رموز بے خودی

لفظ چوں از بیت خود بیروں نشست

لفظ چوں از بیت خود بیروں نشست

گوہر مضموں بجیب خود شکست

ترجمہ

جب کوئی لفظ اپنے شعر سے باہر نکل جاتا ہے تو مضمون کا موتی خود اسی کی جیب میں ٹوٹ جاتا ہے، یعنی وہ بے معنی ہو جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں لفظ اور شعر کی نہایت لطیف تمثیل سے فرد اور ملت کے رشتے کو واضح کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس طرح لفظ اپنے مصرعے میں معنی رکھتا ہے، اسی طرح فرد اپنی ملت میں بامعنی ہے۔ شعر کے مطابق:

لفظ کا شعر سے باہر ہونا:

جب کوئی لفظ اپنے مصرعے اور مضمون سے الگ ہو جاتا ہے تو وہ تنہا اور بے ربط ہو جاتا ہے۔ اس کی کوئی خاص حیثیت اور اثر باقی نہیں رہتا۔

ایک ہی لفظ جو شعر میں پرو کر کمال کا اثر رکھتا تھا، شعر سے نکل کر محض ایک عام آواز بن کر رہ جاتا ہے۔

مضمون کے موتی کا ٹوٹنا:

لفظ کے معنی اسی شعری مضمون سے پھوٹتے ہیں جس میں وہ پرویا گیا ہو۔ الگ ہوتے ہی وہ معنی بکھر جاتے ہیں اور مضمون کا قیمتی موتی ٹوٹ جاتا ہے۔

یہ نقصان لفظ کو خود اپنی ہی جیب میں اٹھانا پڑتا ہے، یعنی اس کی بے معنی ہونے کی ذمہ داری اسی کے الگ ہو جانے پر ہے۔

فرد کا ملت سے رشتہ:

بالکل اسی طرح فرد بھی ملت کے بغیر بے معنی ہے۔ اس کی پہچان، اس کی قدر اور اس کے کردار کے معنی ملت ہی کے مضمون میں ظاہر ہوتے ہیں۔

معنی کا سرچشمہ:

اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ فرد کی حقیقی قدر و قیمت اس کے اجتماع سے وابستگی میں ہے۔ ملت سے کٹ کر وہ اپنی معنویت کھو بیٹھتا ہے۔

مثال

جیسے موتی اسی وقت خوبصورت اور قیمتی لگتا ہے جب وہ ہار کی لڑی میں پرویا ہو، اور لڑی سے گر کر بکھر جاتا ہے، ویسے ہی فرد ملت کی لڑی میں پرویا ہوا ہی بامعنی اور باوقار رہتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ جس طرح لفظ اپنے شعر سے باہر بے معنی ہے، اسی طرح فرد ملت سے کٹ کر بے معنی اور بے وقعت ہو جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button