رموز بے خودی

حکمتش یک ملت گیتی نورد

حکمتش یک ملت گیتی نورد

بر اساس کلمه ئی تعمیر کرد

ترجمہ

اس ہجرت کی حکمت یہ تھی کہ اس نے ایک جہان پیما ملت کو ایک کلمے کی بنیاد پر تعمیر کر دیا۔

تشریح

پچھلے شعر میں اقبال نے بتایا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت نے قومیت کی گرہ کھولی۔ اب وہ اس ہجرت کی تعمیری حکمت کو صاف لفظوں میں بیان کرتے ہیں: اس کا مقصد صرف ایک مقام چھوڑ کر دوسرے مقام پہنچنا نہ تھا، بلکہ ایک ایسی ملت کی بنیاد رکھنا تھا جو پوری دنیا میں سفر کر سکے، پھیل سکے، اور ایک ہی روحانی مرکز کے تحت جڑ سکے۔ اس ملت کی بنیاد کوئی نسل، قبیلہ، زبان یا وطن نہیں تھی، بلکہ “کلمه” تھا۔ یہاں کلمہ یقیناً کلمۂ توحید کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ وحدت جو دلوں، قوموں اور تاریخوں کو ایک مرکز دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

حکمتِ ہجرت:

ہجرت کے ظاہری اسباب اپنی جگہ تھے، مگر اقبال کا زور اس کے باطنی اور تاریخی مقصد پر ہے۔ ہجرت ایک نئی دنیا کی بنیاد تھی۔ اس نے اسلام کو محض ظلم سے بچایا نہیں، بلکہ اسے ایک منظم امت، اجتماعی نظم، اور عالمی پیغام کی شکل دی۔ مدینہ میں صرف پناہ نہیں ملی، ایک نئی تہذیبی تعمیر شروع ہوئی۔

بعض واقعات تاریخ میں حادثہ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ منصوبہ ہوتے ہیں۔

ملتِ گیتی نورد:

“گیتی نورد” کا مطلب ہے دنیا میں چلنے والی، سفر کرنے والی، حدوں کو پار کرنے والی۔ اقبال کے نزدیک ملتِ محمدیہ کسی ایک جغرافیے میں مقیم ہو کر ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کی طبیعت حرکت، تبلیغ، وسعت، ہجرت، تعمیر اور عالمی نسبت رکھتی ہے۔ وہ قوم جو کلمے پر بنی ہو، وہ دنیا بھر کے انسانوں کو اپنے دائرے میں لا سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد فطرت اور توحید ہے، نہ کہ نسلی امتیاز۔

یہی حرکت ملت کو تاریخ کے ایک کونے سے نکال کر انسانی تقدیر کی بڑی شاہراہ پر لے آتی ہے۔

بر اساس کلمه ئی:

یہ مصرع شعر کا قلب ہے۔ ایک کلمہ، یعنی توحید کا اعلان، “لا اله الا الله”، صرف عقیدے کا بیان نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے۔ جب ملت اس کلمے پر بنتی ہے تو اس میں رنگ، نسل، قبیلہ، وطن اور طبقے کی ثانوی حیثیت رہ جاتی ہے۔ کلمہ سب کو خدا کے سامنے برابر کھڑا کرتا ہے اور وفاداری کا مرکز زمین سے اٹھا کر آسمان سے جوڑ دیتا ہے۔

کلمہ ایک عقیدہ بھی ہے، ایک میزان بھی، اور ایک اجتماعی معمار بھی۔

تعمیر کا مفہوم:

اقبال محض روحانی جذبے کی بات نہیں کر رہے، وہ “تعمیر” کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی کلمہ صرف دل میں وجد پیدا نہیں کرتا، وہ معاشرہ بھی بناتا ہے، قانون بھی، اخلاق بھی، اخوت بھی، اور تاریخ بھی۔ مدینہ اسی تعمیر کا پہلا مکمل نمونہ بن گیا۔ اس لیے ہجرت کے بعد امت کا ظہور ایک منظم اجتماعی حقیقت کے طور پر ہوا۔

اسلامی خودی جب اجتماعی صورت اختیار کرتی ہے تو تہذیب بن جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلم دنیا کی بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کی بہت سی وفاداریاں کلمے کے بجائے قوم، زبان، مسلک، ریاست، بازار یا مفاد کے گرد جمع ہو جاتی ہیں۔ اقبال اس شعر میں اصل بنیاد پھر سے یاد دلاتے ہیں۔ اگر امت کو دوبارہ قوت، وسعت اور عالمی کردار حاصل کرنا ہے تو اسے اپنی تعمیر کی بنیاد پھر کلمہ ہی بنانا ہوگی۔ یہی بنیاد فرق کو فنا نہیں کرتی، بلکہ ان سب کو ایک بڑے مقصد میں جوڑ دیتی ہے۔

اسلامی خودی کی اجتماعی بقا اس وقت ممکن ہے جب اس کی اینٹیں پھر سے توحید کے گارے سے جڑیں۔

مثال

ایک ادارہ اگر ذاتی تعلقات، وقتی مفاد یا نسلی ترجیح پر کھڑا ہو تو جلد ٹوٹ جاتا ہے، مگر اگر وہ ایک بڑے اصول پر بنے جسے سب مانتے ہوں، تو مختلف لوگ مل کر بھی ایک مضبوط اجتماع قائم کر سکتے ہیں۔ امت کی اصل بنیاد بھی ایسا ہی اصولی کلمہ ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسول اکرم کی ہجرت کی حکمت یہ تھی کہ ایک آفاقی، متحرک اور دنیا میں پھیلنے والی ملت کو کلمۂ توحید کی بنیاد پر تعمیر کیا جائے۔ یہی کلمہ امت کی اصل اجتماعی بنیاد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button