فرد میگیرد ز ملت احترام
فرد میگیرد ز ملت احترام
ملت از افراد می یابد نظام
ترجمہ
فرد کو عزت و احترام ملت کے سبب سے ملتا ہے، اور ملت کو نظام و ترتیب افراد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور ملت کے باہمی انحصار کے اصول کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک عزت اور نظام دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اور یہی توازن ایک زندہ قوم کی پہچان ہے۔ شعر کے مطابق:
فرد کا احترام ملت سے:
فرد کی شناخت، وقار اور احترام اسی وقت قائم رہتا ہے جب وہ اپنی ملت سے وابستہ ہو۔ ملت اسے ایک پہچان دیتی ہے اور معاشرے میں اس کا مقام متعین کرتی ہے۔
ملت سے کٹ کر فرد بے سہارا اور بے نشان ہو جاتا ہے۔ اس کی انفرادی عظمت بھی اسی وقت معنی رکھتی ہے جب اس کے پیچھے ایک منظم قوم کھڑی ہو۔
ملت کا نظام افراد سے:
دوسری طرف ملت کا نظام اور اس کی مضبوطی افراد ہی کے کردار سے قائم ہوتی ہے۔ جیسے اینٹیں مل کر ایک مضبوط عمارت بناتی ہیں، ویسے ہی باکردار افراد مل کر ایک منظم اور توانا ملت تشکیل دیتے ہیں۔
اگر افراد کمزور، بے عمل یا بکھرے ہوئے ہوں تو ملت کا نظام بھی کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے ملت کی بقا کا انحصار افراد کی تربیت اور کردار پر ہے۔
باہمی انحصار کا اصول:
یوں فرد اور ملت ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ نہ فرد ملت کے بغیر مکمل ہے، نہ ملت افراد کے بغیر باقی رہ سکتی ہے۔ دونوں کا رشتہ لینے اور دینے کا ہے۔
توازن ہی زندگی کا راز:
اقبال کے نزدیک یہی توازن ایک زندہ اور باوقار قوم کی اصل بنیاد ہے۔ جہاں فرد ملت کا احترام کرے اور ملت فرد کی قدر، وہیں ایک مضبوط معاشرہ جنم لیتا ہے۔
مثال
جیسے جسم کے اعضا اپنی حیثیت اور حرکت جسم سے پاتے ہیں اور جسم اپنی توانائی اور کارکردگی انہی اعضا سے حاصل کرتا ہے، اسی طرح فرد اور ملت کا رشتہ باہمی احترام اور باہمی انحصار پر قائم ہے۔ ایک عضو کے بگڑنے سے پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد اور ملت کی عظمت جدا جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہے۔ فرد ملت سے احترام پاتا ہے اور ملت افراد سے نظام، اور اسی توازن پر ایک زندہ قوم کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

