رموز بے خودی

زندگی را یأس خواب آور بود

زندگی را یأس خواب آور بود

این دلیل سستی عنصر بود

ترجمہ

ناامیدی زندگی پر غنودگی طاری کر دیتی ہے، اور یہ خود زندگی کے جوہر کی کمزوری کی نشانی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ناامیدی کے ایک اور اثر کی نشاندہی کرتے ہیں: وہ انسان کو مردہ نہیں تو نیم مردہ ضرور بنا دیتی ہے۔ یأس زندگی پر نیند اور سستی طاری کرتی ہے، یہاں تک کہ انسان کے اندر کی بیداری، حرارت اور اقدام کی قوت کم ہونے لگتی ہے۔ شاعر اسے “سستیِ عنصر” کی دلیل کہتے ہیں، یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وجود کے بنیادی اجزا ہی کمزور پڑ گئے ہیں۔ شعر کے مطابق:

خواب آور یأس:

ناامیدی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ شور مچا کر نہیں آتی، کبھی وہ خاموش غفلت اور تھکن کی صورت میں بھی آتی ہے۔ انسان کام کو ٹالتا ہے، ذمہ داریوں سے بچتا ہے، بڑے فیصلوں سے گریز کرتا ہے، اور آہستہ آہستہ زندگی کی بیدار کیفیت کھو دیتا ہے۔ اقبال اسی غنودگی کو “خواب آور” کہتے ہیں۔

یہ نیند جسمانی نہیں، روحانی اور اخلاقی نیند ہے، جس میں انسان آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے بھی گہری غفلت میں ڈوبا رہتا ہے۔

بیداری اور زندگی کا تعلق:

اقبال کے نزدیک زندگی بیداری، شعور، حرکت اور آگے بڑھنے کا نام ہے۔ جہاں یہ عناصر کمزور ہوں، وہاں زندگی اپنی اصل شان سے دور ہو جاتی ہے۔ اسی لیے وہ یأس کو صرف ایک منفی احساس نہیں بلکہ حیات کے نظام پر حملہ سمجھتے ہیں۔ جو انسان بیدار ہے، وہ درد کو بھی محسوس کرتا ہے، مقصد کو بھی دیکھتا ہے، اور عمل کی ضرورت کو بھی سمجھتا ہے۔

مگر ناامیدی اسے یہ سب کچھ دھندلا دکھانے لگتی ہے، یہاں تک کہ وہ زندگی کو محض گزارنے کی چیز سمجھنے لگتا ہے۔

سستیِ عنصر کا مفہوم:

“عنصر” سے مراد وجود کے بنیادی اجزا یا باطنی مادہ لیا جا سکتا ہے۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ ناامیدی سطحی مرض نہیں، بلکہ وہ انسان کی جڑ تک پہنچنے والی بیماری ہے۔ اگر کسی دل میں حیات کی رمق باقی ہو تو وہ اندھیرے میں بھی روشنی تلاش کرتا ہے، مگر جب عنصر ہی سست ہو جائے تو طلب بھی مدھم پڑ جاتی ہے۔

اس لیے یأس کو محض ظاہری کمزوری نہ سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے باطن کے سنجیدہ مرض کے طور پر پہچاننا چاہیے۔

توحید بطور بیدار کنندہ:

اقبال کے پورے پیغام میں توحید نیند توڑنے والی صدا ہے۔ جب انسان اپنے رب کی حضوری، رحمت، قدرت اور مقصدِ حیات کو یاد کرتا ہے تو اس کے اندر نئی بیداری پیدا ہوتی ہے۔ وہ زندگی کو ایک امتحان، ایک امانت اور ایک موقع کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ یہی شعور اسے غفلت کے بوجھ سے نکالتا ہے۔

پس علاج صرف خارجی نظم نہیں، بلکہ داخلی بیداری ہے، اور یہ بیداری توحیدی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔

ملت کی غفلت پر اطلاق:

ایک ملت بھی یأس کی نیند میں جا سکتی ہے۔ جب قوم کے اندر یہ احساس بیٹھ جائے کہ اس کی کوشش بےکار ہے، اس کی تاریخ ختم ہو چکی ہے، یا اس کے لیے مستقبل میں کچھ بڑا ممکن نہیں، تو اس کے علمی، تہذیبی اور عملی مراکز سست پڑنے لگتے ہیں۔ اقبال اس اجتماعی غفلت کو بھی اسی شعر میں نشانہ بناتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ امت ناامیدی کی نیند سے جاگے، کیونکہ جاگتی ہوئی قوم ہی دوبارہ تخلیق، اجتہاد اور تعمیر کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

مثال

ایک مشین اگر چلتی رہے تو اس کے پرزے گرم اور متحرک رہتے ہیں، مگر اگر اسے زنگ آلود چھوڑ دیا جائے تو آہستہ آہستہ اس کی کارکردگی ختم ہونے لگتی ہے۔ ناامیدی بھی انسان کی زندگی پر ایسا ہی زنگ چڑھا دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک یأس زندگی پر نیند طاری کر دیتا ہے اور باطن کے عنصر کو سست کر دیتا ہے۔ اس کا علاج توحیدی بیداری، مقصد کی یاد اور امید کے ساتھ دوبارہ حرکت میں آنے میں ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button