فرد تنہا از مقاصد غافل است
فرد تنہا از مقاصد غافل است
قوتش آشفتگی را مائل است
ترجمہ
تنہا فرد اپنے مقاصد سے غافل رہتا ہے، اور اس کی قوتیں انتشار کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں تنہائی کے نقصان اور اجتماعیت کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اکیلا فرد نہ اپنے مقصد کو پہچان پاتا ہے اور نہ اپنی قوتوں کو یکجا رکھ سکتا ہے۔ شعر کے مطابق:
مقاصد سے غفلت:
اکیلا فرد اپنی منزل اور مقصد سے بے خبر رہتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی بڑا اور واضح ہدف نہیں ہوتا جو اسے سمت اور حرکت عطا کرے۔
مقصد کے بغیر اس کی زندگی بے سمت ہو جاتی ہے، اور وہ اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت کام میں لگانے کے بجائے یونہی ضائع کرتا رہتا ہے۔
قوتوں کا انتشار:
بے مقصد ہونے کے باعث اس کی صلاحیتیں اور قوتیں بکھر جاتی ہیں اور آشفتگی و انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔
جو توانائی کسی بڑے کام میں صرف ہو سکتی تھی، وہ بے ترتیبی اور بے سمتی میں ضائع ہو جاتی ہے، اور فرد اپنی قوت سے پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔
اجتماعیت کی ضرورت:
ملت فرد کو مقصد اور نظم عطا کرتی ہے، جس سے اس کی قوتیں ایک رخ پر مجتمع ہو کر بامعنی اور مؤثر بن جاتی ہیں۔ اجتماع اسے سمت اور حوصلہ دونوں دیتا ہے۔
تنہائی کا نقصان:
اقبال متنبہ کرتے ہیں کہ تنہائی فرد کو کمزور اور منتشر بنا دیتی ہے، جبکہ اجتماعیت اسے یکسو اور طاقتور کرتی ہے۔
مثال
جیسے بکھری ہوئی روشنی کی کرنیں کمزور ہوتی ہیں مگر عدسے سے مجتمع ہو کر آگ پیدا کر دیتی ہیں، ویسے ہی فرد کی قوتیں ملت کے نظم میں مجتمع ہو کر مؤثر اور نتیجہ خیز بنتی ہیں۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ تنہا فرد بے مقصد اور منتشر رہتا ہے، جبکہ ملت اسے مقصد، نظم اور یکسوئی عطا کر کے اس کی قوتوں کو مؤثر بنا دیتی ہے۔

