رخصت صد لالہ ی ناپایدار
رخصت صد لالہ ی ناپایدار
کم نسازد رونق فصل بہار
ترجمہ
سینکڑوں ناپائیدار لالوں کی رخصتی بھی موسمِ بہار کی رونق کو کم نہیں کرتی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت طاقتور اجتماعی اصول بیان کرتے ہیں۔ لالہ خوبصورت ہے، دلکش ہے، مگر ناپائیدار ہے۔ وہ کھلتا ہے، کچھ دیر جلوہ دکھاتا ہے، پھر رخصت ہو جاتا ہے۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اگر ایسے سینکڑوں لالے بھی چلے جائیں تو بہار کی رونق کم نہیں ہوتی۔ اس مثال کے ذریعے وہ ملت کی اس اجتماعی حقیقت کو بیان کرتے ہیں جو افراد کے فانی ہونے کے باوجود باقی رہتی ہے۔ ملت کا حسن کسی ایک فرد، ایک نسل یا ایک دور پر موقوف نہیں۔ اس کی اصل حیات ایک ایسی وسیع روح میں ہے جو مسلسل نئی صورتیں پیدا کرتی رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:
لالہ کی ناپائیداری:
لالہ حسن کا پھول ہے، مگر اس کی عمر کم ہے۔ اقبال اس نکتے کو چھپاتے نہیں بلکہ اسی کو دلیل بناتے ہیں۔ دنیا کی بہت سی خوبصورت چیزیں ناپائیدار ہوتی ہیں۔ اشخاص، جلوے، کامیابیاں اور دور سب ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ اس حقیقت سے گھبرا کر اگر کوئی ملت اپنی اصل امید ہی کھو دے تو وہ اپنی گہرائی کو نہیں پہچانتی۔
فانی ہونا بے قیمت ہونا نہیں، مگر فانی کو باقی سمجھ لینا فکری غلطی ہے۔ اقبال ہمیں حسن کی قدر بھی سکھاتے ہیں اور اس کی حد بھی بتاتے ہیں۔
رونقِ بہار کی وسعت:
فصلِ بہار کسی ایک لالے کا نام نہیں۔ یہ ایک جامع کیفیت ہے جس میں بے شمار رنگ، بے شمار نباتات اور بے شمار مظاہر شریک ہوتے ہیں۔ اقبال ملت کو بھی ایسی ہی حقیقت سمجھتے ہیں۔ کسی ایک طبقے، ایک شخصیت یا ایک تحریک کے چلے جانے سے اس کی اصل رونق ختم نہیں ہونی چاہیے، اگر اس کی بنیادیں سلامت ہوں۔
یہ وسعت ملت کے تصور کو اشخاص پرستی سے بچاتی ہے۔ اس سے امت اپنے آپ کو وسیع تر تاریخ، وسیع تر مقصد اور وسیع تر روح کے ساتھ جوڑتی ہے۔
فرد اور ملت کا فرق:
شعر کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ فرد ناپائیدار ہو سکتا ہے، مگر ملت کی زندگی اس سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ ایک لالہ مرجھا جاتا ہے، مگر بہار قائم رہتی ہے۔ ایک فرد رخصت ہو جاتا ہے، مگر ملت کے اندر نئے افراد جنم لیتے ہیں، نئی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور نئی خدمتیں سامنے آتی ہیں۔
اقبال اس فرق کو سمجھا کر اجتماعی شعور پیدا کرتے ہیں۔ جو قوم فرد اور ملت کے درجوں میں امتیاز نہ کرے وہ ہر رخصتی کو آخری شکست سمجھ بیٹھتی ہے۔
امید کا فلسفہ:
اس شعر میں امید کا ایک بالغ تصور موجود ہے۔ یہ امید جذباتی خوش فہمی پر نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی قانون پر مبنی ہے۔ قانون یہ ہے کہ جو حقیقت ایک بڑے اصول پر قائم ہو وہ افراد کے زوال سے نہیں ٹوٹتی۔ ملتِ محمدیہ کی بنیاد وحی، ذکرِ حق، اخلاقی مقصد اور روحانی ربط پر ہے، اس لیے اس کی رونق محض اشخاص کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔
یہ امید ہمیں ماتم سے نہیں، عمل سے جوڑتی ہے۔ جب ایک لالہ رخصت ہو تو باغ کی نگہبانی اور زیادہ ذمہ داری سے کرنی چاہیے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کو بار بار شخصی بحرانوں، قیادتی خلا اور وقتی زوالوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر سو لالے بھی رخصت ہو جائیں تو فصلِ بہار کی رونق باقی رہ سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اصول، تربیت، علم، ادارہ سازی اور روحانی بنیادوں کو زندہ رکھیں۔ اگر ہم صرف چہروں کو بچائیں گے تو مایوس ہوں گے، لیکن اگر ہم بہار کی اصل حفاظت کریں گے تو نئے لالے پھر کھلیں گے۔
مثال
جیسے ایک علمی روایت میں بڑے بڑے علماء گزر جاتے ہیں مگر علم کی روایت زندہ رہتی ہے، اور نئے اہلِ علم اسی چراغ سے روشنی لیتے رہتے ہیں، اسی طرح ملت کی رونق بھی کسی ایک یا کئی افراد کے چلے جانے سے ختم نہیں ہوتی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ لالوں کی ناپائیداری بہار کی رونق کو کم نہیں کرتی۔ اسی طرح ملت کی اجتماعی زندگی افراد کی فنا کے باوجود باقی رہتی ہے، کیونکہ اس کی اصل کسی ایک ظاہری جلوے سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔