رموز بے خودی

عزم او چون کوهساران استوار

عزم او چون کوهساران استوار

پایدار و تند سیر و کامگار

ترجمہ

اس کا عزم پہاڑوں کی طرح مضبوط تھا: ثابت قدم، تیز رفتار، اور اپنے مقصد میں کامیاب۔

تشریح

اقبال اس شعر میں امام حسین کے ارادے کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔ کربلا کا واقعہ صرف محبت یا مظلومیت سے نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کے قلب میں ایک غیر معمولی عزم ہے۔ یہ عزم پہاڑ کی طرح مستحکم ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسی استحکام کے ساتھ اس میں حرکت، سرعت اور کامیابی بھی ہے۔ یوں اقبال استقامت اور حرکت کو ایک شخصیت میں جمع کر دیتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

کوهساران استوار:

پہاڑ استحکام، بلندی، پائیداری اور عدمِ لغزش کی علامت ہیں۔ امام حسین کا عزم ایسا تھا کہ حالات کی سختی، دشمن کی کثرت، مستقبل کا اندیشہ، خاندان کی معیت، اور ظاہری نقصانات سب اس کے سامنے آ کر بھی اسے ہلا نہ سکے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ حق کی بڑی خدمت کے لیے دل کا ایسا استحکام ضروری ہوتا ہے جسے وقتی طوفان نہ توڑ سکیں۔

استقامت کے بغیر عشق کی حرارت بھی بکھر سکتی ہے۔

پایدار:

پایداری کا مطلب ہے کہ مقصد اور وفا میں تسلسل ہو۔ بہت لوگ ایک لمحے کے لیے جوش پا لیتے ہیں، مگر وقت، خوف، تھکن یا نقصان ان کے عزم کو کھا جاتے ہیں۔ امام حسین کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کا عزم ابتدا سے انتہا تک قائم رہا۔ اقبال کے نزدیک یہی پایداری عشق کو تاریخی تاثیر دیتی ہے۔

کامیابی کی پہلی شرط یہی ہے کہ عزم وقت کے سامنے ٹوٹے نہیں۔

تند سیر:

پہاڑ کی تشبیہ کے ساتھ “تند سیر” بہت دل چسپ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسینیت محض ساکن استقامت نہیں، فعال اور متحرک استقامت ہے۔ مقصد واضح ہو جائے تو حسینی روح رکتی نہیں، بڑھتی ہے۔ یہ حرکت جلد بازی نہیں بلکہ فیصلہ کن پیش قدمی ہے۔ اقبال کے ہاں عشق کا عزم پہاڑ کی طرح ثابت بھی ہے اور قافلے کی طرح چلنے والا بھی۔

یعنی ثبات اور حرکت ایک دوسرے کی ضد نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

کامگار:

کامگاری کو اگر صرف دنیاوی نتیجے سے ناپا جائے تو کربلا سمجھ میں نہیں آتی۔ اقبال کے نزدیک حسین کا عزم کامگار تھا، کیونکہ اس نے اپنے اصل مقصد کو حاصل کر لیا: حق کو زندہ رکھا، باطل کو رسوا کیا، حریت کو بیدار کیا، اور امت کے لیے ابدی معیار قائم کر دیا۔ اس معنی میں کامگاری ظاہر کے تخت سے نہیں، باطن کی فتح سے ناپی جاتی ہے۔

حسینی کامیابی نتیجے کی ظاہری شکل میں نہیں، مقصد کی تکمیل میں ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج سچے کام کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں؛ استقامت، تسلسل، سمت اور اندرونی کامیابی کی سمجھ بھی چاہیے۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ اگر مقصد حق ہو تو عزم پہاڑ جیسا مضبوط، قدم تیز، اور نتیجے کی پیمائش اصولی ہونی چاہیے۔ تبھی آدمی وقتی ناکامی کے باوجود حقیقی طور پر کامگار ہو سکتا ہے۔

اسلامی حریت کی تعمیر ایسے ہی عزم سے ہوتی ہے جو ثابت بھی ہو اور متحرک بھی۔

مثال

کسی اصلاحی جدوجہد میں جو لوگ طویل عرصے تک اصول پر قائم رہتے ہوئے قدم بھی بڑھاتے رہیں، وہی آخرکار ماحول بدلتے ہیں؛ محض وقتی جذبات یا صرف خاموش استقامت کافی نہیں ہوتی۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امام حسین کا عزم پہاڑوں کی طرح استوار تھا: ثابت قدم، متحرک، اور اپنے اصل مقصد میں کامیاب۔ یہی حسینی عزم اسلامی حریت کی روحانی اور عملی بنیاد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button