رموز بے خودی

آن که شان اوست «یهدی من یرید»

آن که شان اوست «یهدی من یرید»

از رسالت حلقه گرد ما کشید

ترجمہ

وہ ذات جس کی شان ہے کہ جسے چاہے ہدایت دے، اسی نے رسالت کے ذریعے ہمارے گرد وحدت کا حلقہ کھینچ دیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امت کی وحدت کو محض انسانی تدبیر یا تاریخی حادثہ قرار نہیں دیتے، بلکہ اسے خدا کی ہدایت اور رسالت کے عطیے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، اور اسی ہدایت کے فیضان سے رسالت امت کو ایک حلقے میں جمع کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

ہدایت کا منبع:

اقبال نے قرآنی تعبیر “یهدی من یرید” کے ذریعے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اصل ہدایت اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ انسان سوچ سکتا ہے، تلاش کر سکتا ہے، سوال اٹھا سکتا ہے، مگر دل تک پہنچنے والی روشنی اور راہ کی توفیق آخرکار خدا ہی عطا کرتا ہے۔ رسالت اسی ہدایت کا سب سے بڑا تاریخی اور عملی مظہر ہے۔

یوں نبوت اور رسالت خدا کی رحمت و ہدایت کا جاری ہونا ہیں، نہ کہ انسانی ذہن کی خود ساختہ ایجاد۔

حلقہ کیوں کھینچا گیا:

حلقہ بندش بھی رکھتا ہے، حفاظت بھی، مرکزیت بھی، اور اجتماع بھی۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ رسالت نے ہمارے گرد حلقہ کھینچ دیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے ہمیں منتشر رہنے کے بجائے ایک محفوظ، مربوط اور با مقصد دائرے میں جمع کیا۔ یہ حلقہ امت کو پہچان بھی دیتا ہے اور حدود بھی۔

گویا رسالت نے ہماری وحدت کو صرف جذباتی نہیں بلکہ باقاعدہ ساخت دی۔

ہدایت اور اجتماع کا ربط:

اکثر لوگ ہدایت کو صرف فرد کا معاملہ سمجھتے ہیں، مگر اقبال یہاں دکھاتے ہیں کہ جب ہدایت اجتماعی صورت اختیار کرتی ہے تو امت بنتی ہے۔ رسالت دلوں کو الگ الگ روشن کر کے چھوڑ نہیں دیتی، بلکہ انہیں ایک مرکز کے گرد اکٹھا بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی پیغام سے عبادت بھی پیدا ہوتی ہے، اخلاق بھی، اور ملت بھی۔

اس طرح ہدایت اور اجتماع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے حقائق ہیں۔

حفاظتی دائرہ:

حلقہ ایک حفاظتی علامت بھی ہے۔ جب امت نبوی رسالت کے دائرے میں رہتی ہے تو وہ فکری بکھراؤ، اخلاقی انتشار اور تہذیبی گمراہی سے نسبتا محفوظ رہتی ہے۔ لیکن اگر وہ اس حلقے سے باہر نکلنے لگے تو اس کی وحدت کمزور ہو جاتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ رسالت سے وابستگی امت کی بقا کے لیے بنیادی شرط ہے۔

رسالت صرف دعوت نہیں، حصار بھی ہے۔

آج کے لیے پیغام:

آج امت کو مختلف نظریات، قومیتوں، مفادات اور فکری دباؤ نے الگ الگ دائروں میں کھینچ رکھا ہے۔ اقبال اس شعر میں ہمیں اصل دائرہ یاد دلاتے ہیں: وہ حلقہ جو خدا کی ہدایت نے رسالت کے ذریعے قائم کیا۔ اگر ہم اسی دائرے میں اپنی شناخت، اپنے اخلاق اور اپنے اجتماعی شعور کو دوبارہ ترتیب دیں تو وحدت پھر سے معنی خیز ہو سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ حلقے بہت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نبوی حلقے کو مرکزی حیثیت دینا چھوڑ دیں۔

مثال

ایک اچھی جماعت کے افراد مختلف مزاج رکھتے ہیں، مگر ایک درست اصول اور واضح نصب العین انہیں ایک ہی دائرے میں رکھتا ہے۔ جب یہ مرکز ٹوٹ جائے تو ٹیم بھی بکھرنے لگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت کی وحدت خدا کی ہدایت کا عطیہ ہے، اور رسالت وہ دائرہ ہے جس نے ہمیں جمع، محفوظ اور مربوط کیا۔ نبوی مرکز سے جڑنا ہی اس حلقے کو زندہ رکھتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button