عقل با غیر آشنا از اکتساب
عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و با خود در حساب
ترجمہ
عقل دوسروں اور بیرونی چیزوں سے سیکھ کر آشنائی حاصل کرتی ہے، جبکہ عشق فضلِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے اور اپنے آپ سے مسلسل حساب لیتا رہتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں عقل اور عشق کے علم، تربیت اور باطنی سرچشمے کا فرق واضح کرتے ہیں۔ عقل کا بڑا حصہ اکتسابی ہے: وہ باہر سے سیکھتی ہے، تجربہ جمع کرتی ہے، موازنہ کرتی ہے اور غیر کے ذریعے اپنے لیے شعور بناتی ہے۔ عشق کا سرچشمہ اس کے برعکس محض بیرونی جمع آوری نہیں بلکہ فضل ہے، اور اسی لیے وہ اپنے اندر جھانکنے، اپنے دعوے کو پرکھنے اور خود احتسابی کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ شعر کے مطابق:
اکتسابی عقل:
“عقل با غیر آشنا از اکتساب” میں اقبال عقل کے اکتسابی مزاج کو بیان کرتے ہیں۔ عقل کتاب، تجربہ، سماج، تاریخ، مشاہدہ اور دوسروں کے رویوں سے سیکھتی ہے۔ یہ سیکھنا اپنی جگہ مفید اور ضروری ہے، مگر اس میں ایک بنیادی حد بھی ہے: یہ شعور اکثر بیرونی دنیا کے ساتھ زیادہ آشنا ہوتا ہے، اپنے باطن کے ساتھ کم۔ وہ چیزوں کو جانتا ہے، مگر ہر بار اپنے مرکز کو نہیں پاتا۔
یوں عقل کا علم وسیع ہو سکتا ہے، مگر اس کا صاحب ہمیشہ پاک یا ثابت قدم نہیں بنتا۔
فضل سے پیدا ہونے والا عشق:
اقبال عشق کو “فضل” سے جوڑتے ہیں، یعنی وہ صرف انسانی صنعت یا اکتساب کا نتیجہ نہیں۔ اس کے اندر ایک عطیہ، ایک القا، ایک نورانی نسبت کا پہلو شامل ہے۔ عشق محض یہ نہیں کہ آدمی نے بہت پڑھ لیا یا بہت دیکھ لیا؛ بلکہ یہ کہ دل میں ایسا نور اترا جس نے حق کو ذوق، وفا اور جرات میں بدل دیا۔ اسی لیے عشق کی قوت کو محض تربیتی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا۔
وہ کمائی بھی ہے، مگر اس کی اصل جان بخشی ہوئی دولت ہے۔
با خود در حساب:
عشق کی سب سے بڑی علامتوں میں سے ایک خود احتسابی ہے۔ جو دل واقعی فضل سے روشن ہو، وہ خود کو بے خطا نہیں سمجھتا بلکہ اپنے دعوے، نیت، وفا اور قربانی کی سچائی کا حساب لیتا رہتا ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق باہر کی دنیا سے لڑنے سے پہلے اپنے اندر کی کمزوریوں سے نبرد آزمائی کرتا ہے۔ اس لیے عشق کی جرات بے مہار نہیں بلکہ محاسبہ شدہ جرات ہوتی ہے۔
یہی محاسبہ عشق کو نفس پرستی سے محفوظ رکھتا ہے۔
کربلا سے نسبت:
کربلا کی عظمت بھی اسی فرق سے سمجھ میں آتی ہے۔ یزیدی عقل حالات، طاقت، سیاست اور مصلحتوں سے آشنا تھی، مگر اپنے باطن کے حساب سے خالی تھی۔ حسینی عشق فضل سے روشن تھا اور اپنے آپ سے پوری طرح باخبر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف بیرونی حساب غالب رہا، دوسری طرف باطنی سچائی۔ اقبال اس شعر میں کربلا کی روحانی تمہید باندھتے ہیں۔
حق کی بڑی تاریخیں صرف بیرونی علم سے نہیں، اندرونی محاسبے سے بنتی ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج ہمارے پاس معلومات، تجزیے، تعلیم اور تجربے کی فراوانی ہے، مگر خود احتسابی کم ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ صرف باہر کی دنیا کو جان لینا کافی نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنے دل، نیت اور وفاداری کا حساب بھی لے رہا ہے؟ فضل سے محروم علم غرور پیدا کر سکتا ہے، اور خود احتسابی سے خالی عقل مصلحت کی غلام بھی بن سکتی ہے۔
اسلامی حریت اسی دل میں پیدا ہوتی ہے جو فضل سے روشن اور خود کے حساب سے زندہ ہو۔
مثال
ایک شخص بہت پڑھے لکھے، حالات شناس اور ذہین ہو سکتا ہے، مگر اگر وہ کبھی یہ نہ پوچھے کہ میری نیت کیا ہے، میری وفاداری کس کے ساتھ ہے، اور میں حق کے لیے کیا قیمت ادا کروں گا، تو اس کی عقل اکتسابی رہ جائے گی، عاشقانہ نہ بنے گی۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق عقل باہر سے سیکھتی ہے، جبکہ عشق فضل سے روشن ہوتا ہے اور اپنے باطن کا حساب لیتا ہے۔ یہی خود احتسابی اور نورانی نسبت عشق کو اسلامی حریت کی اصل قوت بناتی ہے۔