پیکرش از قوم و ہم جانش ز قوم
پیکرش از قوم و ہم جانش ز قوم
ظاہرش از قوم و پنہانش ز قوم
ترجمہ
اس (فرد) کے وجود کا سبب اور اس کی جان کا واسطہ قوم سے ہے۔ اس کا ظاہر بھی قوم سے ہے اور اس کا باطن بھی قوم ہی سے ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد کے ظاہر و باطن، جسم و جان، اور اس کے پورے وجود کو قوم سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو قوم سے جدا ہو کر قائم رہ سکے۔ شعر کے مطابق:
وجود اور جان کا رشتہ:
فرد کے جسم و جان کا تعلق قوم سے ہے۔ تنہا فرد اپنے ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس کا وجود قوم کے دامن ہی میں معنی رکھتا ہے۔
وہ جس ماحول میں جنم لیتا ہے، پرورش پاتا ہے اور زندگی گزارتا ہے، وہ سب قوم ہی کا عطا کردہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی جان کا سہارا اور اس کے وجود کا جواز، دونوں قوم سے ہیں۔
ظاہر کا سرچشمہ:
فرد کا رہن سہن، اس کی زبان، لباس اور طور طریقے، یہ سب قوم ہی سے ملتے ہیں۔ اس کا ظاہری روپ دراصل اس کی قوم کی پہچان ہوتا ہے۔
باطن کا سرچشمہ:
اسی طرح فرد کی سوچ، اس کی اقدار اور اس کے جذبات، یعنی اس کا باطن بھی قوم ہی کے سانچے میں ڈھلتا ہے۔ اس کے اندر کی دنیا بھی قوم کے اثرات سے تشکیل پاتی ہے۔
یوں فرد کا ظاہر اور باطن دونوں قوم کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، اور اس کا ہونا ہی قوم سے عبارت ہے۔
قوم سے مکمل وابستگی:
اقبال یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ فرد سراپا قوم کا مرہونِ منت ہے۔ اس کی انفرادیت بھی اسی اجتماعیت کی پیداوار ہے، اور اسی سے وہ اپنی تکمیل پاتا ہے۔
مثال
جیسے لہر کا وجود اور اس کی حرکت سمندر سے ہے، اور سمندر سے جدا ہو کر لہر کا کوئی الگ وجود باقی نہیں رہتا، ویسے ہی فرد کا ظاہر و باطن اور اس کا سارا وجود قوم ہی سے قائم ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال یہ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ فرد کا ظاہر اور باطن، جسم اور جان، سب قوم سے جُڑے ہوئے ہیں، اور اسی وابستگی سے اس کا وجود مکمل ہوتا ہے۔


