رموز بے خودی

کثرت هم مدعا وحدت شود

کثرت هم مدعا وحدت شود

پخته چون وحدت شود ملت شود

ترجمہ

جب بہت سے لوگ ایک ہی مقصد والے ہو جائیں تو کثرت وحدت بن جاتی ہے، اور جب یہ وحدت پختہ ہو جائے تو ملت بن جاتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملت بننے کا ایک نہایت نفسیاتی اور اجتماعی قانون بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر کثرت براہِ راست ملت نہیں بن جاتی۔ پہلے اسے مشترک مدعا درکار ہے، پھر اس مشترک مقصد سے وحدت پیدا ہوتی ہے، اور جب یہ وحدت پختگی اختیار کرتی ہے تب ملت وجود میں آتی ہے۔ شعر کے مطابق:

کثرت بذاتِ خود مسئلہ نہیں:

لوگوں کی تعداد، مزاجوں کا فرق، علاقوں کی وسعت اور زبانوں کا تنوع کثرت کی علامتیں ہیں۔ اقبال اسے بذاتِ خود منفی نہیں کہتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کثرت کے پاس کوئی مشترک مدعا ہے یا نہیں۔ اگر مشترک مقصد نہ ہو تو کثرت بکھراؤ بن جاتی ہے، اور اگر ہو تو یہی کثرت قوت میں بدل سکتی ہے۔

پس مسئلہ کثرت کا نہیں، بے مقصود کثرت کا ہے۔

ہم مدعا ہونے کی قوت:

جب مختلف افراد ایک ہی غرض، ایک ہی اخلاقی مرکز اور ایک ہی نبوی ہدف کو اپناتے ہیں تو ان کے درمیان ایسا ربط پیدا ہوتا ہے جو محض اتفاقِ رائے سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ مشترک مدعا دلوں کو ایک باطنی سمت دیتا ہے۔ پھر اختلافات رہتے ہوئے بھی مرکز قائم رہتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی مرحلہ وحدت کی پیدائش کا ہے: مقاصد میں ہم آہنگی۔

پختگی کیوں ضروری ہے:

وحدت کا دعویٰ آسان ہے، مگر اس کی پختگی مشکل۔ جذباتی اتحاد وقتی ہو سکتا ہے، سیاسی اتحاد مفاد سے بندھا ہو سکتا ہے، مگر ملت بننے کے لیے وحدت کو آزمائش، وقت، قربانی، نظم، تربیت اور مشترک اخلاقی حافظہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب وحدت پختہ ہوتی ہے تو وہ موسموں سے کم متاثر ہوتی ہے۔

اسی لیے اقبال ملت کو محض اعلان نہیں، پختہ وحدت کا ثمر کہتے ہیں۔

ملت بطور بالغ وحدت:

ملت دراصل ایک ایسی بالغ اجتماعی ہستی ہے جس میں افراد اپنے جزوی وجود کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک بڑے مقصد کے تابع ہوتے ہیں۔ اس میں نظم ہوتا ہے، یادداشت ہوتی ہے، اخلاقی مرکز ہوتا ہے، اور قربانی کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ سب رسالت کی تربیت سے ہی پیدا ہوتا ہے۔

پس ملت کسی حادثاتی ہجوم کا نام نہیں، بلکہ پختہ وحدت کی اعلیٰ صورت ہے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج ہم بہت جلدی وحدت کے دعوے بھی کرتے ہیں اور بہت جلدی مایوس بھی ہو جاتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ پہلے مشترک مدعا پیدا کرو، پھر اس پر تربیت، صبر اور عمل سے پختگی لاؤ۔ ملت جذباتی نعرے سے نہیں بنتی، بلکہ مدتوں کی وفاداری سے بنتی ہے۔

اگر مدعا نبوی ہو اور وحدت اس پر پکے، تو ملت پھر سے قوت بن سکتی ہے۔

مثال

کسی ادارے کے لوگ اگر صرف تنخواہ کے لیے ساتھ ہوں تو دیرپا وحدت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ان کے پاس مشترک مشن ہو اور وہ اسے برسوں کے نظم سے سنبھالیں تو ایک ثقافت بن جاتی ہے۔ ملت کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ بلند مگر اسی اصول پر قائم ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق کثرت تب وحدت بنتی ہے جب اس کا مدعا ایک ہو، اور وحدت تب ملت بنتی ہے جب وہ پختہ ہو جائے۔ ملت پائیدار مشترک مقصد اور تربیت یافتہ وحدت کا نام ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button