آن خدای لم یزل را آیتی
آن خدای لم یزل را آیتی
داشت در دل آرزوی ملتی
ترجمہ
وہ خداے لازوال کی ایک نشانی تھا، اور اپنے دل میں ایک ملت کی آرزو رکھتا تھا۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کے ایک اور بلند پہلو کو سامنے لاتے ہیں: وہ صرف فردی عبادت گزار یا تنہا حق شناس نہ تھے، بلکہ خدا کی نشانی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ملت کی تمنا اپنے دل میں رکھتے تھے۔ اس طرح اقبال رسالت کو ابتدا ہی سے فرد اور جماعت، کشف اور تعمیر، توحید اور ملت کے ربط کے ساتھ سمجھاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
آیتِ خدا ہونے کا مطلب:
“آیت” نشانی کو کہتے ہیں۔ جب کسی شخصیت کو خدا کی آیت کہا جاتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی، اس کا کردار اور اس کا باطن اللہ کی قدرت، ہدایت اور مقصدیت کی گواہی بن جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسی ہی زندہ نشانی ہیں: ان کی ہجرت، ان کی قربانی، ان کی دعا، ان کی تعمیرِ کعبہ، سب کچھ خدا کے ساتھ ایک گہرے ربط کی علامت ہے۔
اقبال کی نظر میں رسالت کا حامل صرف الفاظ نہیں لاتا، وہ خود بھی نشانی بن جاتا ہے۔
آرزوی ملت کیوں اہم ہے:
اکثر روحانی تجربات فرد کے دائرے میں محدود ہو جاتے ہیں، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت یہ ہے کہ ان کے دل میں صرف اپنی نجات یا اپنی عبادت نہ تھی، بلکہ نسلوں کے لیے ایک توحیدی جماعت کی تمنا تھی۔ انہوں نے گھر بنایا، دعا کی، نسل مانگی، اور ایسا مرکز قائم کیا جس کے گرد ایک امت تشکیل پا سکے۔
یہی رسالت کی اجتماعی جہت ہے: حق کی معرفت دل میں اترے اور پھر ملت کی صورت میں تاریخ میں ڈھل جائے۔
فرد سے ملت تک کا سفر:
اقبال یہاں ایک نہایت اہم اصول بتاتے ہیں کہ بڑی دینی شخصیتیں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتیں۔ ان کا دل اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ وہ نسلوں، قوموں اور آئندہ تاریخ کے لیے جیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا توحیدی شعور اسی وجہ سے ملت آفرین بن گیا۔
گویا رسالت کی ابتدا ہی اس جگہ سے ہوتی ہے جہاں دل میں ایک ایسے اجتماعی وجود کی آرزو پیدا ہو جو خدا کے ساتھ وفادار ہو۔
ملت بطور روحانی تعمیر:
یہاں ملت صرف سیاسی گروہ یا نسلی اجتماع نہیں۔ اقبال کے نزدیک ملت ایک روحانی، اخلاقی اور تاریخی وحدت ہے جو ایک مرکز، ایک قبلہ، ایک پیغام اور ایک مقصد کے گرد بنتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں اسی ملت کا خواب تھا، اس لیے ان کی دعائیں اور ان کی تعمیرات دونوں اجتماعیت کی سمت رکھتی ہیں۔
یوں رکن دوم میں رسالت کو ابتدا ہی سے ملت کی تخلیقی قوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ہمارے لیے رہنمائی:
یہ شعر ہر اس دیندار شخص سے سوال کرتا ہے جو دین کو صرف شخصی نجات یا نجی سکون تک محدود کر دیتا ہے۔ کیا تمہارے دل میں ملت کی بھی کوئی آرزو ہے؟ کیا تم اپنے ایمان کو اتنا وسیع بناتے ہو کہ اس سے خاندان، معاشرہ اور امت کی تعمیر جڑے؟ اقبال چاہتے ہیں کہ مومن کا دل اپنی ذات سے بڑا ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی وسعت کی مثال ہیں: آیت بھی، ملت کے معمار بھی۔
مثال
ایک سچا استاد صرف اپنی کامیابی نہیں چاہتا، بلکہ ایسی نسل تیار کرنا چاہتا ہے جو اس کے بعد بھی علم اور اخلاق کی روشنی آگے بڑھائے۔ یہی فرد سے بڑھ کر جماعت کی آرزو ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کی زندہ نشانی تھے، اور ان کے دل میں ایک توحیدی ملت کی آرزو تھی۔ رسالت کی سچی روح فردی حق شناسی کو اجتماعی تعمیر میں بدل دیتی ہے۔
