رموز بے خودی

برق تیغش خرمن الحاد سوخت

برق تیغش خرمن الحاد سوخت

شمع دین در محفل ما بر فروخت

ترجمہ

اس کی تلوار کی بجلی نے الحاد کے خرمن کو جلا دیا، اور دین کی شمع ہماری محفل میں پھر روشن کر دی۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں عالمگیر کی قوت کو محض عسکری برتری کے طور پر بیان نہیں کرتے بلکہ اسے ایک تطہیری اور احیائی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ “برقِ تیغ” میں سرعت، ہیبت اور فیصلہ ہے، جبکہ “شمعِ دین” میں روشنی، گرمی اور رہنمائی۔ شعر کے دونوں مصرعے مل کر یہ بتاتے ہیں کہ سچی قوت صرف منہدم نہیں کرتی بلکہ راستہ بھی روشن کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

برقِ تیغ کی علامت:

بجلی اچانک آتی ہے، شدت سے اثر کرتی ہے اور ماحول کو ایک لمحے میں بدل دیتی ہے۔ تلوار کو بجلی کہنا اس کے زور اور اس کی فیصلہ کن رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر اقبال کے سیاق میں یہ قوت بے اصول یا محض خونریزی کی علامت نہیں، بلکہ ایسے اقدام کی علامت ہے جو فکری و تہذیبی فساد کو روکنے کے لیے بروئے کار آئے۔

یعنی شاعر کے نزدیک کبھی کبھی باطل کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محض بحث یا نرم خیر خواہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ مضبوط اقدام بھی درکار ہوتا ہے۔

خرمنِ الحاد کا جلنا:

خرمن کسی چیز کے جمع اور پھیل جانے کی علامت ہے۔ الحاد اگر خرمن بن جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صرف ایک رائے نہیں رہا بلکہ ایک فکری فصل بن گیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں اصلاح کو اتنا مضبوط ہونا پڑتا ہے کہ وہ اس پورے ڈھانچے کو جلا ڈالے۔

یہاں جلانا بربریت نہیں بلکہ اس جھوٹے غلبے کو ختم کرنا ہے جو دین کے نور کو ڈھانپ رہا ہو۔

شمعِ دین کا فروزاں ہونا:

اگر شعر صرف تیغ پر ختم ہو جاتا تو مفہوم ادھورا رہتا۔ اقبال فوراً بتاتے ہیں کہ اصل مقصد دین کی شمع کو روشن کرنا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سچی قوت کا کام خلا پیدا کرنا نہیں بلکہ حق کے لیے جگہ بنانا ہے۔ باطل کو ہٹانے کے بعد اگر روشنی نہ آئے تو کارنامہ ناقص رہتا ہے۔

شمعِ دین کا روشن ہونا دراصل دلوں میں یقین، معاشرے میں حرمت اور اجتماعی زندگی میں دینی شعور کے لوٹ آنے کی علامت ہے۔

قوت اور نور کی ہم آہنگی:

یہ شعر اقبال کی اس پسندیدہ ترکیب کو ظاہر کرتا ہے جس میں شمشیر اور چراغ ایک دوسرے کی ضد نہیں بنتے۔ جب قوت حق کے تابع ہو تو وہ روشنی کی محافظ بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر قوت نفس کے تابع ہو تو وہ چراغ گل بھی کر سکتی ہے۔

اسی لیے عالمگیر کی تعریف میں تیغ اور شمع ایک ساتھ آتے ہیں: ایک ہٹاتی ہے، دوسری زندہ کرتی ہے؛ ایک صاف کرتی ہے، دوسری منور کرتی ہے۔

ہماری اجتماعی دنیا:

آج بھی ملت کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے جو صرف ردعمل نہ ہوں بلکہ تطہیر کے بعد تعمیر بھی کریں۔ فکری انحراف کا علاج صرف مخالفت نہیں، اس کے بعد سچے علم، مضبوط یقین اور زندہ دینی محفل کی تعمیر بھی ہے۔ اگر شمع نہ جلے تو خرمن جلانے کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔

اقبال اس شعر میں ہمیں یہی مکمل منہج دیتے ہیں: باطل کی فصل کو روکو اور ساتھ ہی دین کی روشنی کو بھی زندہ کرو۔

مثال

اگر کسی گھر میں گندگی صاف کر دی جائے مگر پھر چراغ نہ جلایا جائے اور ترتیب نہ بنائی جائے تو گھر پھر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ صفائی اور روشنی دونوں ساتھ چاہییں۔ اقبال نے تیغ اور شمع کے ذریعے یہی اصول سمجھایا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق عالمگیر کی قوت نے فکری فساد کو روکا اور دین کی روشنی کو دوبارہ زندہ کیا۔ سچی قوت صرف توڑتی نہیں، حق کی شمع بھی روشن کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button