پس چرا از مسکن آبا گریخت
پس چرا از مسکن آبا گریخت
تو گمان داری که از اعدا گریخت
ترجمہ
پھر وہ اپنے آبائی مسکن سے کیوں نکلے؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ دشمنوں سے بھاگے تھے؟
تشریح
یہ شعر اقبال کے استدلال کا براہِ راست سوالیہ نقطہ ہے۔ پچھلے اشعار میں وہ رسول اکرم کے قرآن میں ستودہ مقام، الٰہی حفاظت، نبوی ہیبت اور فطرت کے جلال کو سامنے لا چکے ہیں۔ اب وہ قاری سے سوال کرتے ہیں: پھر ہجرت کا مطلب کیا تھا؟ کیا واقعی تمہارا خیال ہے کہ حضور اپنے دشمنوں سے ڈر کر نکلے؟ یہ سوال دراصل ایک غلط تاریخی شعور پر تنقیدی ضرب ہے۔ شعر کے مطابق:
مسکنِ آبا:
آبائی مسکن انسان کے لیے صرف ایک جگہ نہیں ہوتا، بلکہ یاد، رشتہ، محبت، تاریخ اور پہچان کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ مکہ رسول اکرم کے لیے صرف ایک شہر نہ تھا، بلکہ طفولیت، خاندان، قوم اور بیت اللہ کی نسبت سے بھرا ہوا مقام تھا۔ اس سے نکلنا کوئی ہلکا فیصلہ نہیں تھا۔ اقبال اسی حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ ایسی جگہ چھوڑنا اگر ہوا تو یقیناً کسی بہت بڑی حکمت کے تحت ہوا۔
جو چیز محبوب ہو، اسے چھوڑنا تبھی ممکن ہوتا ہے جب اس سے بڑا محبوب سامنے ہو۔
گریختن کا سوال:
“گریخت” کا لفظ جان بوجھ کر سوالیہ لہجے میں لایا گیا ہے تاکہ سطحی تصور ٹوٹے۔ اقبال گویا قاری کو چونکاتے ہیں: کیا تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ نبوت جیسی عظمت دشمن کے خوف سے راہ متعین کرتی ہے؟ نہیں، ظاہری منظر ایسا لگ سکتا ہے، مگر باطنی حقیقت اس سے کہیں بلند ہے۔
اقبال کے سوال کا جواب سوال کے اندر ہی پوشیدہ ہے: نہیں، یہ فرار نہ تھا۔
اعدا سے نہ گریخت:
دشمن اپنی جگہ موجود تھے، ان کی ایذا بھی سچ تھی، مگر ہجرت کا معنی یہ نہ تھا کہ دشمن مقصد طے کر رہے تھے۔ ہجرت کی سمت وحی، حکمت، امت سازی اور تاریخ کی نئی تعمیر نے طے کی۔ دشمن سبب بن سکتے ہیں، مگر نبوی فعل کی اصل تعبیر نہیں بن سکتے۔
حق کے آدمی کے فیصلے کا مرکز باہر کا دباؤ نہیں، اندر کا الٰہی مقصد ہوتا ہے۔
سوال کی تربیتی قوت:
اقبال صرف معلومات نہیں دے رہے، وہ سوچنے کا طریقہ بدل رہے ہیں۔ بعض سچائیاں سیدھے جواب سے کم اور بیدار کن سوال سے زیادہ کھلتی ہیں۔ یہ شعر بھی ایسا ہی ہے۔ وہ ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ سیرت کو صرف ظاہری واقعات کی سطح پر نہ پڑھو، بلکہ ان کے پیچھے کارفرما مقصد، حکمت اور روحانی مرکزیت کو دیکھو۔
جب سوال صحیح ہو جائے تو تاریخ کی تعبیر بھی بدلنے لگتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے لوگ مسلمانوں کی نقل و حرکت، سیاسی فیصلوں یا دینی جدوجہد کو صرف کمزوری، دباؤ یا ردِ عمل کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ ہر نقل مکانی، ہر پسپائی یا ہر ظاہری ہٹنا شکست نہیں ہوتا۔ کبھی وہ ایک بڑی تعمیر، نئے مرحلے اور بہتر غلبے کی تیاری بھی ہوتا ہے۔
اسلامی خودی کو اپنی تاریخ اس نگاہ سے پڑھنی چاہیے جو ظاہر کے پیچھے پوشیدہ مقصد کو دیکھ سکے۔
مثال
کبھی ایک اصولی آدمی کسی جگہ سے ہٹ جاتا ہے، مگر اس کا مقصد جان بچانا نہیں بلکہ اپنے مشن کے لیے زیادہ صحیح میدان اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ظاہری نظر اسے پیچھے ہٹنا سمجھے گی، مگر حقیقت میں وہ آگے بڑھنے کی تیاری ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ رسول اکرم کی ہجرت کو دشمن کے خوف سے جوڑ کر سمجھنا غلط ہے۔ آبائی مسکن سے نکلنا ایک عظیم حکمت اور نئی امت سازی کے مقصد کے تحت تھا، نہ کہ محض فرار کے طور پر۔