رموز بے خودی

قوت ایمان حیات افزایدت

قوت ایمان حیات افزایدت

ورد «لا خوف علیہم» بایدت

ترجمہ

ایمان کی قوت تیری زندگی میں اضافہ کرتی ہے، اور تیرے لیے “لا خوف علیہم” کا ورد ضروری ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ایمان کے زندہ، افزائشی اور شفا بخش کردار کو بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایمان صرف اعتقاد نہیں، بلکہ وہ قوت ہے جو زندگی کو بڑھاتی، باطن کو توانائی دیتی، اور انسان کو خوف کے غلبے سے نکالتی ہے۔ اسی لیے وہ “لا خوف علیہم” کے قرآنی پیغام کو ایک دائمی ورد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

ایمان بطور قوت:

اقبال ایمان کو محض عقلی تصدیق یا موروثی شناخت نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک ایمان ایک زندہ قوت ہے، جو دل کی کیفیت، ارادے کی مضبوطی، عمل کی سمت اور نگاہ کی روشنی سب کو بدل دیتی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ایمان حیات میں اضافہ کرتا ہے، تو مراد یہ ہے کہ یہ انسان کی زندگی کو گہرا، بامعنی، توانا اور باوقار بنا دیتا ہے۔

ایسا شخص صرف سانس نہیں لیتا بلکہ مقصد کے ساتھ جیتا ہے۔ اس کی زندگی کے دن شاید وہی ہوں، مگر ان کے اندر کی حرارت، روشنی اور تاثیر بڑھ جاتی ہے۔

“لا خوف علیہم” کا پیغام:

یہ قرآنی پیغام انسان کو اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ جو بندے حق کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، انہیں ایسا خوف نہیں گھیرتا جو ان کی روح کو توڑ دے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مومن کو کبھی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، بلکہ یہ کہ وہ خوف اس کے ایمان، وقار اور راستے کو نہیں کھا جاتا۔ اقبال اسی لیے اسے ورد کہتے ہیں، یعنی دل میں بار بار اتارنے والی تعلیم۔

یہ ورد خوف کے خلاف داخلی ڈھال بن جاتا ہے۔ جب دل اسے دہراتا ہے تو اسے یاد رہتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق دنیا کے خطرات سے بڑا سہارا ہے۔

حیات افزائی کا راز:

ایمان انسان کو محض بچاتا نہیں، اسے بڑھاتا بھی ہے۔ وہ اس کی امید بڑھاتا ہے، اس کی قربانی کو معنی دیتا ہے، اس کی شکست کو سبق بناتا ہے، اور اس کے غم کو صبر میں بدلتا ہے۔ اسی لیے اقبال “حیات افزایدت” کہتے ہیں۔ یہ اضافہ صرف مقدار میں نہیں، کیفیت میں ہے۔

گویا ایمان زندگی میں نئی جان، نئی جہت اور نئی طاقت پیدا کرتا ہے۔ یہ باطن کی مردنی کو دور کر کے انسان کو اٹھنے، سوچنے اور کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

خوف کا روحانی علاج:

خوف اکثر انسان کو عمل سے روکتا، سوچ کو محدود کرتا، اور دل کو کمزور کرتا ہے۔ اقبال اس کے علاج کے لیے محض بہادری کا مصنوعی نعرہ نہیں دیتے، بلکہ ایمان کی بنیاد پر خوف سے آزادی سکھاتے ہیں۔ “لا خوف علیہم” انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل حفاظت، اصل عزت اور اصل انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔

یہ شعور دل سے غیر ضروری خوف کم کرتا ہے اور عمل کو آزاد کرتا ہے۔ انسان پھر بندوں، حالات اور نتائج کے جال میں اسی طرح نہیں الجھتا۔

ملت کے لیے پیغام:

ایک امت اگر خوف میں جینا سیکھ لے تو اس کی فکری، عملی اور تہذیبی قوت کم ہونے لگتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت کے مزاج میں ایمان کی ایسی حرارت آئے جو اس کے باطن کو دوبارہ توانا کرے۔ “لا خوف علیہم” کا اجتماعی مفہوم یہی ہے کہ ملت اپنے رب سے جڑ کر اپنے تاریخی خوف سے آزاد ہو اور دوبارہ حیات آفرین کردار ادا کرے۔

پس یہ شعر ایمان کو فرد کی زندگی کا سہارا اور امت کی تجدید کا سرچشمہ دونوں بنا دیتا ہے۔

مثال

ایک سپاہی جب جانتا ہو کہ اس کے پیچھے ایک مضبوط لشکر موجود ہے تو اس کے قدم اور اعتماد دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن جب اپنے رب کی مدد اور حفاظت پر یقین رکھتا ہے تو اس کی زندگی میں نئی قوت آتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ایمان زندگی کو بڑھانے والی قوت ہے، اور “لا خوف علیہم” اس کا حفاظتی ورد۔ یہی قرآنی شعور انسان کو خوف سے نکال کر باوقار، توانا اور بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button