حسين احمد

(Armaghan-e-Hijaz-42)

Hussain Ahmad

(حسین احمد)

عجم ہنوز نداند رموز ديں، ورنہ
ز ديوبند حسين احمد! ايں چہ بوالعجبي است
سرود بر سر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربي است
بمصطفي برساں خويش را کہ ديں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسيدي ، تمام بولہبي است

Translitation

Ajam Hanooz Nadand Rumooz-E-Deen, Warna
Za Deoband Husain Ahmad! Aen Che Bu-ul-Ajabi Ast

The Ajamites do not yet know, The fine points of our faith;
Otherwise Husain Ahmad of Deoband! What is this foolhardiness?

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عجمی لوگ ابھی تک دین اسلام کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوئے ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ دیوبند کے حسین احمد مسلمانوں کو ایسی تلقین کرتے جو سراسر اسلام کی روح کے خلاف ہے.

Saroad Bar Sar-E-Minbar Ke Millat Az Watan Ast
Che Bekhabar Za-Maqam-E-Muhammad (S.A.W.) Arabi Ast

A sermon-song from the pulpit that a nation by a homeland be!
From the real position of the Arabian Prophet (PBUH), How sadly unaware is he!

 
یعنی جو شخص مسلمان ہو کر یہ کہتا ہے کہ ملت اسلامیہ کی بنیاد وطن ہے یا مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت بنا سکتے ہیں یا کافر اور مسلم دونوں مل کر ایک قوم بن سکتے ہیں وہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے بلا شبہ بےخبر ہے.

BaMustafa (S.A.W.) Barsaan Khowesh Ra Ke Deen Hama Ost
Agar Bah O Ner Sayyadi, Tamam Bu-Lahabi Ast

Your self merge with Mustafa (PBUH) for all faith embodies in Him!
If you do not reach up to Him It is all Bu Lahab’s idolatry!

اے مسلمان! تو وطنیت کا جدید نظریہ اختیار مت کر جس کی رو سے قومیت کی بنیاد وطن ہے، بلکہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم کو حزر جاں بنا اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں ہے بلکہ کلمہ توحید ہے یعنی ساری دنیا کے مسلمان ملت واحدہ  ہیں اور اس لئے وہ کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت نہیں بنا سکتے.
اے مسلمان! اگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ نہ کر سکا یا ان کی روح سے آگاہ نہ ہو سکا تو پھر تیرا علم و فضل سب بیکار ہے بلکہ وہ تیری گمراہی کا باعث ہو جائے گا.

***

نظم کا پس منظر:
مولانا حسین احمد مدنی نے ٩ جنوری ١٩٣٨ کو دہلی میں ایک تقریر کی تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں اس لئے مسلمانوں کو لازم ہے کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد دین اسلام نہیں ہے بلکہ وطن ہے. جب مولانا کی یہ تقریر حضرت علامہ اقبال کی نظر سے گزری تو انہیں سخت ملال ہوا کہ مولانا نے عالم دین ہو کر یہ خلاف اسلام تعلیم کس طرح مسلمانوں کے سامنے پیش کی اور کس طرح انہیں اس کے قبول کرنے کا مشوره دیا؟ کیونکہ قرآن، حدیث اور فقہ تینوں کی رو سے مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے نہ کہ وطن.
نظم کا لہجہ قدرے درشت ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا کے اس ارشاد سے اقبال کو بہت شدید روحانی کوفت اور ذہنی اذیت پہنچی تھی.

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے