قلب مؤمن را کتابش قوت است
قلب مؤمن را کتابش قوت است
حکمتش حبل الورید ملت است
ترجمہ
مومن کے دل کے لیے اس کی کتاب قوت ہے، اور اس کی حکمت ملت کے لیے شہ رگ کی مانند ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں رسالت کے دو بڑے عطیے الگ الگ مگر مربوط انداز میں دکھاتے ہیں: قرآن، جو مومن کے قلب کی قوت ہے؛ اور نبوی حکمت، جو امت کی اجتماعی زندگی کی شہ رگ ہے۔ اس طرح شاعر فردی روحانیت اور اجتماعی نظم دونوں کو پیغمبر کے سرچشمے سے جوڑ دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
کتاب بطور قوتِ قلب:
قرآن مومن کے لیے صرف تلاوت کا متن نہیں، بلکہ دل کی غذا، فکر کی روشنی، نیت کی درستی اور خوف و اضطراب کے مقابلے میں داخلی استحکام کا سرچشمہ ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ کتاب قوت ہے تو وہ یہ سمجھاتے ہیں کہ وحی دل کو وہ وزن دیتی ہے جو خواہش، شک، غفلت اور فکری بکھراؤ کے مقابلے میں اسے قائم رکھتی ہے۔
قرآن دل کو صرف تسلی نہیں دیتا، بلکہ اسے سنوارتا، جگاتا اور ذمہ دار بھی بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوت کا لفظ یہاں نہایت مناسب ہے۔
نبوی حکمت کیا ہے:
حکمت سے مراد وہ عملی فہم، توازن، ترتیب اور تطبیق ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور سیرت میں جلوہ گر ہے۔ قرآن اصول دیتا ہے، اور نبوی حکمت ان اصولوں کو زندگی میں برتنے کا صحیح طریقہ سکھاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک صرف آیات جان لینا کافی نہیں، ان کے زندہ معنی کو نبی کے عمل، فیصلے، اخلاق اور معاشرتی نمونے میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔
یہی حکمت امت کو افراط و تفریط سے بچاتی ہے اور دین کو قابلِ عمل زندگی بناتی ہے۔
حبل الورید کی تعبیر:
شہ رگ زندگی کے لیے نہایت بنیادی چیز ہے۔ اگر وہ سلامت ہو تو جسم میں حیات کا بہاؤ قائم رہتا ہے، اور اگر وہ کٹ جائے تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اقبال نبوی حکمت کو ملت کی شہ رگ کہہ کر بتاتے ہیں کہ امت کی اجتماعی زندگی صرف عقیدے کے اقرار سے نہیں چلتی، بلکہ نبوی طرزِ فہم اور سیرت کی مسلسل قربت سے زندہ رہتی ہے۔
گویا اگر امت قرآن سے دور ہو جائے تو دل کمزور پڑتا ہے، اور اگر نبوی حکمت سے دور ہو جائے تو اس کا اجتماعی جسم بیمار ہو جاتا ہے۔
فرد اور ملت کا توازن:
یہ شعر اقبالی فکر کی ایک بڑی خصوصیت ظاہر کرتا ہے: وہ فرد اور ملت کو الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹتے۔ فرد کے لیے کتاب، ملت کے لیے حکمت۔ مگر حقیقت میں دونوں ایک دوسرے کو پورا کرتے ہیں۔ قرآن کے بغیر حکمت خشک روایت بن سکتی ہے، اور حکمت کے بغیر قرآن کا فہم بے سمتی یا سطحیت میں گر سکتا ہے۔
رسالت ان دونوں کو یکجا کر کے دل اور جماعت دونوں کی تعمیر کرتی ہے۔
آج کا سبق:
آج یا تو قرآن کو محض تبرک کی حد تک محدود کر دیا جاتا ہے، یا سنت و سیرت کو صرف چند ظاہری شکلوں تک سمیٹ دیا جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ قرآن دل کی طاقت ہے اور نبوی حکمت امت کی حیاتی رگ۔ اگر ان دونوں کے ساتھ زندہ تعلق نہ ہو تو نہ فرد صحیح طور پر مضبوط ہوگا اور نہ ملت۔
اصل بحالی اسی وقت آئے گی جب وحی اور حکمت دونوں دوبارہ زندگی کے مرکز بنیں۔
مثال
ایک میڈیکل کتاب اصول سکھا سکتی ہے، مگر ایک ماہر معالج ان اصولوں کو مریض کی حقیقت پر لاگو کرنا سکھاتا ہے۔ قرآن اور نبوی حکمت کا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے: اصول بھی، زندہ تطبیق بھی۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق قرآن مومن کے دل کی قوت ہے، اور نبوی حکمت امت کی اجتماعی زندگی کی شہ رگ۔ فرد اور ملت دونوں کی حقیقی بحالی اسی دوہری نسبت سے وابستہ ہے۔
