جوہر نوریست اندر خاک تو
جوہر نوریست اندر خاک تو
یک شعاعش جلوۂ ادراک تو
ترجمہ
تیری مٹی (وجود) میں ایک نورانی جوہر پوشیدہ ہے، اور اسی کی ایک شعاع تیرے فہم و ادراک کا جلوہ ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں انسان کے خاکی وجود میں پوشیدہ خودی کے نور کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی اصل عظمت اسی نورانی جوہر میں ہے جو اسے باقی مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:
خاک میں نور کا جوہر:
انسان کے خاکی وجود میں ایک نورانی جوہر، یعنی خودی، پوشیدہ ہے۔ یہی جوہر اسے مٹی سے بنے ہونے کے باوجود ایک بلند مقام عطا کرتا ہے۔
یہ نور اس کے اندر ودیعت کی گئی وہ الٰہی امانت ہے جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز اور اشرف بناتی ہے۔
ادراک کی شعاع:
اس نور کی ایک کرن ہی انسان کا فہم، شعور اور ادراک ہے، جس سے وہ دنیا کو سمجھتا، پرکھتا اور اس میں تصرف کرتا ہے۔
یعنی انسان کی عقل و دانش، اس کی سوچ اور اس کا شعور اسی اندرونی نور کی محض ایک جھلک ہے، جبکہ اس کا اصل جوہر اس سے کہیں عظیم ہے۔
خودی کی قدر:
یہ جوہر انسان کی اصل قوت اور اس کی عظمت کا راز ہے، جسے پہچاننا اور نکھارنا ہر فرد کا فرض ہے۔ اسی کی پہچان سے انسان اپنی حقیقی صلاحیتوں سے آگاہ ہوتا ہے۔
نور کو نکھارنے کی دعوت:
اقبال انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر کے اس نور کو پہچانے اور اسے عمل اور یقین سے روشن کرے، تاکہ اس کی عظمت پوری طرح ظاہر ہو۔
مثال
جیسے کوئلے کی سیاہ کان میں ہیرا چھپا ہوتا ہے اور اس کی معمولی سی چمک بھی اس کی اصل قدر و قیمت بتا دیتی ہے، ویسے ہی انسان کے خاکی وجود میں خودی کا نور اس کی حقیقی عظمت کی علامت ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ انسان کے خاکی وجود میں خودی کا نورانی جوہر پوشیدہ ہے، اور اسی کی ایک کرن اس کا شعور و ادراک ہے، جسے پہچاننا انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔