رموز بے خودی

زانکه چون جمعیتش ازهم شکست

زانکه چون جمعیتش ازهم شکست

جز براه رفتگان محمل نبست

ترجمہ

کیونکہ جب اس کی جمعیت ٹوٹ گئی، تو اس نے اپنے محمل کو رفتگان کے راستے کے سوا کسی اور راہ پر نہ باندھا۔

تشریح

یہ شعر اس پورے سلسلے کی دلیل کو ایک واضح نتیجے تک پہنچا دیتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی بقا کا راز یہ تھا کہ جب ان کی جمعیت بکھر گئی، ان کا اجتماعی نظام ٹوٹ گیا، اور وہ مختلف خطوں میں منتشر ہو گئے، تب بھی انہوں نے اپنی سواری کو کسی نئی، خود ساختہ راہ پر نہ ڈالا بلکہ “راه رفتگان” یعنی اپنے اسلاف، انبیاء اور روایتی سانچے کے راستے سے وابستہ رکھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال انحطاط کے زمانے میں تقلید کی افادیت کو تاریخی مثال کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

جمعیت کا ٹوٹنا:

جمعیت کے ٹوٹنے سے مراد صرف سیاسی وحدت کا ختم ہونا نہیں، بلکہ قوم کے منتشر ہو جانے، باہمی ربط کے کمزور پڑنے، اجتماعی اقتدار کے زائل ہونے اور ایک مشترک قالب کے بیرونی طور پر ٹوٹنے کی حالت ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں قومیں بہت جلد اپنی شناخت بھی کھو سکتی ہیں۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ بنی اسرائیل اس مرحلے سے گزرے۔

یعنی عبرت کا مادہ اسی جگہ ہے: شدید پراگندگی کے بعد کون سا عمل قوم کو باقی رکھتا ہے۔

محمل باندھنے کی تعبیر:

“محمل” سفر، سمت اور اٹھائے جانے والے بوجھ کی علامت ہے۔ محمل باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ قوم اپنی اجتماعی حرکت کس راہ پر رکھتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان کی جمعیت جب شکستہ ہوئی تو انہوں نے اپنے سفر کی سمت کو بالکل آزاد اور منتشر نہیں چھوڑا، بلکہ اسے ایک پہچانے ہوئے راستے سے باندھے رکھا۔

یہ تعبیر بتاتی ہے کہ بقا محض جذبات سے نہیں، منظم سمت سے پیدا ہوتی ہے۔

راه رفتگان:

“راه رفتگان” سے مراد آباء، انبیاء، صالح اسلاف اور وہ آزمودہ دینی و تہذیبی راہ ہے جو ایک قوم کے لیے صدیوں کی تراش خراش کے بعد محفوظ ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک انحطاط کے دور میں یہی راستہ سب سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے، کیونکہ نئی راہیں اس وقت اکثر بے اصل تجربوں میں بدل جاتی ہیں۔

پس تقلید کا اصل معنی یہی ہے کہ بکھری ہوئی قوم اپنی سواری کو آباء کے راستے سے باندھے رکھے تاکہ صورت، سمت اور ربط باقی رہیں۔

اقبال کا مرکزی استدلال:

اس شعر کے ساتھ اقبال کی بات پوری طرح روشن ہو جاتی ہے: جب ملت کی تقویمِ حیات مضبوط نہ رہے، جب اجتہادی قوت کمزور ہو، اور جب جمعیت ٹوٹ رہی ہو، تب بے مہار اجتہاد سے زیادہ فائدہ آزمودہ راہ سے وابستگی میں ہے۔ یہ دائمی کمال نہیں، مگر انحطاط کے دور کی حکمت ہے۔ بنی اسرائیل کی مثال اسی اصول کی تاریخی شہادت بن جاتی ہے۔

گویا تقلید یہاں اندھی پیروی نہیں بلکہ شکستہ جمعیت کے لیے حفاظتی بندھن ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے مختلف حصے جغرافیہ، سیاست، فرقہ واریت، زبان اور جدید دباؤ کی وجہ سے بکھرے ہوئے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر ہر گروہ اپنا الگ راستہ، اپنی الگ بنیاد اور اپنی الگ تعبیر گھڑنے لگے تو پراگندگی اور بڑھتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ پہلے محمل کو راه رفتگان سے باندھو، تاکہ سفر کی سمت ضائع نہ ہو۔

یہی ربط بعد میں زندہ اجتہاد کے لیے بنیاد بن سکتا ہے، مگر ابتدائی شرط بقا اور جمعیت کی حفاظت ہے۔

مثال

جیسے طوفان میں بکھرا ہوا قافلہ اگر کم از کم پرانے نشانِ راہ کو تھام لے تو منزل تک پہنچنے کی امید باقی رہتی ہے، ویسے ہی شکستہ قوم کو بھی آزمودہ راستے سے اپنا محمل باندھنا پڑتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بنی اسرائیل کی بقا کا راز واضح کرتے ہیں: جمعیت ٹوٹنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی راہ رفتگان سے وابستگی قائم رکھی۔ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ انحطاط کے دور میں تقلید اجتماعی بقا کی ایک گہری حکمت بن سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button