بود بحر تلخ رو یک ساده دشت
بود بحر تلخ رو یک ساده دشت
ساحلی ورزید و از شرم آب گشت
ترجمہ
یہ کڑوا مزاج سمندر بھی کبھی ایک سادہ میدان تھا؛ اس نے ساحل آزما حرکت اختیار کی اور اپنی کمی کے احساس سے پانی بن گیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں بیقرانی کے سبق کو ایک نئے استعارے سے سمجھاتے ہیں۔ پچھلے شعر میں وہ کہہ چکے تھے کہ نہر کی طرح بارش پر منحصر نہ رہو بلکہ خود بیکراں بنو۔ اب وہ بتاتے ہیں کہ سمندر جیسی عظمت بھی ابتدا ہی سے تیار صورت میں نہیں ملتی۔ وہ بھی کسی مرحلے پر ایک “سادہ دشت” تھا۔ یعنی ہر وسعت کی جڑ میں ایک ابتدائی کمی، ایک خام صورت، اور اپنے حال سے بے اطمینانی کی آگ موجود ہوتی ہے۔ یہی بے اطمینانی آگے بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔ شعر کے مطابق:
بحر تلخ رو:
سمندر کو “تلخ رو” کہنا بہت معنی خیز ہے۔ سمندر کی وسعت میں شیرینی سے زیادہ جلال، سختی، گہرائی اور آزمائش ہے۔ اقبال گویا بتاتے ہیں کہ بڑائی ہمیشہ نرم اور آسان راستے سے نہیں آتی۔ جو چیز عظیم ہوتی ہے اس میں تحمل، سختی برداشت کرنے کی قوت، اور اپنی اندرونی وسعت کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔
وسعت اگر واقعی ہو تو اس میں آرام سے زیادہ وزن اور ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔
یک ساده دشت:
“سادہ دشت” اس ابتدائی حالت کی علامت ہے جہاں امکانات تو موجود ہوتے ہیں مگر ابھی وہ کھلے نہیں ہوتے۔ میدان پھیلا ہوا تو ہوتا ہے، مگر اس میں گہرائی، موج، حرکت اور حیات کی وہ کثافت نہیں ہوتی جو سمندر کا وصف ہے۔ اقبال اس سے یہ سبق دیتے ہیں کہ کسی معمولی آغاز سے شرمانا نہیں چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی اپنی موجودہ سادگی پر قانع رہتا ہے یا اسے نقطۂ آغاز بنا کر آگے بڑھتا ہے۔
بڑی حقیقتیں اکثر خام اور غیر نمایاں ابتداء سے جنم لیتی ہیں۔
ساحلی ورزید:
یہاں “ساحلی ورزیدن” کو ہم ایک ایسی تربیت کے طور پر سمجھ سکتے ہیں جس میں وسعت اپنے کناروں سے ٹکراتی ہے، اپنی حدوں کو پہچانتی ہے، اور حرکت میں آتی ہے۔ ساحل سمندر کی حد بھی ہے اور اس کے اظہار کی جگہ بھی۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ جس وجود میں اپنی حد سے نبرد آزما ہونے کی ہمت آ جائے وہ آہستہ آہستہ نئی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
حد کو پہچاننا اگر جمود نہ بنے تو وہی حد ترقی کی مشق بن جاتی ہے۔
از شرم آب گشت:
اس مصرعے میں “شرم” تخلیقی شرم ہے، ذلت نہیں۔ یعنی اپنی بے حاصلی، اپنی سطحیت، یا اپنی کمی کا ایسا احساس جو انسان کو بدلنے پر مجبور کر دے۔ میدان نے اپنی سادگی پر شرم کی، اس لیے پانی بن گیا۔ اقبال کے نزدیک خودی کی پختگی میں یہ احساس بہت اہم ہے کہ آدمی اپنے موجودہ درجے کو آخری نہ سمجھے۔ یہی باطنی شرم اسے جمود سے حرکت اور محدودیت سے وسعت کی طرف لے جاتی ہے۔
جو اپنے نقص پر بیدار ہو جائے، وہی نئے وجود کی طرف سفر کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے افراد اور جماعتیں اپنی موجودہ کم حالی یا محدود حالت کو تقدیر سمجھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ اقبال کا شعر کہتا ہے کہ اپنے حال پر مطمئن نہ ہو جاؤ۔ اگر تم میں سچی حیاء اور بیداری ہے تو تمہاری موجودہ سادگی بھی تمہیں بڑی صورت میں بدل سکتی ہے۔ اپنی کوتاہی کو بہانہ نہ بناؤ، اسے ایندھن بناؤ۔
اسلامی خودی اپنی خام حالت پر پردہ نہیں ڈالتی، بلکہ اسے عبور کرنے کی شرم اور ہمت پیدا کرتی ہے۔
مثال
ایک طالب علم ابتدا میں عام درجے کا ہو سکتا ہے، مگر جب اسے اپنی علمی سطح کی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہ مسلسل محنت، مطالعے اور تربیت کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا شروع کرتا ہے تو وہی سادہ ابتدا بڑے علمی ظرف میں بدل سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق وسعت پیدا شدہ شے ہے، پیدائشی تیار سرمایہ نہیں۔ سمندر بھی ایک سادہ دشت سے بنا؛ یعنی جو اپنے نقص کو محسوس کر کے حرکت اختیار کرے وہ محدود حالت سے نکل کر گہرائی اور بیقرانی حاصل کر سکتا ہے۔