قطع کردی امر خود را در زبر
قطع کردی امر خود را در زبر
جاده پیمای الی «شئی نکر»
ترجمہ
تو نے اپنے معاملے کو ٹکڑوں اور نوشتوں میں بانٹ دیا، اور اب ایک ایسی راہ پر چل رہا ہے جو ایک اجنبی اور خوفناک انجام کی طرف جاتی ہے۔
تشریح
یہ شعر علامہ اقبال کی فکری تنقید کا نہایت اہم مقام ہے۔ وہ مسلمان سے کہتے ہیں کہ تم نے اپنے “امر” یعنی اپنے دین، اپنے اجتماعی مسئلے، اپنی تہذیبی ذمہ داری اور اپنے زندگی کے نظام کو “زبر” میں کاٹ دیا ہے۔ “زبر” کو یہاں مختلف نوشتوں، بکھری ہوئی بحثوں، جزوی نصوص، فقہی یا مسلکی خانوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی فہم کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ پھر اقبال کہتے ہیں کہ اس تقسیم کے بعد تم ایک ایسی راہ پر چل پڑے ہو جو “شئی نکر” یعنی ایک اجنبی، بے شناخت اور ڈراؤنے انجام کی طرف جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
امر کا کٹ جانا:
اسلام میں “امر” کا مفہوم وسیع ہے: دین صرف عقیدہ نہیں، نہ صرف عبادت، نہ صرف فقہ، نہ صرف ذوق، بلکہ ایک جامع طرزِ حیات ہے۔ اقبال کی شکایت یہ ہے کہ مسلمان نے اس جامع امر کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ کسی نے صرف رسوم لے لیں، کسی نے صرف بحثیں، کسی نے صرف تصوف کا ذوق، کسی نے صرف فقہی ظاہریت، کسی نے صرف سیاسی نعرہ۔ یوں اصل وحدت ٹوٹ گئی۔
جب جامع نظامِ حیات ٹکڑوں میں بٹ جائے تو ہر حصہ اپنی جگہ سخت بھی ہو سکتا ہے، مگر مجموعی سچائی غائب ہو جاتی ہے۔ یہی اقبال کا اصل درد ہے۔
در زبر کا اشارہ:
“زبر” کو صرف کتابی اوراق کے معنی میں لینا کافی نہیں۔ اس میں وہ پوری ذہنیت شامل ہے جو زندگی کی وحدت کو توڑ کر اسے متفرق عبارتوں، محدود حوالوں اور بے ربط جزویات میں بدل دیتی ہے۔ جب دین زندگی کے بہتے ہوئے مرکز کے بجائے محض فقروں، اقتباسات یا خانہ بندیوں میں محصور ہو جائے تو اس کی حرارت اور اس کی رہنمائی کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت کے پاس مواد بہت ہوتا ہے، مگر سمت کم؛ بحث بہت ہوتی ہے، مگر تعمیر کم؛ نصوص بہت ہوتی ہیں، مگر زندگی میں ان کی جامع روشنی کم دکھائی دیتی ہے۔
شئی نکر کی طرف سفر:
“شئی نکر” قرآنی اسلوب کی یاد دلاتا ہے، اور یہاں اس سے مراد ایسی چیز ہے جو اجنبی بھی ہو، ناگوار بھی، اور اپنی ماہیت میں خوفناک بھی۔ اقبال کہہ رہے ہیں کہ جب امت اپنے امر کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے تو اس کا سفر نامعلوم اور خطرناک رخ اختیار کر لیتا ہے۔ وہ بظاہر دینی گفتگو کر رہی ہوتی ہے، مگر عملاً ایک ایسے انجام کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے جہاں نہ وحدت بچتی ہے نہ وقار۔
گویا بے ربط فہمِ دین صرف علمی مسئلہ نہیں، تہذیبی خطرہ بھی ہے۔ یہ انسان کو اصل منزل کے بجائے ایک اجنبی اور تباہ کن راہ پر ڈال سکتا ہے۔
جزویت کے نقصانات:
جزوی دین ہمیشہ کچھ نہ کچھ دکھاتا ہے، مگر پورا راستہ نہیں دکھاتا۔ صرف فقہ ہو مگر روح نہ ہو، صرف ذوق ہو مگر نظم نہ ہو، صرف سیاست ہو مگر اخلاق نہ ہو، صرف نعرہ ہو مگر علم نہ ہو، تو امت کا سفر ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ اقبال اس شعر میں اسی بگاڑ کی جڑ پر ہاتھ رکھتے ہیں: وحدتِ فکر کا ٹوٹنا۔
اس لیے ان کے نزدیک علاج صرف مزید بحث نہیں، بلکہ جامع قرآنی مرکز کی طرف واپسی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی مسلمان دنیا میں دین کے بے شمار ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں: الگ الگ جماعتیں، الگ الگ دعوے، الگ الگ مطلق سچائیاں، اور ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ جزوی دلیل۔ اقبال کا شعر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم پوچھیں: کیا ہمارے پاس جامع قرآنی مرکز باقی ہے یا ہم صرف بکھرے ہوئے “زبر” میں گم ہیں؟
اگر امت کو نکر اور اجنبیت کے اس راستے سے بچنا ہے تو اسے اپنے امر کو دوبارہ وحدت، ربط اور قرآن کے زندہ مرکز میں جمع کرنا ہوگا۔
مثال
جیسے ایک نقشہ اگر ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے تو ہر ٹکڑا کچھ نہ کچھ دکھائے گا مگر راستہ مکمل نہیں بتا سکے گا، ویسے ہی دین کے بکھرے ہوئے اجزا انسان کو پوری منزل تک نہیں لے جاتے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امت کی اس فکری بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس نے اپنے جامع دینی امر کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے خطرناک راستے کی صورت میں نکلتا ہے جو اجنبی اور تباہ کن انجام تک لے جا سکتا ہے۔