رموز بے خودی

می نگنجد مسلم اندر مرز و بوم

می نگنجد مسلم اندر مرز و بوم

در دل او یاوه گردد شام و روم

ترجمہ

مسلمان کسی سرحد اور زمین میں سمٹ نہیں سکتا، اور اس کے دل میں شام و روم جیسی بڑی بڑی سرزمینیں بھی ہیچ ہو جاتی ہیں۔

تشریح

یہ شعر پچھلے مصرعے کی توسیع ہے۔ اقبال اب صرف نصیحت نہیں کرتے بلکہ ایک اصول قائم کرتے ہیں: مسلم کی اصل حقیقت اتنی وسیع ہے کہ وہ محض مرز و بوم کے خانوں میں فٹ نہیں ہو سکتی۔ اس کا دل ایسا افق رکھتا ہے کہ بڑے بڑے تاریخی خطے، سلطنتیں اور جغرافیے بھی اس کے سامنے ثانوی ہو جاتے ہیں۔ “شام و روم” صرف دو جگہیں نہیں، بلکہ تہذیبی، سیاسی اور تاریخی عظمت کی علامتیں ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلم کا دل اگر بیدار ہو تو یہ سب اس کے اندر “یاوه” یعنی معمولی، غیر مرکزی اور چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

مسلم کی بے گنجائشی:

“می نگنجد” میں ایک عجب وقار ہے۔ اس سے مراد تکبر نہیں بلکہ وسعتِ روح ہے۔ جیسے آسمان کو کسی کمرے میں بند نہیں کیا جا سکتا، ویسے ہی مسلم کی اصل روحانی شناخت کو محض علاقائی سرحدوں میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ واقعی مسلم ہے تو اس کا تعلق وحی، امت، تاریخ، عدل، انسانیت اور خدا کی بندگی سے ہے۔

جس کی نسبت آسمانی ہو، اسے زمینی خانوں میں مکمل بند نہیں کیا جا سکتا۔

مرز و بوم کا دائرہ:

مرز و بوم کی اپنی عملی ضرورت ہے: نظم، انتظام، رہائش، سماجی ذمہ داری اور تاریخی تعلق۔ اقبال ان سب کی عملی حقیقت سے انکار نہیں کرتے۔ مگر وہ یہ بتاتے ہیں کہ مرز و بوم کو مسلم کی آخری تعریف بنانا اس کی روحانی قامت کو چھوٹا کر دینا ہے۔ مسلمان کا جغرافیہ ہو سکتا ہے، مگر اس کی حقیقت جغرافیہ نہیں۔

یہ فرق نہ سمجھا جائے تو قومیت آہستہ آہستہ عقیدے کی جگہ لینے لگتی ہے۔

شام و روم بطور علامت:

شام اور روم اسلامی و انسانی تاریخ میں سیاسی طاقت، تہذیبی وسعت اور سلطنتی وقار کے بڑے استعارے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلم کے دل میں یہ سب “یاوه” ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ دل کے اندر جو شے مرکز بننی چاہیے وہ ان خطوں کی عظمت نہیں بلکہ اسلام کی حقیقت ہے۔ اگر دل خدا سے بھر جائے تو سلطنتیں، نقشے، مراکز اور سیاسی نام سب اپنی اصل حیثیت یعنی ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

دل کا اصل عرش اگر محفوظ ہو تو زمین کے تخت اپنا سحر کھو دیتے ہیں۔

روحانی وسعت اور سیاسی اخلاق:

یہ شعر کسی بے عملی کی دعوت نہیں دیتا۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ مسلم اپنے ملک یا معاشرے کی ذمہ داری چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو ایک بڑے روحانی اخلاق کے تحت ادا کرے۔ ایسا دل جو شام و روم کو بھی ثانوی سمجھتا ہو، وہ طاقت پر فریفتہ نہیں ہوتا، سلطنت کے نشے میں نہیں آتا، اور حق کو جغرافیے کے ماتحت نہیں کرتا۔

اس طرح وسعتِ دل سیاسی کردار کو بھی زیادہ عادل بناتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں قوم، ریاست، تہذیبی بلاک اور جغرافیائی مفاد اتنے غالب ہو چکے ہیں کہ انسان کی اصل اخلاقی و دینی شناخت اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر دل کے ترازُو کو درست کرتا ہے۔ ملک اور معاشرہ اہم ہیں، مگر وہی سب کچھ نہیں۔ اگر مسلم کا دل بیدار ہو تو وہ اپنی وفاداریوں کی درجہ بندی درست رکھتا ہے: پہلے خدا، پھر حق، پھر امت کی وسیع نسبت، اور پھر باقی اجتماعی رشتے اپنی صحیح جگہ پر۔

اسلامی خودی اسی وقت بڑی رہتی ہے جب نقشے اس کے اندر سما نہ جائیں، بلکہ وہ ان سے بڑی رہے۔

مثال

ایک آدمی کسی طاقتور ملک، تہذیبی مرکز یا بڑے سیاسی نظام کے جلال سے مرعوب نہ ہو، بلکہ حق و باطل کو اصول کی بنیاد پر پرکھے، تو اس کے دل میں واقعی شام و روم یاوہ ہو چکے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق مسلم کی اصل روحانی وسعت ایسی ہے کہ وہ محض مرز و بوم میں محدود نہیں ہو سکتا۔ بڑے بڑے خطے اور تہذیبی مراکز بھی اس کے دل میں ثانوی ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس کا اصل مرکز اسلام ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button