رموز بے خودی

شاه عالمگیر گردون آستان

شاه عالمگیر گردون آستان

اعتبار دودمان گورگان

ترجمہ

شاہ عالمگیر ایسا بادشاہ ہے کہ آسمان بھی اس کے آستانے کو چھوتا محسوس ہوتا ہے، اور خاندانِ گورگانی کی عزت و وقار اسی سے قائم ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اورنگزیب عالمگیر کی شخصیت کو صرف ایک سلطنت کے حاکم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے اقتدار کو دینی وقار کے ساتھ جوڑا۔ “گردون آستان” کی ترکیب مبالغہ نہیں بلکہ اس رفعت کی علامت ہے جو کسی شخصیت کو اپنے منصب سے نہیں بلکہ اپنے باطن اور اپنے مقصد سے ملتی ہے۔ شعر کے مطابق:

آستان کی رفعت کا مفہوم:

آستانہ عام طور پر درگاہ، چوکھٹ یا در کے لیے آتا ہے، مگر یہاں اس سے مراد وہ مرتبہ ہے جس کے سامنے زمانہ سر جھکاتا ہے۔ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ عالمگیر کی عظمت صرف درباری شان، فوجی قوت یا سیاسی وسعت کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس کے اندر ایک ایسا دینی شعور اور باطنی وقار تھا جس نے اس کی حکومت کو بلند معنی عطا کیے۔

جب اقتدار کسی اصول کے تابع ہو، تو وہ صرف کرسی نہیں رہتا بلکہ ایک ذمہ داری اور ایک امانت بن جاتا ہے۔ اقبال عالمگیر کے منصب میں یہی پہلو دیکھ رہے ہیں۔

دودمانِ گورگان کا اعتبار:

مغلیہ خاندان کے بہت سے بادشاہ گزرے، مگر اقبال یہاں صاف بتاتے ہیں کہ کسی خاندان کی اصل ساکھ اس کی عمارتوں، فتوحات یا خزانے سے نہیں بنتی، بلکہ اس فرد سے بنتی ہے جو اس خاندان کے اخلاقی معنی کو سنبھال لے۔ “اعتبار” کا لفظ نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ محض شہرت نہیں بلکہ اعتماد، وزن اور اخلاقی جواز کا مفہوم رکھتا ہے۔

گویا اقبال کے نزدیک خاندان کی اصل قدر وہ شخص بڑھاتا ہے جو اسے دینی خدمت، عدل اور ضبطِ نفس سے آراستہ کرے۔

شخصیت اور نسب کا تعلق:

یہ شعر یہ بھی سکھاتا ہے کہ نسب اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، مگر وہ خود بخود عظمت پیدا نہیں کرتا۔ اصل عظمت کردار سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک بڑا خاندان بھی کمزور افراد کے ہاتھ میں اپنی معنویت کھو سکتا ہے، اور ایک صاحبِ کردار فرد اسی خاندان کو نئی وقعت دے سکتا ہے۔

اقبال کی پوری فکری روایت میں یہی اصول بار بار سامنے آتا ہے: اصل معیار خون نہیں، خودی کی پختگی اور مقصد سے وفاداری ہے۔

اقبال کی نظر میں مثالی اقتدار:

اس شعر کے ذریعے اقبال اقتدار کے اس نمونے کی تعریف کر رہے ہیں جس میں شاہی وقار اور دینی جواب دہی جمع ہوں۔ یعنی بادشاہ کی عزت اس میں نہیں کہ لوگ اس سے ڈریں، بلکہ اس میں ہے کہ اس کی ذات کسی بڑے اصول کی نمائندہ بن جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حاکم کا مرتبہ محض سیاسی نہیں رہتا بلکہ تہذیبی اور اخلاقی معنی اختیار کر لیتا ہے۔

پس یہ شعر دراصل عالمگیر کے ذکر میں اقبال کے اس سیاسی و روحانی تصور کو بھی بیان کرتا ہے جس میں اقتدار ایک امانت ہے، تفاخر نہیں۔

ملت کے لیے پیغام:

امت کے لیے اس شعر کا سبق یہ ہے کہ اس کی عزت کا مدار ناموں، خاندانوں یا وراثت پر نہیں، بلکہ ان افراد پر ہوتا ہے جو اصول کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر قیادت باکردار ہو تو پوری روایت کو اعتبار ملتا ہے، اور اگر قیادت مقصد کھو دے تو پرانا نسب بھی نئی بے وزنی کو نہیں چھپا سکتا۔

اقبال اسی لیے شخصیات کو ان کے منصب سے نہیں، ان کے دینی و اخلاقی وزن سے پرکھتے ہیں۔

مثال

جیسے کسی قدیم ادارے کی اصل عزت اس کی عمارت یا نام سے نہیں بلکہ اس سربراہ سے قائم رہتی ہے جو اصول، دیانت اور خدمت کو زندہ رکھے، ویسے ہی ایک سلطنت کا اعتبار بھی اپنے بہترین کردار والے قائد سے مضبوط ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر کی عظمت اس کی سلطنت سے زیادہ اس اخلاقی و دینی وقار میں ہے جس نے خاندانِ گورگانی کو حقیقی اعتبار بخشا۔ اصل عزت نسب سے نہیں، کردار اور مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button