در کلیسا اسقف رضوان فروش
در کلیسا اسقف رضوان فروش
بهر این صید زبون دامی بدوش
ترجمہ
کلیسا میں اسقف جنت بیچنے والا بن بیٹھا تھا، اور اس بے بس شکار کے لیے ایک اور جال بغل میں دبائے پھر رہا تھا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں مذہبی استحصال کی ایک نہایت تلخ تصویر دکھاتے ہیں۔ جب دین انسان کو خدا کے قریب لے جانے کے بجائے بازار بن جائے، اور روحانی اقتدار انسان کے خوف و امید دونوں کو خرید و فروخت کا سامان بنا لے، تو مذہب آزادی کے بجائے جال بن جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
رضوان فروش کی تعبیر:
“رضوان” جنت کی رضا اور خوشنودی کی علامت ہے۔ “رضوان فروش” کہنا اس مذہبی طبقے پر سخت تنقید ہے جو گویا نجات اور جنت کو اپنے اختیار میں سمجھ کر بیچنے لگے۔ اقبال کے نزدیک یہ دین کی روح کے خلاف ہے، کیونکہ اصل ہدایت انسان کو خدا کے سامنے آزاد بندگی سکھاتی ہے، نہ کہ کسی درمیانی طبقے کی خرید و فروخت کا محتاج بناتی ہے۔
جب مغفرت بازار بن جائے تو روحانیت بھی استحصال کا آلہ بن جاتی ہے۔
بے بس انسان بطور صید:
یہاں عام انسان کو “صید” کہا گیا ہے، یعنی شکار۔ یہ بہت دردناک تعبیر ہے۔ وہ شخص جو پہلے ہی دنیاوی ظلم، طبقاتی جبر اور سلطنتی ہیبت سے زخمی ہے، اب مذہب کے نام پر بھی شکار بنایا جا رہا ہے۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ ظلم کا یہ جال صرف جسم پر نہیں، روح پر بھی ڈالا جا رہا تھا۔
اسی لیے محمدی رسالت کا انقلاب دلوں کی نجات کے ساتھ روحانی اقتدار کے ظلم کو بھی توڑتا ہے۔
دامی بدوش:
جال کندھے یا بغل میں رکھے پھِرنا اس بات کی علامت ہے کہ استحصال وقتی نہیں بلکہ پیشہ بن چکا تھا۔ اسقف صرف عبادت گاہ میں بیٹھا نہ تھا، بلکہ انسانوں کو پھنسانے کا پورا انتظام لیے کھڑا تھا۔ اقبال اس تصویر سے یہ بتاتے ہیں کہ جب مذہبی ادارہ خود شکار گاہ بن جائے تو کمزور انسان کے پاس پناہ کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی۔
یہاں ظلم کا سب سے خطرناک روپ سامنے آتا ہے: شفا کی جگہ سے زخم ملنا۔
محمدی رسالت کا جواب:
رسالتِ محمدیہ نے خدا اور بندے کے درمیان ایسے واسطوں کی خدائی توڑی۔ اس نے یہ اصول دیا کہ نجات خریدی نہیں جاتی، بندگی بیچی نہیں جاتی، اور دین تجارتِ خوف و امید نہیں بن سکتا۔ یہی حریت کا روحانی پہلو ہے: انسان خدا کے سامنے براہِ راست کھڑا ہو، نہ کہ کسی رضوان فروش طبقے کا غلام بنے۔
اس توحیدی آزادی سے مساوات بھی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ پھر کوئی طبقہ جنت کا مالک نہیں رہتا۔
آج کا سبق:
یہ شعر صرف ایک تاریخی کلیسا پر تنقید نہیں۔ آج بھی جہاں دین کو بازار بنا دیا جائے، خوف اور امید کو بیچا جائے، اور عام انسان کو مذہبی ناموں سے پھنسا کر اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے، وہاں یہی “رضوان فروشی” زندہ ہو جاتی ہے۔
اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچا دین جال نہیں، نجات ہے؛ سودا نہیں، بندگی ہے؛ ڈر کی تجارت نہیں، حق کی آزادی ہے۔
مثال
اگر کوئی مذہبی شخصیت عام لوگوں کے خوف، گناہ یا نجات کی خواہش کو استعمال کر کے ان سے مال، اقتدار یا اندھی اطاعت حاصل کرے، تو یہ جدید “رضوان فروشی” ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مذہبی استحصال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نجات اور جنت کو بیچنے کا دعویٰ کیا جائے اور کمزور انسان کو روحانی جال میں پھنسایا جائے۔ محمدی رسالت اسی بازار کو توڑ کر بندے کو خدا کے سامنے آزاد کرتی ہے۔