مستحب را فرض گرادنیده اند
مستحب را فرض گرادنیده اند
زندگی را عین قدرت دیده اند
ترجمہ
انہوں نے مستحب کو فرض نہیں بنا دیا، کیونکہ انہوں نے زندگی کو سراسر قوت کے طور پر دیکھا تھا۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کی حکمت کو کھول دیتا ہے۔ علامہ اقبال بتاتے ہیں کہ اہلِ شریعت نے مستحب اعمال کو فرض نہیں بنا دیا، کیونکہ ان کی نظر میں زندگی “عین قدرت” تھی۔ یعنی وہ جانتے تھے کہ امت کی زندگی کو وسعت، طاقت، حرکت اور توازن کی ضرورت ہے۔ اگر ہر پسندیدہ چیز کو لازمی بوجھ بنا دیا جائے تو شریعت کی حکمت، اس کی مراتب بندی، اور زندگی کی قوت سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس شعر کے ذریعے اقبال ایک نہایت باریک مگر بہت بڑے اصول کی طرف توجہ دلاتے ہیں: دین کا مقصد طاقت ور، زندہ اور متوازن انسان و ملت بنانا ہے، نہ کہ ایسا بوجھ پیدا کرنا جس سے جان مضمحل ہو جائے۔ شعر کے مطابق:
مستحب کو فرض نہ بنانا:
شریعت نے اعمال کے درجات مقرر کیے ہیں، اور یہی درجہ بندی اس کی حکمت کا حصہ ہے۔ مستحب وہ ہے جو باعثِ اجر ہے مگر لازم نہیں۔ اگر کوئی آدمی، جماعت یا فکری مزاج اس کو فرض کی سطح پر لے آئے تو وہ شریعت کے اصل توازن کو بدل دیتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اکابر نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے پسندیدہ اور ضروری کے فرق کو باقی رکھا، کیونکہ وہ دین کے مزاج کو سمجھتے تھے۔
یہ فرق محض فقہی باریکی نہیں بلکہ رحمت، وسعت اور تربیت کا اصول ہے۔
مراتب کی حکمت:
فرض، واجب، سنت اور مستحب کے درجات اس لیے ہیں کہ انسان کی بندگی منظم بھی رہے اور اس کی طاقت بھی محفوظ رہے۔ ہر چیز کو ایک ہی درجے میں ڈال دینے سے یا تو آدمی تھک جاتا ہے، یا نفسیاتی بوجھ میں آ جاتا ہے، یا دین کا ذوق خوف اور جھگڑے میں بدل جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک شریعت کی اصل دانائی یہ ہے کہ اس نے خیر کے میدان کو کھلا رکھا مگر لازمی بوجھ کو محدود رکھا۔
اسی میں فرد کی تربیت بھی ہے اور ملت کی بقا بھی۔
زندگی عین قدرت ہے:
اس مصرعے میں اقبال کا بڑا اصول سامنے آتا ہے۔ زندگی ان کے ہاں جمود، ضعف یا بے جان رسم کا نام نہیں؛ زندگی قدرت ہے، حرکت ہے، اثر ہے، نمو ہے، اور وجود کی بیدار توانائی ہے۔ جس شریعت کی حکمت الٰہی ہو، وہ ایسی چیز نہیں بنا سکتی جو حیات کی قوت کو بے وجہ کمزور کرے۔ اس لیے اہلِ فہم جانتے تھے کہ لازم اور غیر لازم میں فرق رکھنا زندگی کی تقویت کے لیے ضروری ہے۔
گویا دین کا اصل مزاج طاقت کو سنوارنا ہے، نہ کہ اسے بے محل بوجھ سے گھٹانا۔
سختی اور قوت کا فرق:
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ سختی، زیادہ پابندی اور زیادہ تنگی ہی زیادہ دینداری ہے۔ اقبال اس خیال کی اصلاح کرتے ہیں۔ قوت اور سختی ایک چیز نہیں ہیں۔ سختی کبھی کبھی طاقت گھٹا دیتی ہے، جبکہ حکمت طاقت کو محفوظ رکھتی ہے۔ جب مستحب کو فرض بنا دیا جاتا ہے تو شریعت کی حکیمانہ وسعت سکڑ جاتی ہے، اور لوگ اصل فرائض کے ساتھ بھی تھکن یا بے رغبتی محسوس کرنے لگتے ہیں۔
اس لیے اقبال کی نظر میں حیاتِ دینی کے لیے مراتب کی حفاظت بھی ایک طاقت ور اصول ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج دینی ماحول میں بعض اوقات ایسی فضائیں بنتی ہیں جہاں اختیاری اعمال کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے ان کے بغیر آدمی ناقص یا ملامت کا مستحق ہو۔ اس سے بہت سے لوگ دین کے حسن کے بجائے اس کے بوجھ کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اکابر نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ وہ زندگی کو قوت سمجھتے تھے۔ دین کی حکمت لوگوں کو اٹھاتی ہے، تھکاتی نہیں۔
یہ شعر خاص طور پر اہلِ دعوت، اہلِ منبر اور اہلِ تربیت کے لیے بڑی تنبیہ رکھتا ہے۔
مثال
جیسے ایک اچھا معلم طالب علم کو اضافی مشق کی ترغیب تو دیتا ہے مگر ہر اضافی چیز کو لازمی بوجھ نہیں بنا دیتا، ویسے ہی شریعت کی حکمت پسندیدہ اور فرض کے درمیان فرق باقی رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ اہلِ حکمت نے مستحب کو فرض نہیں بنایا، کیونکہ ان کی نگاہ میں زندگی قوت اور توازن کا نام تھی۔ شریعت کے مراتب کی حفاظت امت کی روحانی اور اجتماعی طاقت کو محفوظ رکھتی ہے۔
