رموز بے خودی

ذرۂ بی مایہ ضو گیرد ازو

ذرۂ بی مایہ ضو گیرد ازو

ہر متاعی ارج نو گیرد ازو

ترجمہ

ایک بے قیمت ذرہ بھی اس (کامل رہنما) سے روشنی پا لیتا ہے، اور ہر متاع اور چیز اس سے نئی قدر و قیمت حاصل کر لیتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما یعنی نبی کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو بے قیمت اور معمولی وجود کو بھی قدر و قیمت عطا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

بے قیمت ذرے کو روشنی:

اقبال کہتے ہیں کہ ایک بے قیمت اور معمولی ذرہ بھی اس رہنما کی صحبت اور رہنمائی سے روشنی اور چمک پا لیتا ہے۔ یعنی معمولی سے معمولی فرد بھی اس کی تربیت سے قابلِ قدر بن جاتا ہے۔

جو وجود پہلے بے حیثیت تھا، وہ رہنما کے فیض سے ایک نمایاں اور روشن حقیقت بن جاتا ہے۔

ہر چیز کو نئی قدر:

شاعر کہتے ہیں کہ ہر متاع اور چیز اس رہنما سے نئی قدر و قیمت حاصل کرتی ہے۔ یعنی اس کی رہنمائی ہر چیز اور ہر فرد کو ایک نیا مقام اور نئی اہمیت دیتی ہے۔

اس کے فیض سے بے قیمت چیزیں قیمتی اور معمولی افراد غیر معمولی بن جاتے ہیں، کیونکہ وہ ہر چیز کو اس کے اصل مقصد سے جوڑ دیتا ہے۔

قدر بخشنے کی قوت:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بے حیثیت کو حیثیت اور بے قیمت کو قیمت عطا کر دیتا ہے۔

رہنما کا فیض:

یہی فیض اور یہی نظر ہے جو ایک عام انسان کو بھی عظمت کے مقام پر پہنچا دیتی ہے اور اسے ملت کا قیمتی رکن بنا دیتی ہے۔

مثال

جیسے سورج کی روشنی پا کر ایک معمولی ذرہ بھی چمک اٹھتا ہے اور نمایاں ہو جاتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما کے فیض سے معمولی فرد بھی قابلِ قدر اور روشن بن جاتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما کے فیض سے بے قیمت ذرہ بھی روشنی پا لیتا ہے اور ہر چیز نئی قدر و قیمت حاصل کر لیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button