رموز بے خودی

آن فلارنساوی باطل پرست

آن فلارنساوی باطل پرست

سرمه ی او دیده ی مردم شکست

ترجمہ

وہ فلورنس کا باطل پرست شخص ایسا تھا کہ اس کے سرمے نے لوگوں کی بینائی ہی بگاڑ دی۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اس مخصوص مغربی مفکر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے وہ جدید سیاسی فریب کی نمایاں علامت سمجھتے ہیں۔ “فلارنساوی” سے مراد فلورنس کا وہ شخص ہے جس نے سیاست کو اخلاقی جواب دہی سے الگ کر کے اقتدار، چال اور مصلحت کی نئی زبان دی۔ اقبال اسے “باطل پرست” کہتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس کی فکر میں حق مرکز نہیں رہا۔ دوسرے مصرعے میں وہ کہتے ہیں کہ اس کے سرمے نے لوگوں کی آنکھ توڑ دی، یعنی اس نے بصیرت دینے کے بجائے نظر بگاڑ دی۔ شعر کے مطابق:

فلارنساوی کی نسبت:

کسی شخص کو اس کے شہر سے نسبت دے کر یاد کرنا صرف تاریخی اطلاع نہیں، بلکہ تہذیبی نشان دہی بھی ہے۔ فلورنس نشاۃِ ثانیہ کے ماحول، سیاسی چالاکی، اور طاقت کی نئی تعبیرات کا ایک اہم مرکز تھا۔ اقبال اس نسبت سے یہ دکھاتے ہیں کہ ایک خاص تاریخی فضا سے ایک ایسی فکر نکلی جس نے بعد میں پورے مغرب بلکہ دنیا کی سیاست پر اثر ڈالا۔

بعض شہر صرف عمارتیں نہیں پیدا کرتے، فکری مزاج بھی پیدا کرتے ہیں۔

باطل پرستی:

باطل پرست کہنا بہت معنی خیز ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ شخص محض غلط رائے رکھنے والا نہیں تھا، بلکہ اس کی سیاست میں حق کی مرکزیت سرے سے باقی نہیں رہی تھی۔ اگر کسی فکر میں طاقت کو حق پر، کامیابی کو دیانت پر، اور فائدے کو عدل پر ترجیح مل جائے تو وہ باطل پرستی ہے، چاہے زبان کتنی ہی ذہین اور نظام کتنا ہی منظم کیوں نہ دکھائی دے۔

باطل ہمیشہ کچے استدلال سے نہیں آتا، کبھی وہ نہایت پالش شدہ عقل کے ساتھ بھی آتا ہے۔

سرمه ی او:

سرمہ عموماً آنکھ کی زینت اور بینائی کی صفائی کے لیے ہوتا ہے۔ اقبال نے اسی استعارے کو الٹ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا سرمہ، یعنی اس کی فکر، اس کی سیاسی حکمت، اس کی تحریر، لوگوں کی آنکھ سنوارنے کے بجائے توڑ گئی۔ مطلب یہ کہ اس نے لوگوں کو حقیقت دیکھنے کے قابل نہیں کیا، بلکہ ان کی نگاہ کو ایسا بنا دیا کہ وہ ظلم کو تدبیر، فریب کو حکمت، اور بے اصولی کو کامیابی سمجھنے لگے۔

ہر چمک دینے والی چیز بینائی نہیں بڑھاتی، بعض اوقات وہ نگاہ ہی خراب کر دیتی ہے۔

دیده ی مردم شکست:

یہاں “دیده” ظاہری آنکھ نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت ہے۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ جب ایک پوری تہذیب کی نگاہ بدل جائے تو اس کے بعد وہ خیر و شر کو نئے پیمانوں سے ناپنے لگتی ہے۔ پھر طاقت ور کے جھوٹ کو حقیقت، کامیاب کے ظلم کو تدبیر، اور کمزور کے حق کو حماقت سمجھا جانے لگتا ہے۔ اسی کو اقبال نگاہ کا ٹوٹ جانا کہتے ہیں۔

بصیرت ٹوٹ جائے تو انسان راستے پر چلتے ہوئے بھی منزل سے دور ہوتا جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے فکری بیانیے اسی طرح کی سرمہ گری کرتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ اصول ثانوی ہیں، اصل چیز مؤثریت ہے؛ سچائی کم اہم ہے، اصل چیز اثر ہے؛ اخلاقی شفافیت کی ضرورت نہیں، بس نتیجہ حاصل ہونا چاہیے۔ اقبال کا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایسی چمکدار فکری کج بینی دراصل بصیرت کو توڑ دیتی ہے۔ ہمیں ہر ایسی فکر سے ہوشیار رہنا چاہیے جو نگاہ کے نام پر اندھیرا دیتی ہو۔

اسلامی خودی کو بینائی چاہیے، ایسا سرمہ نہیں جو نظر کو ہی باطل کے تابع کر دے۔

مثال

اگر کوئی رہنما یا مفکر لوگوں کو یہ سکھائے کہ وعدہ خلافی، فریب یا ظلم اس وقت درست ہو جاتا ہے جب اس سے اقتدار بچ جائے، تو وہ دراصل آنکھ میں ایسا سرمہ ڈال رہا ہے جو بصیرت کو صاف نہیں بلکہ خراب کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک فلورنس کے اس باطل پرست مفکر کی فکر نے لوگوں کی سیاسی اور اخلاقی بصیرت کو بگاڑ دیا۔ اس کی چمکدار حکمت نے حق دیکھنے والی آنکھ کو مضبوط نہیں بلکہ مجروح کیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button