خوش نیامد شاه را تعمیر او
خوش نیامد شاه را تعمیر او
خشمگین گردید از تقصیر او
ترجمہ
اس کی تعمیر بادشاہ کو پسند نہ آئی، اور وہ اس کی کوتاہی پر غضب ناک ہو گیا۔
تشریح
یہاں حکایت اچانک ایک نازک موڑ لیتی ہے۔ ابھی تک مسجد، فن اور خدمت کی بات تھی، اب اقتدار کا غصہ سامنے آتا ہے۔ اقبال بہت سادہ الفاظ میں یہ دکھاتے ہیں کہ جب طاقت اخلاقی ضبط سے خالی ہو جائے تو ذوق کا اختلاف بھی ظلم کا دروازہ بن سکتا ہے۔ شاہ کو تعمیر پسند نہیں آئی، لیکن مسئلہ صرف ناپسندیدگی نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اس ناپسندیدگی نے غضب کی شکل اختیار کر لی۔ شعر کے مطابق:
ذوق اور عدل کا فرق:
کسی بادشاہ یا صاحبِ اختیار کو کسی کام میں نقص نظر آ سکتا ہے۔ یہ انسانی بات ہے۔ مگر اسلامی اخلاق یہ تقاضا کرتا ہے کہ ذوقی ناپسندیدگی کو عدالتی حکم نہ بنا دیا جائے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ جب ذاتی مزاج اور سرکاری قوت آپس میں گڈمڈ ہو جائیں تو انصاف خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
یعنی مسئلہ تعمیر کا نقص نہیں، ردعمل کی بے اعتدالی ہے۔
غصہ بطور سیاسی بیماری:
“خشمگین گردید” میں صرف ایک نفسی کیفیت نہیں، پورا سیاسی خطرہ پوشیدہ ہے۔ حاکم کا غصہ عام آدمی کے غصے جیسا نہیں ہوتا؛ اس کے ہاتھ میں قوت، حکم اور سزا کے وسائل ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر اس کے اندر حلم نہ ہو تو اس کا ایک لمحہ دوسروں کی پوری زندگی بگاڑ سکتا ہے۔ اقبال اس شعر میں اقتدار کی اخلاقی تربیت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
جس تخت کے ساتھ ضبط نہ ہو، وہ تخت جلد ظلم کا وسیلہ بن جاتا ہے۔
تقصیر کا مفہوم:
شعر میں “تقصیر” آیا ہے، مگر اقبال فوری طور پر یہ ثابت نہیں کرتے کہ واقعی تقصیر تھی یا نہیں۔ اس ابہام میں بڑی حکمت ہے۔ بہت سے ظلم ایسے ہوتے ہیں جن میں اصل جرم ثابت نہیں ہوتا، مگر طاقت ور شخص اپنی ناراضی ہی کو ثبوت سمجھ لیتا ہے۔ گویا اقبال ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ دعویٰ اور حقیقت ایک چیز نہیں ہوتے۔
یہی سبب ہے کہ بعد میں قاضی کی عدالت ضروری بنے گی۔
مسجد کے پس منظر میں غصہ:
قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ غصہ ایک مسجد کی تعمیر کے معاملے میں پیدا ہو رہا ہے۔ یعنی مقدس مقصد بھی ظالم مزاج کو خود بخود پاک نہیں کر دیتا۔ اگر دل میں عدل نہ ہو تو دینی خدمت کے نام پر بھی دنیاوی تکبر کام کرتا رہتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلام کی روح محض مسجد بنانے سے نہیں، مسجد کے معاملے میں بھی عدل کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
یہ حکایت ظاہری دین داری اور باطنی اخلاق کے فرق کو کھولتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے اداروں میں بھی کئی بار کوئی سینئر، افسر یا سربراہ اپنی ناپسند کو اصول بنا لیتا ہے۔ تب غلطی کی اصلاح کے بجائے ذلت، غصہ اور انتقام کا ماحول بنتا ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ذمہ داری جتنی بڑی ہو، تحمل بھی اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے۔ اختلاف یا خامی کی جانچ قانون، معیار اور حکمت سے ہونی چاہیے، غصے سے نہیں۔
اسلامی مساوات کا مطلب یہ بھی ہے کہ طاقت ور کا مزاج کمزور کے حق کو نگل نہ جائے۔
مثال
اگر کسی ادارے کا سربراہ ایک معمولی نقص پر کسی ماتحت کو سب کے سامنے ذلیل کر دے یا اس کا روزگار برباد کر دے تو مسئلہ صرف کام کی کمی نہیں رہتا، بلکہ طاقت کا غلط استعمال بن جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ذاتی ناپسند جب اقتدار کے غصے سے مل جائے تو انصاف خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ طاقت ردعمل میں بھی اپنے اوپر قانون اور اخلاق کی حد قائم رکھے۔