رموز بے خودی

گر خدا داری ز غم آزاد شو

گر خدا داری ز غم آزاد شو

از خیال بیش و کم آزاد شو

ترجمہ

اگر تیرے پاس خدا ہے تو غم سے آزاد ہو جا، اور کمی بیشی کے خیال سے بھی آزاد ہو جا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کی عملی نفسیات کو نہایت مختصر مگر فیصلہ کن انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر بندہ واقعی خدا رکھتا ہے، یعنی اس کے ساتھ اس کا زندہ تعلق ہے، تو پھر اسے غم اور کمی بیشی کے حساب میں اس طرح قید نہیں رہنا چاہیے کہ اس کی زندگی مسموم ہو جائے۔ شعر کے مطابق:

“خدا داری” کا مطلب:

یہاں خدا رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ انسان صرف زبان سے خدا کو مانتا ہو، بلکہ یہ ہے کہ اس کا دل خدا کے ساتھ زندہ نسبت رکھتا ہو۔ وہ اس کی قدرت، رحمت، قربت اور تدبیر پر یقین رکھتا ہو۔ جب یہ نسبت حقیقی ہو تو انسان کے اندر ایک بنیادی اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ پھر دنیاوی اتار چڑھاؤ اسے اپنی اصل سے جدا نہیں کر پاتے۔

اقبال کا سوال خاموشی سے یہ بھی ہے کہ اگر بندے کے پاس خدا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو اتنا بےسہارا کیوں سمجھے کہ غم اسے مکمل طور پر گھیر لے؟

غم سے آزادی:

یہ آزادی غم کے واقع ہونے کی نفی نہیں، بلکہ اس کی غلامی سے نجات ہے۔ انسان دکھ محسوس کر سکتا ہے، رنج بھی ہو سکتا ہے، مگر وہ اس رنج کو اپنی روح کا مالک نہ بننے دے۔ جب انسان کے پاس خدا کا شعور ہو تو وہ جانتا ہے کہ آزمائش آخری فیصلہ نہیں، اور محرومی مطلق محرومی نہیں۔

اس لیے غم دل پر آتا ضرور ہے، مگر دل کو مکمل اپنے قبضے میں نہیں لے لیتا۔ یہی اقبالی آزادی ہے۔

بیش و کم کے خیال سے آزادی:

“بیش و کم” دنیاوی پیمانوں کی طرف اشارہ ہے: زیادہ یا کم مال، زیادہ یا کم مرتبہ، زیادہ یا کم قبولیت، زیادہ یا کم دنیاوی کامیابی۔ اقبال کے نزدیک انسان کا باطن ان حسابات میں اتنا گرفتار نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی خوشی، اس کا وقار اور اس کی امید انہی سے بندھ کر رہ جائے۔

توحید بندے کو یہ سکھاتی ہے کہ رزق، عزت اور مواقع سب اپنے رب کے نظام میں ہیں۔ اس لیے اس کا دل محض حساب و کتاب کے فرق میں اسیر نہیں رہتا۔

نفسیاتی تنگی سے نجات:

بیش و کم کے مسلسل خیال سے انسان کا ذہن تھک جاتا ہے۔ وہ ہر وقت اپنا موازنہ دوسروں سے کرتا ہے، کمی پر افسوس اور زیادتی پر غرور کرتا ہے۔ یہ کیفیت نہ شکر باقی رہنے دیتی ہے، نہ سکون، نہ اخلاص۔ اقبال چاہتے ہیں کہ بندہ خدا کے ساتھ جڑ کر اس نفسیاتی غلامی سے نکلے۔

جب دل خدا سے بھر جائے تو ہر وقت دوسروں کے پیمانوں میں اپنے آپ کو ناپنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔

فرد اور ملت دونوں کے لیے سبق:

فرد کی طرح امت بھی کبھی “بیش و کم” کے حساب میں گرفتار ہو جاتی ہے: کس کے پاس زیادہ طاقت ہے، کس کے پاس زیادہ دولت، کس کے پاس زیادہ غلبہ۔ اقبال ملت کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر اس کی بنیاد خدا پر ہے تو اسے محض دنیاوی کمی بیشی سے اپنی قدر نہیں ناپنی چاہیے۔ یہی شعور اسے خود کم بینی اور احساسِ شکست سے بچاتا ہے۔

پس یہ شعر توحید کو نفسیاتی وقار اور اجتماعی خود داری کی بنیاد بنا دیتا ہے۔

مثال

ایک بچہ اگر اپنے باپ کی محبت پر مطمئن ہو تو دوسروں کے کھلونوں اور کپڑوں سے اس کا دل اتنا نہیں ٹوٹتا۔ اسی طرح انسان اگر اپنے رب کے ساتھ زندہ تعلق رکھے تو دنیاوی کمی بیشی اس پر وہی اثر نہیں ڈالتی جو بےسہارگی کی حالت میں ڈالتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جس کے پاس خدا کا شعور ہو، اسے غم اور دنیاوی کمی بیشی کی غلامی سے آزاد ہو جانا چاہیے۔ توحید دل کو ایسا وقار دیتی ہے کہ انسان اپنے باطن کو محض دنیا کے پیمانوں کے حوالے نہیں کرتا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button