ہمچناں از فردہای پی سپر
ہمچناں از فردہای پی سپر
ہست تقویم امم پایندہ تر
ترجمہ
اسی طرح گزر جانے والے فردوں کے مقابلے میں قوموں کا تقویم زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور ملت کے زمانی پیمانے کے فرق کو نہایت صراحت سے بیان کرتے ہیں۔ “فردہای پی سپر” یعنی وہ افراد جو ایک ایک کر کے گزر گئے، تاریخ کے صفحے سے آگے نکل گئے، یا زمانے کے قافلے میں پیچھے رہ گئے۔ ان کے مقابلے میں “تقویم امم” زیادہ پائیدار ہے، یعنی قوموں اور ملتوں کی عمر، ان کا زمانی شعور، ان کی اجتماعی مدت اور ان کا تاریخی تسلسل فرد کی زندگی سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ اقبال ملتِ محمدیہ کی بقا کو اسی اصول پر قائم دکھاتے ہیں کہ اس کی زندگی چند افراد کے سالوں اور سانسوں سے نہیں ناپی جا سکتی۔ شعر کے مطابق:
فردہای پی سپر:
فرد گزر جاتا ہے۔ اس کی عمر محدود ہے، اس کے امکانات بھی ایک حد تک ہیں، اور اس کا جسمانی وجود لازماً فنا کے تابع ہے۔ اقبال اس حقیقت کو چھپاتے نہیں، بلکہ اسے فکری وضاحت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ جب وہ “فردہای پی سپر” کہتے ہیں تو گویا یہ یاد دلاتے ہیں کہ کتنے لوگ آ کر جا چکے، کتنی نسلیں گزر چکیں اور کتنے نام تاریخ میں مدغم ہو چکے۔
لیکن اس سب کے باوجود زندگی کا اجتماعی کارواں رکا نہیں۔ یہیں سے اقبال فرد کے فانی ہونے اور ملت کے باقی رہنے کے درمیان فرق قائم کرتے ہیں۔
تقویمِ امم:
تقویم صرف تاریخوں کی فہرست نہیں، بلکہ ایک اجتماعی وقت کا شعور ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوموں کا تقویم زیادہ پائیدار ہے، یعنی ان کی زندگی کا پیمانہ فرد کے پیمانے سے مختلف اور وسیع ہے۔ ایک فرد کی زندگی چند دہائیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے، مگر ملت اپنی روح، اپنے اصول اور اپنے مقصد کے ذریعے صدیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس سے اقبال ملتِ محمدیہ کے وعدۂ دوام کو عقلی اور تاریخی بنیاد دیتے ہیں۔ اگر ملت کو فرد کے پیمانے سے ناپا جائے تو وہ بھی فنا پذیر معلوم ہوگی، مگر اگر اسے اپنے حقیقی تقویم میں دیکھا جائے تو اس کی زندگی بالکل دوسری سطح پر کھلتی ہے۔
اجتماعی وقت کا فلسفہ:
یہ شعر اجتماعی وقت کی اہمیت کو سامنے لاتا ہے۔ ایک فرد جلدی مایوس ہو جاتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ اپنے مختصر تجربے کے اندر دیکھتا ہے۔ لیکن ملت کا شعور وسیع ہوتا ہے۔ وہ کئی نسلوں، کئی دوروں اور کئی آزمائشوں سے گزرتی ہے۔ اسی لیے اس کے فیصلے اور اس کی امید بھی زیادہ طویل المیعاد ہونی چاہیے۔
اقبال اس نکتے سے امت کی نفسیاتی تربیت کرتے ہیں کہ اسے اپنے حالیہ زخموں، اپنے موجودہ ضعف یا اپنی وقتی ناکامیوں کو آخری حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کا تقویم ان سب سے بڑا ہے۔
ملتِ محمدیہ پر انطباق:
ملتِ محمدیہ محض افراد کا ہجوم نہیں، بلکہ ایک روحانی و اخلاقی اجتماع ہے جسے وحی، رسالت، عبادت، شریعت اور مشترک مقصد نے جوڑا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی زندگی کا تقویم ایک فرد کی زندگی کی طرح مختصر نہیں ہو سکتا۔ اس میں نسلیں بدلتی ہیں، خطے بدلتے ہیں، زبانیں بدلتی ہیں، لیکن اصل ربط باقی رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال اس ملت کو تاریخ کے عام قومی تصورات سے بھی زیادہ پائیدار سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کی بنیاد زمین یا نسل نہیں بلکہ حق سے تعلق ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے فکری بحران کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم اجتماعی مسائل کو انفرادی صبر کی کم مدت میں حل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کا تقویم بڑا ہوتا ہے۔ ہمیں طویل المیعاد تعمیر، نسل در نسل تربیت، ادارہ سازی اور اصولی استقامت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ جو قوم اپنے تقویم کو پہچانتی ہے، وہ جلدبازی کی مایوسی میں مبتلا نہیں ہوتی۔
مثال
جیسے ایک درخت لگانے والا شخص جانتا ہے کہ وہ درخت شاید اس کی زندگی میں مکمل سایہ نہ دے، مگر آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی، ویسے ہی ملت کی تعمیر بھی اکثر ایک فرد کی محدود عمر سے بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق گزر جانے والے افراد کے مقابلے میں قوموں اور ملتوں کا زمانی پیمانہ کہیں زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ ملتِ محمدیہ کی بقا کو سمجھنے کے لیے اسے انفرادی عمر کے پیمانے سے نہیں بلکہ اس کے وسیع اجتماعی تقویم سے دیکھنا ہوگا۔