طرح تدبیر زبون فرجام ریخت
طرح تدبیر زبون فرجام ریخت
این خسک در جاده ی ایام ریخت
ترجمہ
اس نے کمزور انجام والی ایک تدبیر کا نقشہ ڈالا، اور زمانے کی راہ میں یہ خس و خاشاک بکھیر دیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں اس سیاسی فکر کے انجام پر بات کرتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں انہوں نے بتایا تھا کہ اس نے باطل کو پرورش دی اور فریب کاری کو فن بنا دیا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ یہ ساری تدبیر بظاہر جتنی چمکدار تھی، انجام کے اعتبار سے اتنی ہی کمزور اور زبوں تھی۔ اس نے زمانے کے راستے میں ایسی رکاوٹیں بکھیر دیں جو انسانی سفر کو مشکل، خطرناک اور آلودہ کرنے والی تھیں۔ شعر کے مطابق:
طرح تدبیر:
تدبیر سے مراد وہ منظم سیاسی سوچ، وہ حساب کتاب، اور وہ چالاک حکمت ہے جس کے ذریعے اقتدار اور مصلحت کو سنبھالنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اقبال اس فکر کو محض نیت کے اعتبار سے نہیں، اس کے نتائج کے اعتبار سے بھی جانچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی عظیم حکمت نہ تھی، بلکہ ایسی تدبیر تھی جو اپنے انجام میں شکست، تھکن اور خرابی رکھتی تھی۔
تدبیر کی اصل عظمت اسی وقت ہے جب وہ اپنے انجام میں بھی خیر پیدا کرے۔
زبون فرجام:
زبون فرجام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس فکر کا انجام پست، کمزور، بے برکت اور شکست خوردہ ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ عرصے تک وہ کامیاب دکھائی دے، کچھ حکومتوں کو سہارا دے، یا کچھ قوموں کو فتوحات دلائے، مگر آخرکار وہ انسان کے باطن کو کھوکھلا، معاشرے کو مشتبہ، اور دنیا کو پیکار سے بھرا ہوا چھوڑتی ہے۔ اقبال کی نظر میں ایسی کامیابی حقیقت میں ناکامی ہے۔
انجام کی پستی وقتی چمک کو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
این خسک:
خسک یعنی خشک گھاس یا بے قیمت خار و خس۔ یہ تعبیر اس پوری فکری عمارت کی حقیقی قدر بتاتی ہے۔ جسے لوگ بڑا فلسفہ، طاقتور سیاست اور بالغ عقل سمجھ رہے تھے، اقبال اسے بالآخر بے قیمت اور راہ روکنے والے خس و خاشاک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یعنی اس میں نہ زندگی ہے، نہ ثمر، نہ پائیدار آبادی؛ صرف الجھاؤ، خشکی اور رکاوٹ ہے۔
کبھی کبھی جسے لوگ شاہکار سمجھتے ہیں، تاریخ اسے خس و خاشاک ثابت کر دیتی ہے۔
جاده ی ایام:
زمانے کی راہ سے مراد انسانی تاریخ کا سفر، تہذیب کی پیش رفت، اور نسلوں کا مشترک راستہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ خسک اسی راہ میں بکھیر دیا گیا، یعنی اس نے صرف اپنے عہد کو خراب نہیں کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے سفر کو بھی دشوار بنایا۔ جنگیں، بدگمانیاں، سفارتی فریب، ریاستی خود پرستی اور اخلاقی تقسیم سب اسی راہ میں بکھرے ہوئے خس کی مانند ہیں۔
خراب فکر اپنے عہد سے آگے جا کر بھی راہ گیروں کے پاؤں زخمی کرتی رہتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم بھی بہت سی ایسی پالیسیوں، نظریات اور سیاسی مہارتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں جو فوری طور پر بہت مؤثر لگتی ہیں، مگر ہمیں ان کا فرجام بھی دیکھنا چاہیے۔ کیا وہ اعتماد بڑھاتی ہیں یا بدگمانی؟ کیا وہ انسان کو بڑا کرتی ہیں یا اسے مفاد کا غلام بناتی ہیں؟ کیا وہ معاشرے کو آباد کرتی ہیں یا محض کچھ وقت کے لیے طاقت کو بچاتی ہیں؟ اقبال سکھاتے ہیں کہ ہر تدبیر کو اس کے آخری اخلاقی نتیجے سے پرکھو۔
اسلامی خودی ایسی تدبیر چاہتی ہے جو جادۂ ایام کو صاف کرے، نہ کہ اس میں خسک بکھیر دے۔
مثال
اگر کوئی سیاسی منصوبہ فوری طور پر حکومت کو مضبوط کر دے مگر معاشرے میں طویل مدت کی نفرت، تقسیم، بے اعتمادی یا مسلسل کشمکش چھوڑ جائے، تو وہی زبون فرجام تدبیر ہے جسے اقبال خسک کہتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق یہ سیاسی فکر اپنی چمک کے باوجود انجام کے لحاظ سے کمزور تھی۔ اس نے انسانی تاریخ کی راہ میں ایسی رکاوٹیں بکھیر دیں جو تہذیبی سفر کو دشوار اور آلودہ کرنے والی بن گئیں۔