رموز بے خودی

بوی گل از ترک گل جولانگر است

بوی گل از ترک گل جولانگر است

در فراخای چمن خود گسترست

ترجمہ

پھول کی خوشبو اسی وقت جولان کرتی ہے جب وہ پھول سے نکلتی ہے، اور باغ کی فراخی میں خود کو پھیلا دیتی ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اپنی پچھلی تمام باتوں کو نہایت لطیف استعارے میں سمیٹ دیتے ہیں۔ خوشبو جب تک پھول کے اندر بند ہے، اس کا اثر محدود ہے؛ مگر جب وہ نکلتی ہے تو پورے چمن میں پھیل جاتی ہے۔ یہی خودی، یہی ملت، یہی فکر، یہی خیر کی مثال ہے۔ اگر وہ ایک چھوٹے ظرف، ایک محدود مقام، یا ایک تنگ نسبت میں بند رہے تو اس کی تاثیر کم رہتی ہے۔ وسعت تب پیدا ہوتی ہے جب اصل جوہر اپنے خول سے نکل کر بڑے میدان میں سفر کرے۔ شعر کے مطابق:

بوی گل:

خوشبو اصلِ گل کا لطیف ترین اظہار ہے۔ پھول کی رنگت نظر آتی ہے، مگر خوشبو اس کی باطنی تاثیر ہے۔ اقبال یہاں خوشبو کو اس خیر، جمال، فکر اور روحانی تاثیر کا استعارہ بناتے ہیں جو کسی زندہ وجود کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تمہارے اندر خوبی ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ وہ خوبی دوسروں تک پہنچ رہی ہے یا نہیں۔

جوہر اگر اثر نہ بنے تو اپنی تکمیل تک نہیں پہنچتا۔

ترکِ گل:

یہاں “ترک” سے مراد اصل کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اپنے تنگ قالب سے باہر آنا ہے۔ خوشبو پھول سے جدا ہو کر پھول کے خلاف نہیں جاتی؛ بلکہ اسی کی حقیقت کو زیادہ وسیع پیمانے پر ظاہر کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی بھی جب اپنے محدود خول سے باہر نکلتی ہے تو وہ اپنی حقیقت کھوتی نہیں، بلکہ اسے پھیلاتی ہے۔

بعض اوقات حفاظت کے نام پر جوہر کو بند رکھنا دراصل اس کی تاثیر کو مار دینا ہوتا ہے۔

جولانگر است:

جولان میں حرکت، آزادی اور شادابی ہے۔ خوشبو ساکت نہیں رہتی؛ وہ چلتی ہے، پھیلتی ہے، چھوتی ہے، اور محسوس کی جاتی ہے۔ اقبال کی پسندیدہ خودی بھی یہی ہے: متحرک، سرایت کرنے والی، زندگی بخش اور وسعت آشنا۔ اگر تمہارے اندر خیر ہے مگر وہ کبھی دائرہ نہیں توڑتی تو وہ ابھی پوری طرح زندہ نہیں ہوئی۔

زندہ تاثیر اپنے حصار میں خاموش نہیں پڑی رہتی، وہ سفر کرتی ہے۔

فراخای چمن میں خود گستر ہونا:

چمن کی فراخی اجتماعی فضا، دنیا کا وسیع میدان، اور انسانیت کے کھلے ماحول کی علامت ہے۔ خوشبو جب وہاں پھیلتی ہے تو اپنی موجودگی سب کے لیے بنا دیتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ ملت، علم، اخلاق اور دعوت کو بھی اسی طرح پھیلنا چاہیے۔ تنگ خانقاہی، محدود گروہی پن یا خود پرستی میں بند رہ کر اثر پیدا نہیں ہوتا۔

اصل وسعت تب ہے جب تمہارا خیر تمہارے حلقے سے نکل کر وسیع ماحول کی غذا بنے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ اپنی خوبیوں، علم، دینی شعور یا اخلاقی توانائی کو صرف اپنے محدود حلقے تک رکھتے ہیں۔ اقبال کا شعر کہتا ہے کہ اگر تمہارے اندر واقعی کوئی نور، کوئی خیر، کوئی حسن، کوئی حکمت ہے تو اسے چمن کی فراخی تک لے جاؤ۔ اپنے اصل سے جدا ہوئے بغیر اپنی تاثیر کو وسیع کرو۔ یہی خودی کی زندگی اور امت کی خدمت ہے۔

اسلامی خودی بند کلی نہیں رہتی؛ وہ کھلتی ہے، مہکتی ہے اور پھیلتی ہے۔

مثال

ایک اچھا خیال اگر صرف ذاتی نوٹ بک میں بند رہے تو اس کا فائدہ محدود ہوتا ہے، مگر جب وہ تدریس، تحریر، تربیت یا خدمت کے ذریعے دوسروں تک پہنچتا ہے تو وہی خوشبو بن کر کئی دلوں اور ذہنوں کو معطر کر سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق اصل جوہر کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے تنگ قالب سے نکل کر وسیع میدان میں اثر پیدا کرے۔ خوشبو کی طرح خودی، فکر اور خیر بھی پھیلنے میں اپنی حقیقی زندگی پاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button