چشم او برہمزن کار حیات
چشم او برہمزن کار حیات
گوش او بزگیر اخبار حیات
ترجمہ
اس کی آنکھ زندگی کے کام کو درہم برہم کر دیتی ہے، اور اس کا کان زندگی کی خبروں کو لوٹ لینے والا بن جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خوف کی ایک اور باطنی تباہ کاری کو بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ خوف صرف دل کو کمزور نہیں کرتا بلکہ انسان کے ادراک، اس کے سماع، اس کے ردعمل اور اس کی پوری عملی زندگی کو بگاڑ دیتا ہے۔ خوف زدہ آنکھ چیزوں کو درست تناسب میں نہیں دیکھتی، اور خوف زدہ کان زندگی کے پیغامات کو صحیح طور پر سن نہیں پاتا۔ شعر کے مطابق:
آنکھ کا برہم زن بن جانا:
“چشم او برہمزن کار حیات” سے مراد یہ ہے کہ خوف انسان کی نگاہ کا توازن بگاڑ دیتا ہے۔ وہ اصل خطرے اور فرضی خطرے میں فرق نہیں کر پاتا، چھوٹی چیز کو بڑا اور بڑی چیز کو ناقابلِ برداشت سمجھنے لگتا ہے۔ زندگی کے معمولی اتار چڑھاؤ بھی اسے تباہ کن محسوس ہونے لگتے ہیں۔
اقبال کے نزدیک جب نگاہ اس طرح بگڑ جائے تو انسان صحیح فیصلے نہیں کر پاتا، کیونکہ اس کے سامنے حقیقت اپنی درست صورت میں نہیں رہتی۔ گویا خوف پہلے دیکھنے کے معیار پر حملہ کرتا ہے، پھر عمل پر۔
گوش کا “بزگیر” ہونا:
“بزگیر” کے لفظ میں لوٹ لینے، چرا لینے یا جلدی سے جھپٹ لینے کا معنی پایا جاتا ہے۔ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ خوف کا کان زندگی کی خبریں سننے کے بجائے ان میں سے صرف خطرہ، بدگمانی اور اندیشہ چن لیتا ہے۔ جہاں امید کی خبر ہو، وہاں وہ شک سن لیتا ہے۔ جہاں نصیحت ہو، وہاں وہ ذلت محسوس کرتا ہے۔ جہاں دعوتِ عمل ہو، وہاں وہ نقصان کا اندیشہ سننے لگتا ہے۔
یعنی خوف صرف آنکھ کو نہیں بگاڑتا، سماعت کو بھی بگاڑتا ہے۔ پھر انسان زندگی کی صحیح آواز نہیں سن پاتا، بلکہ ہر صدا میں اپنے لیے خطرہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔
زندگی کی خبر کیا ہے:
زندگی کی خبر وہ ہر آواز ہے جو انسان کو حرکت، امید، اصلاح، ذمہ داری، جرات اور رجوع کی طرف بلاتی ہے۔ قرآن، نبوی تعلیم، اہلِ حق کی نصیحت، اپنی فطرت کی پکار، اور تجربے کی بیداری سب “اخبارِ حیات” میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مگر اگر دل خوف سے بھرا ہو تو ان خبریں بھی پورا اثر نہیں دکھاتیں۔
اس طرح خوف انسان کو حیات کے پیغامات سے محروم کر دیتا ہے۔ وہ سنتا ہے مگر سن نہیں پاتا، دیکھتا ہے مگر سمجھ نہیں پاتا۔ یہی اقبالی تشخیص کی گہرائی ہے۔
روحانی بصیرت کی ضرورت:
اس شعر میں علاج بھی پوشیدہ ہے۔ اگر خوف نگاہ اور سماعت دونوں کو خراب کرتا ہے تو انسان کو اپنے باطن کی آنکھ اور کان دونوں کو توحید سے درست کرنا ہوگا۔ جب دل خدا کی عظمت سے جڑتا ہے تو چیزوں کا تناسب درست ہونے لگتا ہے۔ خطرات اپنے اصل حجم میں دکھائی دیتے ہیں، اور امید و ہدایت کی آواز دوبارہ سنائی دینے لگتی ہے۔
ایمانی سکون انسان کی اندرونی حواس کو درست کرتا ہے۔ یہی سکون زندگی کے کام کو درہم برہم کرنے کے بجائے اسے ترتیب دینا سکھاتا ہے۔
ملت کے لیے اشارہ:
ایک قوم بھی اگر خوف میں مبتلا ہو تو اس کی نگاہ حقیقت پسندانہ نہیں رہتی۔ وہ دشمن کو بڑھا کر اور اپنے امکانات کو گھٹا کر دیکھتی ہے۔ اسی طرح وہ زندگی کی خبریں، یعنی اپنے احیا، اپنی قوت اور اپنی تہذیبی ذمہ داری کی صدائیں بھی ٹھیک سے نہیں سن پاتی۔ اقبال امت کو اسی حسی بگاڑ سے بچانا چاہتے ہیں۔
پس یہ شعر فردی نفسیات کے ساتھ قومی بصیرت کی اصلاح بھی سکھاتا ہے: خوف کی عینک اتارو، تبھی حیات کی خبر درست سنائی دے گی۔
مثال
ایک پریشان آدمی کبھی ایک سادہ بات کو بھی طعنہ سمجھ لیتا ہے اور معمولی منظر کو بھی خطرہ۔ مسئلہ بات یا منظر میں کم، اس کے اندر کے خوف میں زیادہ ہوتا ہے۔ قوموں کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہی ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق خوف آنکھ اور کان دونوں کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھر زندگی کی حقیقت بھی مسخ ہو جاتی ہے اور اس کی بیدار کرنے والی خبر بھی صحیح طور پر نہیں پہنچتی۔ نجات توحیدی بصیرت اور باطنی سکون میں ہے۔

