آن شنیدستی که هنگام نبرد
آن شنیدستی که هنگام نبرد
عشق با عقل هوس پرور چه کرد
ترجمہ
کیا تم نے سنا ہے کہ جنگ کے وقت عشق نے اس عقل کے ساتھ کیا کیا جو خواہشات کو پالتی تھی؟
تشریح
یہ شعر ایک سوال کے قالب میں پورے کربلا نامے کا دروازہ کھولتا ہے۔ اقبال اب صرف نظری موازنہ نہیں کر رہے؛ وہ قاری کو ایک تاریخی میدان کی طرف لے جا رہے ہیں جہاں عشق اور عقلِ ہوس پرور آمنے سامنے ہوئے۔ یہاں عقل سے مراد وہ پاک رہنمائی دینے والی عقل نہیں بلکہ وہ عقل ہے جو ہوس، مصلحت، اقتدار اور نفس کی خدمت میں لگ چکی ہو۔ شعر کے مطابق:
هنگام نبرد:
نبرد سے مراد صرف تلواروں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ حق و باطل، آزادی و جبر، وفا و مصلحت، اور بندگیِ حق و بندگیِ غیر کا تصادم ہے۔ اقبال اس لفظ سے بتاتے ہیں کہ بعض سچائیاں صرف کتاب میں نہیں کھلتیں، میدان میں کھلتی ہیں۔ جب تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ آتا ہے تو عشق اور عقل دونوں اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
یوں نبرد امتحانِ نظریہ بھی ہے اور انکشافِ باطن بھی۔
عقلِ هوس پرور:
یہاں اقبال عقل کی ایک بگڑی ہوئی صورت کو نشان زد کرتے ہیں۔ جب عقل حق کے بجائے ہوس، اقتدار، منفعت اور خود غرضی کی خادمہ بن جائے تو وہ مکار، عذر ساز اور ظلم کی توجیہ کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔ یہی عقل یزیدیت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے: حساب رکھتی ہے، قوت جانتی ہے، مفاد پہچانتی ہے، مگر حق سے بے وفا رہتی ہے۔
اس لیے مسئلہ عقل بذاتِ خود نہیں، اس کی وابستگی ہے۔
عشق کا مقابلہ:
عشق یہاں محض جذبہ نہیں بلکہ حق کے لیے میدان میں اترنے والی قوت ہے۔ اقبال پوچھتے ہیں کہ تم نے سنا ہے عشق نے اس عقل کے ساتھ کیا کیا؟ یعنی تاریخ گواہ ہے کہ جب عشقِ حق کھڑا ہوتا ہے تو خواہش پرست عقل کی تمام تدبیریں، تمام حساب اور تمام مصلحتیں آخرکار رسوا ہو جاتی ہیں۔ کربلا اسی رسوائی اور اسی فتح کا نام ہے۔
یہ سوال دراصل قاری کو آئندہ جواب کے لیے روحانی طور پر تیار کرتا ہے۔
کربلا کی تمہید:
یہ شعر براہ راست امام حسین کی طرف لے جانے والی سیڑھی ہے۔ اقبال پہلے عشق کے اوصاف بتاتے ہیں، پھر ہوس پرور عقل کی حدیں دکھاتے ہیں، اور اب کہتے ہیں: آؤ، میدان میں دیکھو کہ ان دونوں کا انجام کیا ہوا۔ اس طرح کربلا ایک اخلاقی اور فکری فیصلہ بن جاتی ہے، صرف تاریخی سانحہ نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس سوال میں پورا خطبہ چھپا ہوا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سی خواہش پرست عقلیں موجود ہیں جو ظلم، مفاد، قوت اور مصلحت کے لیے بڑے خوب صورت دلائل تراشتی ہیں۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حق کا اصل امتحان دلیل سے زیادہ میدان میں ہوتا ہے۔ آخرکار یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کون سی وابستگی غالب ہے: ہوس یا عشق، مفاد یا وفا، جبر یا حریت۔
اسلامی خودی کے لیے لازم ہے کہ وہ عقل کو ہوس کی خادمہ نہ بننے دے بلکہ اسے عشقِ حق کے تابع رکھے۔
مثال
کئی بار اداروں یا سیاست میں غلط فیصلوں کو بہت ذہین، معقول اور حسابی دلائل سے درست ثابت کیا جاتا ہے، مگر جب اصولی انسان میدان میں کھڑا ہو جائے تو ان دلیلوں کی ساری بنیاد کھل جاتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال عشق اور ہوس پرور عقل کے تاریخی تصادم کا دروازہ کھولتے ہیں۔ کربلا اسی سوال کا جواب ہے کہ جب حق کا عشق میدان میں اترا تو خواہش زدہ عقل کا انجام کیا ہوا۔