رموز بے خودی

آن کند تعمیر تا ویران کند

آن کند تعمیر تا ویران کند

این کند ویران که آبادان کند

ترجمہ

وہ یعنی عقل ایسی تعمیر کرتی ہے جو آخرکار ویرانی پر منتج ہو، اور یہ یعنی عشق ایسی ویرانی لاتا ہے جس سے حقیقی آبادی پیدا ہوتی ہے۔

تشریح

اقبال یہاں عقل اور عشق کے تعمیری و تخریبی مزاج کا نہایت گہرا فرق سامنے لاتے ہیں۔ عقل بہت سی عمارتیں، نظام، بندوبست اور ظاہری ترتیبیں قائم کرتی ہے، مگر وہ اگر باطل بنیاد پر ہوں تو آخرکار ویرانی ہی پیدا کرتی ہیں۔ عشق اس کے برعکس کئی بار پہلے توڑتا ہے، انکار کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، مگر اسی تخریب سے نئی اور زندہ آبادی پیدا ہوتی ہے۔ کربلا کی پوری منطق اسی شعر میں سمٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

عقل کی تعمیر:

عقل نظام بناتی ہے، ادارے قائم کرتی ہے، مصلحتی توازن پیدا کرتی ہے، اور بظاہر استحکام لاتی ہے۔ مگر اقبال کا سوال یہ ہے کہ یہ تعمیر کس بنیاد پر ہے؟ اگر بنیاد میں حق نہ ہو، اگر مقصد صرف بقاے اقتدار یا تحفظِ مفاد ہو، تو ظاہری تعمیر آخرکار اندرونی ویرانی کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ ایسی عمارتیں ایک مدت چل سکتی ہیں، مگر روحانی طور پر مردہ ہوتی ہیں۔

اس معنی میں ہر تعمیر واقعی آبادی نہیں ہوتی۔

عشق کی ویرانی:

عشق کئی بار پہلے توڑتا ہے: جھوٹے نظام، باطل سمجھوتے، مصلحتی سکون، اور خوف کی دیواریں۔ اس کی یہ ویرانی منفی نہیں، تطہیری ہے۔ اقبال کے نزدیک حسینیت نے یزیدی بندوبست کی ظاہری “تعمیر” کو قبول نہیں کیا بلکہ اسے رد کیا، تاکہ ملت کے باطن میں ایک نئی بیداری پیدا ہو۔ یہ ویرانی اصل میں فساد کی نہیں، احیائے حق کی ویرانی ہے۔

گویا عشق کبھی عمارت نہیں بچاتا، بلکہ بنیاد بچاتا ہے۔

کربلا بطور تخریب و تعمیر:

کربلا ظاہری نظر میں ایک ویرانی تھی: خیمے جلے، جانیں گئیں، خاندان کٹا، خون بہا۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ یہی ویرانی ملت کی نئی آبادی بنی۔ اس نے استبداد کی بنیاد کاٹ دی، آزادی کا ضمیر جگایا، اور اسلام کے باطن کو پھر سے زندہ کر دیا۔ یزیدیت اپنی تعمیرات، نظم اور سلطنت کے باوجود ویران تھی، اور حسینیت اپنی قربانی کے باوجود آبادکن تھی۔

یہی وہ الٹی منطق ہے جو صرف عشق سمجھتا ہے۔

اسلامی حریت کا قانون:

آزادی کئی بار پہلے انکار مانگتی ہے۔ کسی غلط بندوبست، جھوٹے سکون یا غیرت کے خلاف نظام کو توڑے بغیر سچی آبادی ممکن نہیں ہوتی۔ اقبال کے ہاں عشق کا کام یہی ہے کہ وہ بندگیِ غیر کے محل گرا دے تاکہ بندگیِ حق کی بستی آباد ہو سکے۔ اس معنی میں تخریب بھی ایک مقدس خدمت بن جاتی ہے، اگر وہ حق کے لیے ہو۔

اس لیے حریت بعض اوقات تحفظ نہیں، جرأتِ انکار سے شروع ہوتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سی چیزیں ظاہری ترقی، تنظیم یا تعمیر معلوم ہوتی ہیں، مگر اگر ان کی بنیاد ناانصافی، جھوٹ یا روحانی غلامی پر ہو تو وہ آخرکار ویرانی ہی لاتی ہیں۔ دوسری طرف، حق کے لیے بعض قربانیاں، انکار اور جدائی کے فیصلے وقتی نقصان لگ سکتے ہیں مگر بعد میں نئی زندگی دیتے ہیں۔ اقبال ہمیں بنیاد اور نتیجے کا فرق سمجھاتے ہیں۔

سچی تعمیر ہمیشہ حق کی زمین پر اٹھتی ہے، باطل کی مرمت پر نہیں۔

مثال

کسی ادارے میں ایک غلط مگر مستحکم روایت کو توڑنا ابتدا میں خلل اور ویرانی معلوم ہو سکتا ہے، مگر اگر اسی سے انصاف، شفافیت اور سچائی کی نئی فضا پیدا ہو جائے تو وہی تخریب حقیقی تعمیر ثابت ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ عقل کی بہت سی تعمیرات آخرکار ویران ہو سکتی ہیں، جبکہ عشق کی بعض ویرانیاں نئی زندگی پیدا کرتی ہیں۔ کربلا اسی عاشقانہ تخریب کی مثال ہے جس نے ملت کو دوبارہ آباد کیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button