تا امینی حق بحقداران سپرد
تا امینی حق بحقداران سپرد
بندگان را مسند خاقان سپرد
ترجمہ
یہاں تک کہ ایک امین آیا جس نے حق کو حق داروں تک پہنچایا، اور بندوں کو خاقانوں کی مسند پر بٹھا دیا۔
تشریح
علامہ اقبال اب اندھیرے سے روشنی کی طرف رخ بدلتے ہیں۔ “امین” سے مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنہیں امانت، صدق اور حق رسانی کا کامل نمونہ قرار دیا گیا۔ ان کی رسالت کا ایک بڑا اثر یہ تھا کہ حقوق دوبارہ ان لوگوں تک پہنچے جن سے چھین لیے گئے تھے، اور غلام انسان کو عزت، ذمہ داری اور قیادت کا مقام ملا۔ شعر کے مطابق:
امین کیوں کہا:
امین صرف سچا نہیں ہوتا، وہ امانت کو صحیح جگہ پہنچانے والا بھی ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ لفظ نہایت موزوں ہے، کیونکہ انہوں نے وحی، عدل، شریعت اور انسانی وقار کی امانت کو کسی طبقے یا طاقت ور کے قبضے میں نہیں رہنے دیا، بلکہ حق داروں تک پہنچایا۔
اقبال کے نزدیک محمدی رسالت کا اصل کمال یہی امانت داری ہے: حق کو اس کے اصل مقام تک پہنچانا۔
حق بحقداران سپرد:
یہ مصرع عدل کا مغز ہے۔ حق صرف نظری تصور نہیں؛ اسے اپنے اصل مستحق تک پہنچنا چاہیے۔ جب طاقت ور حق کو دبا لیں، تو عدل مر جاتا ہے۔ نبوی انقلاب نے یہی کیا کہ حق کو محض فلسفے سے نکال کر مظلوم، کمزور، غلام اور محروم انسان کی زندگی تک پہنچایا۔
یوں عدل کوئی درباری لفظ نہ رہا بلکہ زندہ حقیقت بن گیا۔
بندوں کو مسندِ خاقان:
یہاں اقبال ایک زبردست الٹاؤ دکھاتے ہیں۔ جو لوگ غلام اور زیر دست تھے، وہی عزت، اعتماد اور ذمہ داری کے مقام تک اٹھائے گئے۔ “مسند خاقان” صرف تخت نہیں، وقار اور اختیار کی علامت بھی ہے۔ نبوی مساوات کا مطلب یہی ہے کہ انسان کو اس کی اصل کرامت واپس ملے اور اسے ہمیشہ کے لیے زیر پا شے نہ سمجھا جائے۔
رسالت نے غلامی کے مزاج کو بدل کر انسان کو ذمہ دار خودی عطا کی۔
حریت، مساوات، اخوت کی بنیاد:
یہ شعر بخش ۱۰ کے عنوان کو عملی صورت دیتا ہے۔ حریت یہ کہ بندہ بندوں سے آزاد ہو، مساوات یہ کہ حق اصل حق داروں کو ملے، اور اخوت یہ کہ قیادت نسبی استحقاق نہیں بلکہ اخلاقی اور ایمانی صلاحیت سے جڑے۔ اقبال کے نزدیک محمدی رسالت نے انہی تینوں اصولوں کو انسانی تاریخ میں زندہ کیا۔
گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ظلم کی نفی نہیں کی، ایک نئی انسانی ترتیب بھی قائم کی۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج بھی بہت سے معاشروں میں حق اصل حق داروں تک نہیں پہنچتا، اور عزت و اختیار چند ہاتھوں میں قید رہتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر رسالت کی امانت داری کو زندہ کرنا ہے تو ہمیں بھی یہی دیکھنا ہوگا: کیا حق صحیح جگہ پہنچ رہا ہے؟ کیا پست طبقہ عزت پا رہا ہے؟ کیا غلام ذہنیت کے حامل انسان پھر باوقار بن رہے ہیں؟
نبوی امانت کا تقاضا یہی ہے کہ انصاف نیچے تک اترے۔
مثال
ایک ایسا منتظم جو سفارش یا طبقاتی تعلق کے بجائے واقعی اہل اور مظلوم شخص کو اس کا حق دے، اور کمزور آدمی کو بھی قیادت کا موقع دے، وہ اسی اصول کی چھوٹی تصویر پیش کرتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کو حق داروں تک پہنچایا اور غلام انسان کو عزت و قیادت کا مقام دیا۔ یہی محمدی عدل، حریت اور مساوات کا تاریخی جوہر ہے۔
