مانتے ہیں۔ اگر قوم کے اندر بصیرت ہو تو زمانے کے جھٹکے اسے بیدار کر دیتے ہیں، غیر ضروری بوجھ اتار دیتے ہیں اور اس کے اندر نئے نظامِ حیات کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
اس لیے شعر کا لب و لہجہ شکست خوردہ نہیں بلکہ حیات آفریں ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مومن تاریخ کا شکار نہیں رہتا؛ وہ تاریخ کے شعلوں سے بھی نئی بہار نکال سکتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج دنیا تیز تبدیلیوں، فکری تصادم، سیاسی بحران اور تہذیبی بے یقینی سے بھری ہوئی ہے۔ اگر امت صرف دفاعی نفسیات میں رہے گی تو ہر شعلہ اسے خطرہ ہی محسوس ہوگا۔ مگر اگر وہ اپنے ایمان، علم، تربیت اور اجتماعی نظم کو مضبوط کرے گی تو یہی حالات اس کے لیے تجدید کا دروازہ بن سکتے ہیں۔
اقبال کا پیغام یہ ہے کہ اپنی زمین کو زندہ کرو، پھر زمانے کے شعلے بھی تمہارے لیے بہار میں بدل سکتے ہیں۔
مثال
جیسے بعض جنگلات میں پرانی خشک تہیں جلنے کے بعد نئی کونپلیں زیادہ قوت سے نکلتی ہیں، ویسے ہی زندہ ملت بڑی ہلچلوں کے بعد نئی توانائی کے ساتھ ابھر سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زمانے کے انقلابی شعلے زندہ ملت کے باغ میں پہنچ کر بہار بن سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ امت کا باطن ایمان، شعور اور تخلیقی قوت سے زندہ ہو تاکہ بحران تجدید میں بدل جائے۔