رموز بے خودی

آن مقامش برتر از چرخ بلند

آن مقامش برتر از چرخ بلند

نامدش نسبت به اقلیمی پسند

ترجمہ

اس کا مقام بلند آسمان سے بھی برتر تھا، اس لیے اسے کسی ایک خطے یا اقلیم کے ساتھ وابستہ کرنا مناسب نہ تھا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ رسالت کی آفاقیت کو نہایت جلال اور لطافت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ دکھا چکے ہیں کہ ملت کی اصل حقیقت کسی خاص سرزمین میں محصور نہیں۔ اب وہ اس وحدت کے سرچشمے کی طرف لوٹتے ہیں: وہ ہستی جس کی رسالت نے ملت کو اقلیمی حدود سے اوپر اٹھایا۔ اقبال کہتے ہیں کہ حضور کا مقام اتنا بلند تھا کہ اسے کسی ایک جغرافیے، نسل، قوم یا تہذیبی دائرے میں محدود سمجھنا خود رسالت کی حقیقت کو گھٹا دینا ہے۔ شعر کے مطابق:

مقام کی بلندی:

“چرخ بلند” فارسی شاعری میں عروج، رفعت اور بلند ترین ظاہری سطح کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حضور کا مقام اس چرخ سے بھی برتر ہے۔ اس سے مراد صرف تعظیم آمیز مبالغہ نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ نبوت کا سرچشمہ زمین سے نہیں، وحی سے ہے۔ جو ہستی آسمان والوں کے لیے بھی مرکزِ ادب ہو، اس کی عظمت کو محض دنیاوی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔

رسول کا مقام تاریخ میں ظاہر ہوا، مگر اس کی اصل نسبت ماورائے تاریخ حقیقت سے ہے۔

اقلیم کی حد بندی:

اقلیم یہاں محض جغرافیہ نہیں بلکہ ہر وہ محدود خانہ ہے جس میں انسان کسی عظیم حقیقت کو قید کرنے لگتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ کہنا کہ حضور صرف عرب کے لیے تھے، یا ان کی دعوت کسی خاص زمانے یا ماحول تک محدود تھی، رسالت کے معنی کو تنگ کرنا ہے۔ عرب ان کے ظہور کا میدان تھا، مگر رسالت کا دائرہ اس میدان سے بہت بڑا تھا۔

جس پیغام کی بنیاد توحید ہو، وہ خود بخود ہر سرحد سے بڑا ہو جاتا ہے۔

نسبتِ اقلیمی کیوں ناپسند ہے:

“نامدش نسبت به اقلیمی پسند” میں اقبال کا زور اس بات پر ہے کہ حضور کے ساتھ اقلیمی نسبت کو اصل سمجھنا درست نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عرب کی تاریخی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ کہ عرب رسالت کی جائے پیدائش ہے، رسالت کی حد نہیں۔ اسلام میں مرکز مکہ و مدینہ ہیں، مگر ان کا مرکز ہونا جغرافیائی تنگی نہیں، روحانی کشش کی علامت ہے۔

یعنی مرکز ہوتا ہے، مگر مرکز دیوار نہیں بنتا؛ وہ دائرہ وسیع کرتا ہے۔

ملت کی آفاقیت کا سرچشمہ:

امت اس لیے غیر اقلیمی ہے کہ اس کے نبی غیر اقلیمی مقام کے حامل ہیں۔ اگر حضور کا پیغام کسی ایک قوم کے ساتھ خاص ہوتا تو ملت بھی قومی رنگ میں محدود رہتی۔ مگر جب رسالت عالمگیر ہے تو اس سے بننے والی امت بھی اصولاً عالمگیر ہوتی ہے۔ اقبال اسی ربط کو سمجھانا چاہتے ہیں: ملت کی بے حدی نبی کے مقام کی بے حدی سے نکلتی ہے۔

اس نسبت کو بھول کر مسلمان جب صرف قومی خانوں میں بند ہوتے ہیں تو اپنی اصل روحانی ساخت سے دور ہو جاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج کئی لوگ دین کو ثقافتی شناخت، قومی روایت یا کسی محدود تاریخی طرزِ زندگی تک سمیٹ کر دیکھتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اسلام کی اصل طاقت اس کی آفاقیت میں ہے، اور یہ آفاقیت حضور کے مقام سے نکلتی ہے۔ اگر ہم ان کی تعلیم کو صرف ایک قوم کے ماضی کے طور پر پڑھیں گے تو اس کی زندہ تاثیر کھو دیں گے۔ اگر اسے انسانیت کے لیے الٰہی پیغام سمجھیں گے تو اس کی وسعت دوبارہ محسوس ہوگی۔

رسولِ اکرم کی نسبت ہمیں اپنے مقامی ماحول سے کاٹتی نہیں، بلکہ اسے ایک بڑے اخلاقی افق سے جوڑ دیتی ہے۔

مثال

جیسے سورج کسی ایک شہر میں طلوع ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی روشنی صرف اسی شہر کی ملکیت نہیں ہوتی، اسی طرح رسول اکرم کا ظہور ایک خاص خطے میں ہوا مگر ان کا پیغام اسی خطے تک محدود نہیں رہا۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک رسول اکرم کا مقام اتنا بلند اور آفاقی ہے کہ اسے کسی ایک اقلیم یا قوم میں محدود کرنا مناسب نہیں۔ اسی غیر اقلیمی رسالت سے ملتِ اسلامیہ کی عالمگیریت پیدا ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button